Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions فطرت اور سیدنا ابراہیمؑ کے خوابِ ذبح سے متعلق ایک اشکال

  • فطرت اور سیدنا ابراہیمؑ کے خوابِ ذبح سے متعلق ایک اشکال

    Posted by Faraz Anjum on May 27, 2026 at 10:17 pm

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    میرا ایک اشکال سیدنا ابراہیمؑ کے واقعے سے متعلق ہے۔ عمومی طور پر یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، اور دین کا کوئی حکم فطرتِ انسانی کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ میں نے جاوید احمد غامدی صاحب کو بھی یہ کہتے سنا کہ اگر کسی دینی معاملے میں شک یا وسوسہ ہو تو یہ اصول ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اللہ کا کوئی حکم خلافِ فطرت نہیں ہوتا۔
    اسی تناظر میں میرا سوال یہ ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے والے خواب/حکم کو حکمِ الٰہی کیسے سمجھ لیا، جبکہ بظاہر یہ ایک انتہائی خلافِ فطرت بات محسوس ہوتی ہے؟میں یہ جانتا ہوں کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیلؑ کا ذبح مقصود نہیں رکھا تھا، بلکہ یہ ایک آزمائش تھی، اور سیدنا ابراہیمؑ نے بلا تاویل اس حکم کو مان لیا۔ لیکن میرا اصل سوال اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں نہیں، بلکہ سیدنا ابراہیمؑ کے زاویۂ نظر سے ہے:
    ایک ایسا حکم جو انسانی فطرت کے خلاف محسوس ہو، سیدنا ابراہیمؑ نے اسے یقین کے ساتھ حکمِ خداوندی کیسے مان لیا؟

    Muhammad Jamil replied 2 days, 17 hours ago 4 Members · 12 Replies
  • 12 Replies
  • فطرت اور سیدنا ابراہیمؑ کے خوابِ ذبح سے متعلق ایک اشکال

    Muhammad Jamil updated 2 days, 17 hours ago 4 Members · 12 Replies
  • Muhammad Jamil

    Member May 27, 2026 at 11:40 pm

    Assalm o Alaikum! Sir meri naqs rae me ye intehai wo fitri jazba tha at’at ka jo maqsood e Khuda tha. Asal chez ye thi k kya koi is had tk hukam e elahi ko man kar khuda ka qurb o raza hasil kr skta ha? is kam k liye Hazrat Ibrahim AS ka intkhab kar k Khuda ne anay walay sb insano ko is azmaish se bacha lia. Apkay Question me pehle “fitrat” do bhi define krna zaruri ha. Khuda k hukm ki baja awri fitrati amal ha. Insaniat ka qatl ek ger fitri amal ha lekin qatil ka qatal, ain fitrat ha. Usool me ” فطرت کا تقاضا محض “بچانا” نہیں بلکہ “درست کرنا” ہےقرآن فرماتا ہے:

    “لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ” (آل عمران: 92)

    تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو

    Fitrat se murad wohi “jazbati tahafuzzat” nhi hain jo hmari habits ya routine matters hain balkay ye fitrat ki jibilli category ha. Fitrat ki sab se Aala category, Khuda k hukam ki baja awri ha jiska shaoor Hazrat Ibrahim AS ko tha aur osi shaoori aur fitrati taqaza e atta’at e khudawandi ke teht onho ne surrender kia q k insan apnay khaliq k hukam k agay surrender krne k liye paida kia gea ha aur fitratan yahi “superior submission” ha. Wallah o Alam

  • Faraz Anjum

    Member May 27, 2026 at 11:52 pm

    یہ صحیح ہے کہ خدا کا حکم بجا لانا عینِ فطرت ہے۔ لیکن میرا سوال اس سے پچھلی اسٹیج کو ایڈریس کرتا ہے۔ یعنی کسی چیز کو خدا کا حکم سمجھنا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ سیدنا ابراہیمؑ اسے شیطانی وسوسہ سمجھ کر رد کر دیتے۔
    جیسے آج اگر کوئی ہمارے نیکی کے جذبات کو ابھار کر ہم سے کوئی غلط کام کروانا چاہے تو فطرت کی گواہی ہماری مدد کرتی ہے کہ یہ کام خدا کا حکم نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی یہ کہے کہ دشمن بھارت کے عام شہریوں کو “آپریشن سندور” کے بدلے میں مارنا ایک نیک عمل ہے، تو فطرت فوراً گواہی دے دیتی ہے کہ عام شہری کو قتل کرنا غیر فطری عمل ہے، اس لیے یہ خدا کا حکم ہرگز نہیں ہو سکتا۔

  • Muhammad Jamil

    Member May 28, 2026 at 12:18 am

    Agr ek dfa khwab aea hota ye to shyed “shaitani waswasay” wali baat theek hoti lekin Syedena Hazrat Ibrahim AS ko din bar ek e khwab aea aur Anbia k khwab wahi ki ek soorat b ha. Apka bunyadi nuqta “Khilaf e Fitrat” wala I think is question me nhi ha yeni shaitani waswasa ho b skta nhi b ab probability pe bat thi lekin khuda ne jab is baat ki khud tasdeeq kar di k onka khwab sacha tha aur jo onho ne dekha osay sach kar dekhea to ye “askhal” b ab resolve hogea k koi shaitani waswasa nhi tha yeni Hazrat Ibrahim AS ne isko hukam o raza e khudawandi smjh kar ye kam kia. Ab aag wala matter le lejiye waha par aag me khud ko dalwana “fitrati tha” ya “khilaf e fitrat” to waha par bhi usool atta’t hukam e Elahi tha jo k khud fitrati taqaza ha mre nazdeek k osko accept kia jae.

  • Faraz Anjum

    Member May 28, 2026 at 12:39 am

    ۔ اگر بار بار خواب آنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ شیطانی وسوسہ نہیں تھا، تو پھر اس واقعے کے بارے میں کیا کہا جائے گا جہاں شیطان نے سیدنا آدمؑ کو قسمیں کھا کھا کر ایک غلط عمل کو اچھا بنا کر پیش کیا؟ وہاں بھی بظاہر بڑی تاکید اور اصرار موجود تھا۔ تو صرف تکرار یا شدتِ احساس کو وحیِ الٰہی اور شیطانی القا کے درمیان فیصلہ کن معیار کیسے مانا جائے؟

    ۔ مزید یہ کہ سیدنا ابراہیمؑ نے خود آگ میں ڈالے جانے کے لیے رضاکارانہ طور پر اقدام نہیں کیا تھا، بلکہ لوگوں نے انہیں سزا کے طور پر آگ میں ڈالا۔ اصل اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے بت پرستی کے غیر فطری تصور کو خدا کا حکم ماننے سے انکار کیا۔ اس انکار کی بنیاد بھی وحی کا کوئی ظاہری حکم نہیں، بلکہ فطرت اور عقل کی گواہی تھی۔ انہوں نے بتوں کی عبادت کو رد کرنے کے لیے عقلی دلائل دیے، نہ کہ صرف یہ کہا کہ “مجھے خدا نے منع کیا ہے”۔
    اسی لیے میرا اشکال یہ ہے کہ خدا کے حکم کو پہچاننے میں فطرت پہلی رہنما معلوم ہوتی ہے۔ جب فطرت کسی چیز کو واضح طور پر غیر فطری قرار دے رہی ہو، تو پھر سیدنا ابراہیمؑ نے ذبحِ فرزند والے معاملے میں اسے بلا تردد حکمِ خداوندی کیسے سمجھ لیا؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 28, 2026 at 2:02 am

    خدا پہلے ہی بندوں کو مارنے کا عمل کر رہا ہے۔ زندگی اور موت کا اختیار اس کے پاس ہے۔ اسی کے حکم پر ہم جانور زبح کر رہے ہیں اور یہ بھی فطری نہیں ہے۔

    نبی جانتے تھے کہ خدا کو یہ اختیار ہے چنانچہ جب اس نے حکم دیا تو نبی نے اس کی تعمیل میں کوئی تاویل کرنے کی بجائے اس پر من و عن عمل کیا۔

    آپ کا اشکال شریعت سے متعلق بنتا ہے۔ وہاں غیر فطری حکم کا پابند نہیں کیا جاتا۔ موسی اور بندہ خدا کے قصے میں کو سورج کہف میں آیا ہے خدا کے تکوینی حکم اور خدا کی شریعت کا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ۔ بندہ خدا بچے کو خدا کے حکم پر قتل کر دیتا ہے اور موسی اسے خلاف فطرت اور خلاف شریعت جان کر اعتراض کرتے ہیں۔

    • Muhammad Jamil

      Member June 6, 2026 at 11:00 am

      Actually jese k ma ne pehle kaha k lafz “fitrat” ko smjhna chahiye. Janwar ko zibha hm fitrat k jibili aspects se krte hain yeni ye ain fitrat e ha. Hukam e Khudawandi ki baja awri bhi fitrati amal ha is liye Ibrahim AS ka khwab me betay ko zibha krna ye hukam e khudawandi e smjha jisko khuda ne endorse kia ha k onho ne khwab sach kr dikhaea to dono askhal resolved hain yeni k ye ek fitrati amal tha aur dosra ye k ye shetan ki trf se nhi tha q k endorsment Quran me Khuda ne khud kr di ha. Adam AS ka waqea na khwab da na e esa koi gair fitrati amal. Khuda ne insan me Fajoor aur Taqwa dono Ilham frmae hain lehaza khuda k hukam ki khilaf wrzi bhi osi qanoon e fitrat k mutabiq e ha jo irada o ikhtear ki sorat dia gea.

  • Faraz Anjum

    Member May 28, 2026 at 2:11 am

    آپ خدا کے نقطۂ نظر سے بات سمجھا رہے ہیں، جبکہ میں سیدنا ابراہیمؑ کے مقام پر کھڑے ہو کر یہ جاننا چاہتا ہوں۔ اگر یہ واضح ہو جائے کہ واقعی یہ خدا کا حکم ہے تو پھر سرِ تسلیم خم۔ اصل سوال تو یہی ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ خدا کا حکم ہے؟

  • Faraz Anjum

    Member May 29, 2026 at 6:04 am

    سیدنا موسیٰؑ کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ جس شخص سے اُن کی ملاقات ہوئی وہ خدا کی طرف سے ہے۔ یہاں ایسی کوئی ہنٹ موجود نہیں ہے۔

  • Ahsan

    Moderator May 31, 2026 at 2:56 am

    Its difficult to say as Quran is silent about it.

    Best we can do inconclusive conjucture.

    The messages from God started with true dreams for prophet Mohammad saw.

    https://sunnah.com/bukhari:3

    assuming biblical narrative to be true, God was in communication with him before this incident. So based on his previous experience he may knew that it was dream from God.

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 2, 2026 at 5:55 am

    نبی کو جب وحی ملتی ہے یا وہ سچا خواب دیکھتا ہے تو یہ یقین اسے خدا کی طرف ہی سے حاصل ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔

    موسی علیہ السلام کو اچانک وحی ملی تھی مگر انھیں یہ گمان نہیں ہوا کہ خدا کے علاؤہ کوئی ان سے مخاطب ہے۔

    یہاں غار حرا میں پہلی وحی کا قصہ شاید اشکال پیدا کرے۔ درست بات یہ ہے کہ غار حرا کا قصہ ثابت نہیں۔ قرآن مجید کی سورہ نجم میں پہلی وحی کا ذکر ہے اور رسول اللہ کو بھی کوئی گمان نہیں ہوا تھا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ وہ پورے اطمینان سے اسے وصول کر رہے تھے۔

  • Faraz Anjum

    Member June 2, 2026 at 10:50 pm

    “نبی اکرم ﷺ اور سیدنا موسیٰؑ کے حوالے سے بات کسی حد تک سمجھ آتی ہے، کیونکہ وہاں معاملہ براہِ راست مشاہدے اور سماعت کا تھا۔ نبی ﷺ نے جبرائیلؑ کو دیکھا اور سیدنا موسیٰؑ نے براہِ راست کلام سنا، اس لیے اس تجربے کے ماخذ کے بارے میں یقین کی بات قابلِ فہم ہے۔ لیکن خواب کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ خواب اس نوعیت کا براہِ راست تجربہ نہیں ہوتا۔

    مزید یہ کہ ان دونوں مواقع پر کوئی ایسی بات نہیں کہی جا رہی تھی جو بظاہر غیر فطری یا غیر معمولی نوعیت کی ہو، اس لیے اسے قبول کرنے میں بھی کوئی خاص اشکال نہیں۔ لیکن آپ نے ایک اہم تعبیر استعمال کی ہے: ‘سچا خواب’۔ میرا سوال یہی ہے کہ خواب کو ‘سچا’ قرار دینے کی بنیاد کیا ہے؟ یعنی یہ کیسے طے ہوا کہ یہ واقعی وحیِ الٰہی تھی؟

    کیا یہ امکان نہیں کہ وہ خواب درحقیقت وسوسہ ہو؟ اسی لیے سیدنا ابراہیمؑ نے پہلی بار اسے غیر معمولی خیال سمجھ کر نظر انداز کیا ہو، دوسری بار بھی اسے اہمیت نہ دی ہو، لیکن تیسری بار یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے؟

    مزید یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اُس زمانے میں انسانوں کی قربانی کو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک معروف ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ تو کیا یہ ممکن نہیں کہ اُس دور کے رائج تصورات اور سماجی و مذہبی ماحول کے اثر سے سیدنا ابراہیمؑ نے یہ گمان کر لیا ہو کہ یہ خواب خدا کی طرف سے ہے، حالانکہ حقیقت میں معاملہ کچھ اور ہو؟”

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 2, 2026 at 11:38 pm

    اس بارے میں خود قرآن مجید کا بیان ہی ہمارے لیے اصل صورت حال کو واضح کر دیتا ہے:

    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

    (وہ لڑکا جوان ہوا)، پھر جب وہ اُس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے (ایک دن) اُس سے کہا: میرے بیٹے، میں (کچھ دنوں سے) خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ تو غور کرو، تمھاری کیا راے ہے؟ اُس نے کہا: ابا جان، آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اُس کی تعمیل کیجیے۔

    یہاں ابراہیم علیہ السلام یا اسمعیل علیہ السلام کو یہ شک نہیں ہوا کہ یہ خواب ممکن ہے خدا کی طرف سے نہ ہو۔ یہی وجہ ہے جب اسمعیل سے پوچھا گیا کہ تمھاری کیا راے ہے کیا تم قربان ہونے کے لیے تیار ہو، تو انھوں نے کہا آپ کو جو “حکم” دیا گیا ہے اس پر عمل کریں۔

    انبیا کے معاملہ خاص ہوتا ہے۔ انھیں وحی ملے یا خواب، اس کے سچے ہونے کا یقین انھیں کسی پراسس سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ خدا کی طرف ہی حاصل ہوتا ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register