-
م جنسی جرائم اور اخلاقی بحران: ہم کہاں کھڑے ہیں
افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعات کے تناظر میں ایک سنجیدہ فکری و سماجی سوال
کیا ہم نے کبھی سنجیدگی، دیانت داری اور غیر جانب داری کے ساتھ اس بات پر غور کیا ہے کہ بحیثیتِ فرد، خاندان اور معاشرہ ہم اخلاقی، تربیتی اور انسانی اقدار کے اعتبار سے کس سمت میں جا رہے ہیں؟ وہ کون سے سماجی، خاندانی، تعلیمی، نفسیاتی، ثقافتی، معاشی، میڈیا سے متعلق اور ماحولیاتی عوامل ہیں جو کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی شخصیت، کردار اور اخلاقی تربیت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات وہ بد اخلاقی، بے راہ روی، تشدد اور جرائم جیسے سنگین رویّوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں؟
جب ہم آئے روز بچوں، بچیوں، خواتین اور کمزور افراد کے خلاف پیش آنے والے افسوسناک واقعات کی خبریں سنتے ہیں تو یہ سوال مزید شدت سے ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں ایسی کمزوریاں کیوں پیدا ہو رہی ہیں جو انسانی ہمدردی، حیا، اخلاق، رحم، ذمہ داری اور خیر و شر کے بنیادی شعور کو کمزور کر رہی ہیں؟ اگرچہ ایسے واقعات معاشرے کے مختلف طبقات اور مختلف مقامات پر پیش آتے ہیں، لیکن انتہائی تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے قریبی اور خونی رشتوں کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں بچے اور بچیاں اپنے ہی ماحول اور اپنے ہی لوگوں سے غیر محفوظ محسوس ہونے لگتے ہیں۔
اس پس منظر میں غور طلب سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ آج کہاں کھڑے ہیں؟ وہ حقیقی اور بنیادی وجوہات کیا ہیں جو اخلاقی زوال، کردار کی کمزوری، بے حسی، جنسی جرائم، تشدد اور انسانی اقدار سے دوری کا سبب بن رہی ہیں؟ انسان کے اندر ایسی کون سی فکری، روحانی، اخلاقی، نفسیاتی یا سماجی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ خیر و شر کا شعور رکھنے کے باوجود بعض اوقات ایسے اعمال کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے جو انسانی فطرت، اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داریوں اور دینی تعلیمات کے بھی منافی ہوتے ہیں؟
مزید یہ کہ ان واقعات کے پیچھے کارفرما حقیقی، بنیادی اور گہرے عوامل کیا ہیں، اور ان کے تدارک کے لیے فرد، والدین، خاندان، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی قیادت، میڈیا اور ریاست کو اپنی اپنی سطح پر کن ذمہ داریوں کا احساس اور کس نوعیت کے عملی اقدامات اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کی اخلاقی، فکری اور انسانی تربیت کو بہتر بنایا جا سکے اور ایک محفوظ، بااخلاق اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے؟
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.