Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions Human Embryology

  • Human Embryology

    Posted by Ahmed Murtaza on June 17, 2026 at 5:33 am

    1. Question: Embryology Stages in the Qur’an vs Modern Science

    How should Surah Al-Mu’minun (23:12–14) — which describes human development from a sperm-drop (nutfah), to a “clinging clot” (alaqah), then a “lump of flesh” (mudghah), followed by bones being formed and then covered with flesh — be understood in comparison with modern embryology?

    Modern science explains that early embryonic development does not include a literal “blood clot” stage. Instead, the embryo develops through continuous cell division, where tissues differentiate gradually. Bone and muscle (or cartilage and connective tissues) arise from the mesoderm in overlapping stages rather than bones forming first and muscles being added later. How is this sequence in the verse interpreted in light of these scientific findings?

    2. Question: Source of Semen Description in Surah At-Tariq (86:6–7)

    How should the verse describing semen as coming from “between the backbone and the ribs” (Surah At-Tariq 86:6–7) be understood, considering modern biology shows sperm is produced in the testes and not in that region? Do classical tafsir and scholars interpret this literally, metaphorically, or in another context?

    Dr. Irfan Shahzad replied 1 day, 10 hours ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • Human Embryology

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 18, 2026 at 12:38 am

    If you can read Urdu, these articles of mine may help:

    1. سورہ مومنون کی آیت 14 سے متعلق ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ جنین کی نشوونما میں گوشت ، ہڈی اور اُس پر جلد چڑھنے کے مراحل یکے بعد دیگر نہیں، بلکہ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، مگر قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں یہ یکے بعد دیگر بیان ہوئے ہیں، جو سائنسی لحاظ سے درست نہیں۔

    مولنا مودودی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:

    {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ} [المؤمنون: 13 – 16]

    “ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا، پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کو ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دُوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً تم اُٹھائے جاوٴ گے۔”

    اِس آیت کے زیادہ تر تراجم اِسی طرح ہوئے ہیں۔ اِن میں حروف “ثم” اور”ف” کے استعمال میں ہونے والی تبدیلی کی رعایت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔

    “ثم” تراخی کے لیے آتا ہے، یعنی یکے بعد دیگر، جب کہ “ف” تعقیب کے لیے آتا ہے، یعنی ایک کے ساتھ دوسرا کام فوراً ہونا، یا یہ تفصیل کے آتا ہے۔ آیت میں اگر ہر جگہ “پھر” کہنا مقصود ہوتا تو ہرجگہ “ثم” ہی آنا چاہیے تھا، مگر وہاں پہلے دو جگہ “ثم” لایا گیا ہے، پھر اسے چھوڑ کر “ف” سے جنین کی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ آخر میں پھر “ثم” لایا گیا ہے۔ حروف کی یہ تبدیلی بے وجہ نہیں۔ متکلم کے پیش نظر ہر جگہ “ثم” کا مفہوم پیشِ نظر نہیں ہے۔

    آیت میں “سلالۃ من طین” سے نطفہ، پھر نطفہ سے”علقہ” (لوتھڑا) اور پھر “علقہ “سے “مضغہ” (بوٹی) کی ہر تبدیلی کو “ثم” سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ یقیناً جنین کے ارتقا کے وہ مراحل ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔ لیکن “مضغہ”، یعنی بوٹی سے آگے کی صورتیں حرف” ف” کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، یعنی، بوٹی ہڈیاں اور ہڈیوں پر گوشت کا چڑھنا۔ یہ تعقیب یا تفصیل ہے، یعنی یہ کام ساتھ ساتھ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اِس کے بعد پھر “ثم” لایا گیا اور بتایا ہے کہ اِن سب کے بعد یہ جنین ایک دوسری ہی خلقت بنا دیا جاتا ہے، یعنی، وہ محض ایک جاندار سے ایک انسانی وجود میں ڈھل جاتا ہے۔

    اِس وضاحت کے بعد آیت کا درست ترجمہ اُس کے الفاظ کی رعایت سے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ جاوید احمد غامدی صاحب کا ہے:

    “(تمھارے منکرین اِس کو نہیں مانتے تو دیکھیں کہ) ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا تھا۔ پھر اُس کو (آگے کے لیے) ہم نے پانی کی ایک (ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا۔ پھر پانی کی اُس بوند کو ہم نے ایک لوتھڑے کی صورت دی اور لوتھڑے کو گوشت کی ایک بندھی ہوئی بوٹی بنایا اور اُس بوٹی کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ پھر یہ کہ قیامت کے دن تم لازماً اٹھائے بھی جاؤ گے۔”

    قرآن مجید میں انسانی جنین کے مراحل اور تفصیل میں درست اور چست الفاظ کا استعمال ہر جگہ دیکھ لیا جا سکتا ہے۔۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 18, 2026 at 12:39 am

    قرآن مجید سائنسی اسالیب اختیار نہیں کرتا، یہ ادب اور محاورے کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ چنانچہ سمندر میں سورج ڈوبنے جیسے محاورے کی طرح قرآن میں سورج کے سیاہ کیچڑ میں ڈوبنے (سورہ کہف 18: 86) جیسے مشاہداتی بیان کو سائنسی بیان سمجھنا بد ذوقی ہے۔ یہ ادبی معیارات اختیار کرنے کی وجہ ہی سے ہے کہ مادہءِ تولید کے مخرَج کا ذکر صُلب (پشت) اور ترائب (چھاتی یا سینے کی ہڈی) کےاستعارے سے کیا گیا ہے، جس سے فی الجملہ انسان کے اندرون کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ یہاں طبی یا سائنسی معلومات فراہم کرنا پیشِ نظر ہوتا بالبداہت خصیتین کا ذکر ضرور آتا، مگر شائستہ اسالیب میں بول و براز اور جنسی اعضا کے لیے مخصوص برہنہ الفاظ اختیار نہیں کیے جاتے، قرآن مجید بھی اُنھیں اختیار نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ قانونی ضرورت سے جب جنسی اعضا کے بیان کی ضرورت پڑی تو قرآن مجید نے وہاں بھی اُن کے لیے مخصوص الفاظ استعمال نہیں کیے۔ مثلاً، مدخولہ اور غیر مدخولہ عورت کی عدت کا فرق بیان کرنے کے لیے “دخلتم بھن” (سورۃ النساء 4: 23) کے الفاظ اختیار کیے گئے، یعنی تم نے ان میں داخل کیا۔ مدخولہ عورت سے حقِ مہر واپس نہ لینے کے ذکر میں “أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ” (سورہ النسا 4: 21) کا اسلوب اختیار کیا، جس کا مطلب ہے کہ تم ایک دوسرے تک پہنچ گئے، ایک دوسرے کے حرم میں داخل ہوگئے۔

    یہ بھی ملحوظ رہے کہ لفظ “فرج” برہنہ نہیں ہے، یہ اردو میں شرم گاہ کا مترادف ہے، اور مذکر ومونث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    لفظ صُلب یعنی ریڑھ کی ہڈی یا پُشت عربی محاورے میں نسل کے لیے معروف لفظ تھا۔ قرآن مجید نے اسے وہیں سے لیا۔ غالباً، عربی ہی سے اردو میں بھی پُشت کا لفظ نسل کے معنی میں رائج ہوا۔ صُلب یا پُشت کا مادہءِ تولید کی پیدایش سے براہ راست کوئی تعلق ہے تو یہ اتفاق ہوگا، یہ لفظ قرآن کی ایجاد نہیں، پہلے سے موجود عربی ذخیرہءِ الفاظ سے اختیار کردہ ہے۔ البتہ ترائب کا مادہءِ تولید سے کوئی سائنسی تعلق معلوم ہوتا ہے تو یہ حیرت انگیز ہوگا۔

You must be logged in to reply.
Login | Register