If you can read Urdu, these articles of mine may help:
1. سورہ مومنون کی آیت 14 سے متعلق ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ جنین کی نشوونما میں گوشت ، ہڈی اور اُس پر جلد چڑھنے کے مراحل یکے بعد دیگر نہیں، بلکہ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، مگر قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں یہ یکے بعد دیگر بیان ہوئے ہیں، جو سائنسی لحاظ سے درست نہیں۔
مولنا مودودی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ} [المؤمنون: 13 – 16]
“ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا، پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کو ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دُوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً تم اُٹھائے جاوٴ گے۔”
اِس آیت کے زیادہ تر تراجم اِسی طرح ہوئے ہیں۔ اِن میں حروف “ثم” اور”ف” کے استعمال میں ہونے والی تبدیلی کی رعایت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔
“ثم” تراخی کے لیے آتا ہے، یعنی یکے بعد دیگر، جب کہ “ف” تعقیب کے لیے آتا ہے، یعنی ایک کے ساتھ دوسرا کام فوراً ہونا، یا یہ تفصیل کے آتا ہے۔ آیت میں اگر ہر جگہ “پھر” کہنا مقصود ہوتا تو ہرجگہ “ثم” ہی آنا چاہیے تھا، مگر وہاں پہلے دو جگہ “ثم” لایا گیا ہے، پھر اسے چھوڑ کر “ف” سے جنین کی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ آخر میں پھر “ثم” لایا گیا ہے۔ حروف کی یہ تبدیلی بے وجہ نہیں۔ متکلم کے پیش نظر ہر جگہ “ثم” کا مفہوم پیشِ نظر نہیں ہے۔
آیت میں “سلالۃ من طین” سے نطفہ، پھر نطفہ سے”علقہ” (لوتھڑا) اور پھر “علقہ “سے “مضغہ” (بوٹی) کی ہر تبدیلی کو “ثم” سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ یقیناً جنین کے ارتقا کے وہ مراحل ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔ لیکن “مضغہ”، یعنی بوٹی سے آگے کی صورتیں حرف” ف” کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، یعنی، بوٹی ہڈیاں اور ہڈیوں پر گوشت کا چڑھنا۔ یہ تعقیب یا تفصیل ہے، یعنی یہ کام ساتھ ساتھ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اِس کے بعد پھر “ثم” لایا گیا اور بتایا ہے کہ اِن سب کے بعد یہ جنین ایک دوسری ہی خلقت بنا دیا جاتا ہے، یعنی، وہ محض ایک جاندار سے ایک انسانی وجود میں ڈھل جاتا ہے۔
اِس وضاحت کے بعد آیت کا درست ترجمہ اُس کے الفاظ کی رعایت سے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ جاوید احمد غامدی صاحب کا ہے:
“(تمھارے منکرین اِس کو نہیں مانتے تو دیکھیں کہ) ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا تھا۔ پھر اُس کو (آگے کے لیے) ہم نے پانی کی ایک (ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا۔ پھر پانی کی اُس بوند کو ہم نے ایک لوتھڑے کی صورت دی اور لوتھڑے کو گوشت کی ایک بندھی ہوئی بوٹی بنایا اور اُس بوٹی کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ پھر یہ کہ قیامت کے دن تم لازماً اٹھائے بھی جاؤ گے۔”
قرآن مجید میں انسانی جنین کے مراحل اور تفصیل میں درست اور چست الفاظ کا استعمال ہر جگہ دیکھ لیا جا سکتا ہے۔۔