Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions حضرت اسماعیل کی قربانی کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

  • حضرت اسماعیل کی قربانی کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

    Posted by Sameer Ahmad on June 23, 2026 at 4:16 am

    جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور جناب شہزاد سلیم صاحب کی گفتگو سُن کر یہ تو الحمدللہ واضح ہو گیا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ علیہا السلام کو قربانی کے واقعے کے بہت بعد میں مکہ میں بسایا گیا، البتہ ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ مکہ میں تشریف لانے سے پہلے تو خاندان کنعان میں آباد تھا تو یہ قربانی کا واقعہ کنعان میں ہی کہیں پیش آیا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے اتنی دور مروی کی پہاڑی پر تشریف لانا تو خلافِ عقل معلوم ہوتا ہے۔ براہِ کرم وضاحت فرما دیجئے گا۔ یہ بھی تصدیق فرما دیجئے گا کہ کیا واقعات کی ترتیب کچھ یوں ہے:

    ۱۔ حضرت اسماعیل کی کنعان میں پیدائش۔

    ۲۔ تیرہ سال کی عمر میں قربانی کا واقعہ پیش آنا۔

    ۳۔ ایک سال بعد حضرت اسحاق کی پیدائش کہ جو یوں حضرت اسماعیل سے چودہ سال چھوٹے ہوئے۔
    ۴۔ کچھ عرصے بعد حضرت اسماعیل کے ساتھ مکے میں تشریف لانا، کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اُنہیں وہاں مستقل آباد کر دینا تاکہ وہ حرمِ پاک کی خدمت کی ذمہ داری سرانجام دے سکیں۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 weeks ago 2 Members · 4 Replies
  • 4 Replies
  • حضرت اسماعیل کی قربانی کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

    Dr. Irfan Shahzad updated 3 weeks ago 2 Members · 4 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 24, 2026 at 6:25 am

    ترتیب درست ہے۔

    مروہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ قربان گاہ ہے۔ اس لیے وہاں قربانی کے لیے اسمعیل علیہ السلام کو لایا گیا۔

    • Sameer Ahmad

      Member June 25, 2026 at 12:01 am

      میں رہنمائی پر بے حد شکرگزار ہوں۔ جزاک اللہ۔

      براہِ کرم یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ اگر اللہ تعالی کی مقرر کردہ قربان گاہ مروہ ہے تو آج کل قربانی منی میں کیوں ہوتی ہے؟ کیا قربان گاہ تاریخی اعتبار سے مروہ تھی اور بعد میں اسے منی شفٹ کر دیا گیا؟ اگر ہاں تو کب اور کیوں؟

    • Sameer Ahmad

      Member June 25, 2026 at 5:43 am

      براہِ کرم یہ بھی ارشاد فرمائیے گا کہ بیت اللہ تو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا اور یہ قربانی کے واقعے کے بعد ہوا تو پھر قربان گاہ پہلے سے کیسے موجود تھی؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 29, 2026 at 5:30 am

    بیت اللہ بھی پہلے سے موجود تھا اور قربان گاہ بھی۔ ابراہیم نے اسے دوبارہ تعمیر کیا۔ قرآن مجید نے اس کے لیے جو الفاظ اختیار کیے ہیں، ابراہیم نے نے بنیادوں کو بلند کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادیں موجود تھیں۔

    لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جانے کی وجہ سے قربان گاہ کو وسعت دے دی گئی ہوگی۔ تاہم، اس بارے میں مجھے تحقیق کرنا ہوگی۔

You must be logged in to reply.
Login | Register