-
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وضاحت
نماز میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے کے بارے میں صحیح بخاری میں ایک ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا ہے جس کی وضاحت مطلوب ہے جو حسبِ ذیل ہے
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ ہر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی۔ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے اور جن نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قرآت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قرآت کریں گے اور اگر سورۃ فاتحہ ہی پڑھو جب بھی کافی ہے، لیکن اگر زیادہ پڑھ لو تو اور بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 772]
کیا اس میں وہ یہ کہ رہے ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کا حصہ ملانا لازم نہیں
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.