-
No Positive Tawjih For Ali ?
Dr @Irfan76 writes: حضرت علی کے سامنے دو انتخاب تھے۔
امت کے ساتھ مل کر قاتلین عثمان کے خلاف لڑیں یا قاتلین عثمان کے ساتھ مل کر امت کے خلاف لڑیں۔
حضرت علی نے دوسرا انتخاب کیا۔
امت حضرت علی کے ساتھ مل کر قاتلین عثمان کے ساتھ لڑنا چاہتی تھی مگر حضرت علی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ انھوں نے غیر مشروط بیعت پر اصرار کرتے ہوئے امت کے سرکردہ لوگوں کو حکومت میں دخل دینے سے منع اور معزول کر دیا تھا۔
حق اور باطل بالکل واضح تھے۔ یہی وجہ ہوئی کہ جماعت صحابہ نے حضرت علی کا ساتھ نہیں دیا۔ اہل مدینہ میں سے جنھوں نے ان کی بیعت کر لی تھی انھوں نے بھی امت کے خلاف قتال میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
اس حق کو باطل اور باطل کو حق میں تبدیل کرنے کے لیے فضائل کا کارخانہ لگایا گیا اور ان کی اتنی ترویج کی گئی کہ اذہان سامنے کھڑی حقائق کی بجائے محض فضائل کی بنیاد پر حق اور باطل کے فیصلے کرنے لگے۔The above does not appear to align with Ghamidi sb’s position. Ghamidi sb offers a positive tawjih for the actions of both Ali and Muawiyah. In contrast, the above article seems to suggest quite clearly that Ali’s position was on the side of batil, leaving no room for a positive tawjih of his actions.
Refer to this video for Ghamidi sb view: https://youtu.be/RfbXcm8pSQs?si=GUp59bTClUlqHxAD
My simple question is:Has Ghamidi sb’s view on this matter changed in recent times, or should Dr. Irfan’s article be understood as his independent opinion rather than as a reflection of Ghamidi sb’s position?
Thanks.
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.