Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions لغویات

  • لغویات

    Posted by Umair Zafar on July 16, 2026 at 9:55 pm

    قرآن مجید میں جو لغویات سے بچنے کا حکم ہے ، لغویات سے کیا مراد ہے ؟ کیا موسیقی لغویات میں شامل ہے ؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 weeks, 6 days ago 2 Members · 5 Replies
  • 5 Replies
  • لغویات

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 17, 2026 at 12:00 am

    ہر وہ کام جو خدا کی یاد اور اپنے فرائض سے غافل کرے وہ لغو میں شمار ہوتا ہے۔ موسیقی شاعری اور دوسرے فنون لطیفہ جمالیات کا اظہار ہیں۔ یہ لغو نہیں۔ البتہ یہ تب لغو بن جاتے ہیں جب ان میں اتنا منہمک ہو جائیں کہ انسان کو غفلت میں مبتلا کر دیں۔ ایسی مصروفیت کھیل کود میں ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہوگا۔

  • Umair Zafar

    Member July 25, 2026 at 1:32 am

    غامدی صاحب نے اپنی تفسیر میں سورہ مومن کی آیت میں لکھا ہے :

    یہ ہر اُس بات اور کام کے لیے آتا ہے جو فضول، لا یعنی اور لا حاصل ہو۔

    یعنی فضول کام، کا یعنی کام۔

    اب اگر آپ کہ رہے کہ موسیقی جمالیات کے اظہار کا بیان ہے، تو پھر کوئی بھی چیز لغو کیسے ہے ؟ کیا لغویات کی مثالیں دے سکتے آپ ؟غامدی صاحب نے جو تعریف کی لغویات کی کہ فضول کام تو اس میں تو موسیقی بھی آ سکتا،

    براہ کرم اس کو واضح کر دیں۔ مجھے اس موضوع پر غامدی صاحب کی تفصیلی رائے بھی نہیں ملی۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 27, 2026 at 5:57 am

    شاعری بھی احساس جمال کا اظہار ہے۔ مگر منع نہیں۔ انسان میں جتنی جبلتیں پائی جاتی ہیں، ان سب کی تسکین کا سامان لغو نہیں۔ آپ چار دیواروں پر مشتمل ایک چھت کے نیچے بھی رہ سکتے ہیں، دو کپڑوں سے بدن بھی ڈھانپ سکتے ہیں، مگر انسان کا احساس جمال اسے مجبور کرتا ہے کہ لباس، رہایش حتی کہ کھانے پینے میں اظہار جمال کے طریقے اپنائے۔ موسقی، شاعری مصوری سب یہی کرتے ہیں۔ ہنسی مذاح بھی انسان کی ضرورت ہے۔ مگر یہی چیزیں اگر غیر محتاط انداز میں اختیار کی جائیں تو لغو بن جاتی ہیں۔ اگر ان سے انسان خدا کی یاد سے غافل ہونے لگے تو اسے تنبیہ کی جائے گی پھر چاہے وہ کرکٹ ہو، موسیقی ہو یا فیشن۔

  • Umair Zafar

    Member July 27, 2026 at 7:39 am

    آپ کی بات درست ہے موسیقی سے متعلق میں اتفاق کرتا ہوں، میں نے موسیقی کا ذکر مثال کے طور پر کیا۔ میں اپنا سوال واضح نہ کر سکا۔
    قرآن نے جو ایمان والوں کی شان بتائی ہے کہ وہ لغویات سے دور رہتے ہیں، میں بس یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں چاہوں کہ اس بات پر عمل کروں تو مجھے کن چیزوں سے دور رہنا ہو گا؟
    اس آیت کی تفسیر میں غامدی صاحب نے بھی دوسرے مفسرین والی تفسیر کی کہ ہر وہ چیز جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ لغو ہے۔ (یہ ہر اُس بات اور کام کے لیے آتا ہے جو فضول، لا یعنی اور لا حاصل ہو۔)
    اب جیسے کہ آپ نے کہا کہ یہی چیزیں اگر غیر محتاط انداز میں اختیار کی جائیں تو لغو بن جاتی ہیں۔
    جبکہ قرآن کا اسلوب یہ ہے:
    ایمان والے لغویات سے دور رہتے ہیں۔
    آپ کی بات سے تو بظاہر یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ کیفے میں جا کر سنوکر کھیلنا ، کرکٹ کھیلنا، موسیقی، یا فضول گپ شپ کرنا ان میں سے بذات خود کچھ بھی لغویات میں سے نہیں بلکہ اگر میں کسی سنوکر کی دکان میں جا کر اتنا کھو جاؤ کے خدا کے حقوق یا بی وہ بچوں کو بھول جاؤ تب لغو ہو گا۔۔۔ یہ بات لیکن قرآن کے اسلوب سے میل نہیں کھا رہی کہ وہ لوگ لغویات سے دور رہتے ہیں۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 27, 2026 at 11:29 pm

    اس کا فیصلہ آپ خود کرتے ہیں۔ مثلا دوستوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر گپ شپ کرنا یا موبائل فونز پر گیمز کھیلتے رہنا لغو ہے۔ لیکن کسی کام سے تھکن اتارنے کے لیے یہ کریں تو لغو نہیں۔

    فلسفے کی غیر ضروری بحثوں میں الجھنا لغو ہے، مگر کسی ضرورت سے ان میں پڑنا لغو نہیں۔

You must be logged in to reply.
Login | Register