-
سیاسی جدوجہد اور خارجہ پالیسی کے تقاضے
### پہلا سوال
> اس بات سے اتفاق ہے کہ جدوجہد کو انقلابی کے بجائے سیاسی ہونا چاہیے۔ لیکن آپ کے خیال میں عمران خان کی جدوجہد سیاسی کیوں نہیں ہے؟ “ایبسولیوٹلی ناٹ” کا مقصد صرف مقبولیت حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی مخالفت کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انہیں سرحد پر ہمارے لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی جائے جس سے خطے میں بدامنی پھیلتی ہے۔ اور میرا ماننا ہے کہ امریکہ کو انکار کرنا کم تر برائی کے انتخاب کے مترادف ہے۔ کیا غامدی صاحب ہمیں اسی بات کی تعلیم نہیں دیتے؟
>
### دوسرا سوال
> آپ ہمیشہ اس بات کی تدریس کرتے ہیں کہ طاقت سے تصادم کے بجائے سیاسی بصیرت کا استعمال کرتے ہوئے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے راستہ نکالا جائے۔ یعنی آپ کے نزدیک حق تو بنتا ہے، لیکن عمران خان کی جدوجہد پر نظرثانی اور بہتری درکار ہے۔
> اس تدریس کے دوران عمران خان کی جدوجہد پر اس حد تک تنقید کی جاتی ہے کہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے جس حق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہ سرے سے حق ہے ہی نہیں—اور صرف غلط حکمت عملی کی وجہ سے وہ اصل حق بھی نا-حق بن کر سامنے آنے لگتا ہے۔
> کیا آپ کو لگتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر اور ظلم کو علانیہ ظلم کہے بغیر، صرف عمران خان کی جدوجہد پر تنقید کرنا نفسیاتی طور پر کارآمد ہوگا؟ کیا اس سے عوام میں مزید اشتعال پیدا نہیں ہوگا؟ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، قرآن حق کو تسلیم کرنے کے بعد اسے دستبردار کرنے کا مشورہ دیتا ہے، لیکن دستبردار ہونے کا یہ اختیار پوری طرح انسان کے اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔
>
Sponsor Ask Ghamidi