Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions **ڈیجیٹل زر، سٹا بازی اور معاشی کنٹرول کا جائزہ**

  • **ڈیجیٹل زر، سٹا بازی اور معاشی کنٹرول کا جائزہ**

    Posted by Faraz Anjum on July 27, 2026 at 9:14 pm

    > کرپٹو کرنسی کی قدر و قیمت میں اندازوں اور اٹکل پچی کا عنصر بہت زیادہ نمایاں ہے۔ کیا یہ سٹا بازی اس میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو جوئے کی شکل نہیں دے دیتی؟ یہ بات سچ ہے کہ اگر زر کا وجود مجرد یا غیر محسوس ہو تو اسلام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن یہاں مسئلہ اس کے مجرد ہونے کا ہے ہی نہیں۔> زر خواہ کوئی بھی ہو، اس کی قدر کا اختیار اور دیکھ بھال حکومتوں یا مرکزی بینکوں کے پاس ہونی چاہیے کیونکہ افراطِ زر اور معاشی استحکام کی ذمہ دار حکومتیں ہی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، کرپٹو کرنسی اپنے دعوے میں ہی غیر مرکزی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حکومت اس کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔> اس دلیل کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے حامی اسے زر کے بجائے اثاثہ قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن پھر کیا کسی ایسی چیز کو اثاثہ کہنا درست ہے جو اپنے دعوے میں تو زر ہو، مگر آپ عام بازار میں اس سے کوئی لین دین نہ کر سکیں؟ کیا ایسے اثاثے کی قیمت مکمل طور پر محض قیاس آرائی اور اٹکل پچی پر مبنی نہیں ہوتی؟>

    Faraz Anjum replied 10 hours, 49 minutes ago 2 Members · 5 Replies
  • 5 Replies
  • **ڈیجیٹل زر، سٹا بازی اور معاشی کنٹرول کا جائزہ**

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 27, 2026 at 10:20 pm

    یہ انتظامی مسئلہ ہے۔ حکومت چاہے تو موجودہ کرنسی نوٹوں کے بارے میں اپنی ضمانت منسوخ کر دے تو یہ نوٹ بھی کاغذ کے پرزے قرار پائیں گے۔

    کرپٹو کرنسی کی پابندی پر حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیا تو جن لوگوں کے درمیان یہ قابل اعمتاد ہے وہ اس پر لین دین کر سکتے ہیں۔ یہ ان کا باہمی مسئلہ ہے۔ حکومت جب پابندی عائد کر دے گی لوگ خود اسے چھوڑ دیں گے۔

  • Faraz Anjum

    Member July 27, 2026 at 10:35 pm

    شاید میں اپنا سوال اچھے طریقے سے واضح نہیں کر سکا۔ میرا مقصد یہ پوچھنا نہیں تھا کہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں، اور نہ ہی یہ جاننا تھا کہ اس کا لین دین جائز ہے یا ناجائز۔ میرا سادہ سا سوال یہ ہے کہ جس خرید و فروخت میں قیاس آرائی اور اندازوں کا عنصر شامل ہو، کیا وہ جوئے کی ایک شکل نہیں بن جاتی؟ برائے مہربانی تھوڑی دیر کے لیے کرپٹو کرنسی کو نظر انداز کر دیجیے۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 27, 2026 at 10:55 pm

    جوا الگ چیز ہے۔ جوے میں آپ کسی سے کوئی چیز لیتے ہیں تو اس کے بدلے کچھ نہیں دیتے۔

    رہا کاروبار جس میں کسی چیز کا لین دین ہوتا ہے، اس میں قیاس آرائی کا عنصر موجود رہتا ہے۔ ایک چیز لی جاتی ہے تو یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ کتنے لوگ اس کے خریدار ہو سکتے ہیں اور کتنے منافع پر اسے بیچنے کامیاب رہے گا۔ بعض اوقات اس میں غلطی ہو جاتی ہے۔

  • Faraz Anjum

    Member July 27, 2026 at 11:43 pm

    > مرکزی بینک کا اس پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اس میں قیاس آرائی کا عنصر کچھ نہیں بلکہ سو فیصد ہے۔

    >

  • Faraz Anjum

    Member July 28, 2026 at 12:06 am

    > جیسے بحریہ ٹاؤن کے پلاٹ کی فائل میں ایک دو لاکھ روپے کی قیمت صرف قیاس آرائی کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے تو اسے اس لیے قبول کر لیا جاتا ہے کیونکہ پلاٹ ایک حقیقی چیز ہے۔ اس کے برعکس، ڈیجیٹل زر کے معاملے میں یہ کوئی حقیقی چیز نہیں ہے کیونکہ عام بازار میں اس سے کچھ نہیں خریدا جا سکتا، اس لیے اس کی قیمت سو فیصد قیاس آرائی پر مبنی ہے۔>

You must be logged in to reply.
Login | Register