-
**ڈیجیٹل زر، سٹا بازی اور معاشی کنٹرول کا جائزہ**
> کرپٹو کرنسی کی قدر و قیمت میں اندازوں اور اٹکل پچی کا عنصر بہت زیادہ نمایاں ہے۔ کیا یہ سٹا بازی اس میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو جوئے کی شکل نہیں دے دیتی؟ یہ بات سچ ہے کہ اگر زر کا وجود مجرد یا غیر محسوس ہو تو اسلام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن یہاں مسئلہ اس کے مجرد ہونے کا ہے ہی نہیں۔> زر خواہ کوئی بھی ہو، اس کی قدر کا اختیار اور دیکھ بھال حکومتوں یا مرکزی بینکوں کے پاس ہونی چاہیے کیونکہ افراطِ زر اور معاشی استحکام کی ذمہ دار حکومتیں ہی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، کرپٹو کرنسی اپنے دعوے میں ہی غیر مرکزی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حکومت اس کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔> اس دلیل کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے حامی اسے زر کے بجائے اثاثہ قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن پھر کیا کسی ایسی چیز کو اثاثہ کہنا درست ہے جو اپنے دعوے میں تو زر ہو، مگر آپ عام بازار میں اس سے کوئی لین دین نہ کر سکیں؟ کیا ایسے اثاثے کی قیمت مکمل طور پر محض قیاس آرائی اور اٹکل پچی پر مبنی نہیں ہوتی؟>
Sponsor Ask Ghamidi