Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions غامدی صاحب کے سیاسی نظریات پر چند فکری سوالات

  • غامدی صاحب کے سیاسی نظریات پر چند فکری سوالات

    Posted by Faraz Anjum on July 29, 2026 at 6:47 pm

    **۱. سیاست کا بے رحم ہونا: واقعاتی حقیقت یا اخلاقی جواز؟**

    غامدی صاحب اکثر فرماتے ہیں کہ “سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔” سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض موجودہ سیاسی تلخ حقائق کی نشاندہی (ڈسکرپٹو اسٹیٹمنٹ) ہے، یا وہ اسے ایک ایسا اصولی رویہ مانتے ہیں جو “ایسا ہی ہونا چاہیے” (نارمیٹو اسٹیٹمنٹ)؟

    ان کے اس موقف سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمیں طاقتور کے ساتھ سمجھوتہ (کامپرومائز) کر کے موجودہ حالات کے اندر ہی اپنے لیے امکانات اور مواقع (آپرچونیٹیز) تلاش کرنے چاہئیں۔ تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ اگر کوئی بیرونی طاقت ہمیں مالی امداد کے بدلے عوام کو قتل کرنے یا ان کے حقوق غصب کرنے پر مجبور کرے، تو کیا اسے صرف اس لیے جائز مان لیا جائے کہ “سیاست بے رحم ہوتی ہے” اور اس مالی امداد کو موجودہ حالات کا فائدہ (آپرچونیٹی) سمجھا جائے؟ ایسی صورتِ حال میں حقیقی **”اکراہِ ادنیٰ” (لیسر ایول)** کیا ہوگا—عوام کے حقوق کا غصب ہونا یا اس مالی امداد کا انکار کر دینا؟

    **۲. سیاسی جدوجہد بمقابلہ انقلاب**

    غامدی صاحب پرامن اور آئینی “سیاسی جدوجہد” کے داعی ہیں اور “انقلابی جدوجہد” کی نفی کرتے ہیں۔ تو کیا ووٹ کے ذریعے جمہوریت کی بحالی کی کوشش کرنا، اور اس راستے میں آنے والی صعوبتیں حتیٰ کہ قید و بند کی صعوبتیں (جیل) برداشت کرنا، سیاسی جدوجہد کا حصہ نہیں؟ کیا پرامن احتجاج کی کال دینا وہی سیاسی راستہ اور آئینی موقع (آپرچونیٹی) کا استعمال نہیں جسے آج کی جدید اور مہذب دنیا نے تسلیم کیا ہے؟

    **۳. سیاست میں حق و باطل کا پیمانہ**

    غامدی صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا اور قابلِ اتفاق ہے کہ سیاست کو “حق و باطل” کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کسی جماعت کا اندازِ حکمرانی بہتر ہے یا ناقص، یہ حق و باطل کا معرکہ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور پالیسی کا فرق ہے۔ لیکن، کیا **”عوام کے حقِ رائے دہی اور جمہوریت”** کو پامال کرنا حق و باطل کا معاملہ نہیں بن جاتا؟ جبکہ قرآنی حکم **”وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ”** صراحت کے ساتھ باہمی مشورے (جمہوری عمل) کو بنیادی اصل قرار دیتا ہے؟

    **۴. “خانقاہ” اور “ریاستِ مدینہ” کا دہرہ معیار یا تعبیر کا مغالطہ؟**

    جب المورد نے “خانقاہ” کا افتتاح کیا تو یہ وضاحت کی گئی کہ صرف لفظ کی وجہ سے اسے روایت پسند صوفیاء والی رواجی خانقاہ نہ سمجھا جائے، کیونکہ لفظ کی تاریخ الگ ہوتی ہے اور نیا مفہوم الگ۔ تو پھر یہی استدلال “ریاستِ مدینہ” کے نعرے پر لاگو کیوں نہیں ہوتا؟ ہم ایک جدید فلاحی ریاست کے لیے اسے صرف ایک استعارہ (میٹافر) کیوں نہ سمجھیں؟ کیا اس میں زبردستی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرِ مدینہ کی نسبت جوڑ کر اسے اسلامی غلاف پہنانا اور محض ایک عوامی مقبولیت (پاپولزم) کا حربہ قرار دینا **”اسٹرا مین فالیسی”** نہیں؟ کیا کوئی بھی حکم لگانے سے پہلے اس نعرے کو استعمال کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ اس کا اس سے کیا مطلب و مقصد ہے؟ جبکہ سیاست میں عوامی تحرک کے لیے نعروں (سلوگنز) کا استعمال کوئی ممنوع یا ناجائز عمل بھی نہیں ہے۔

    Faraz Anjum replied 36 minutes ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • غامدی صاحب کے سیاسی نظریات پر چند فکری سوالات

    Faraz Anjum updated 36 minutes ago 2 Members · 2 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 29, 2026 at 10:34 pm

    سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے، بیان واقعہ ہے، ،۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، مگر ایسا ہی ہوتا ہے۔

    حکم ران کے ساتھ سمجھوتے کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر تنقید نہیں کی جائے گی یا کلمہ حق نہیں کہا جائے گا۔ کلمہ حق ظالم حکم ران کے سامنے بولنا افضل جہاد ہے۔ اس میں انسان کی جان چلی جائے تو یہ بھی جائز ہے اور یہ افضل شہادت ہے۔

    پر امن سیاسی جدوجہد کی نفی کبھی نہیں کی گئی۔ تاہم، اس کےل یے جانیں قربان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ حق و باطل کا معرکہ نہیں، ایک حق اگر ماپال ہوا تو اس کی وصولی کی جدوجہد ہے۔ دوسرے یہ کہ اس پر امن اجتحجاج کو عام آدمی کے لیے مصیبت نہیں بننا چاہیے۔ راستے بند کرنا فساد ہے، احتجاج نہیں۔
    منطقی لحاظ سے یہ گنجائش نکالی جا سکتی ہے کہ کوئی شخص ریاست مدینہ کا عنوان اپنے مفہوم سے پیش کردے۔ تاہم، سیاست کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مذہبی کارڈ کھیلنے والے پھر رکتے نہیں اور اپنی جدوجہد کو حق و باطل کا معرکہ بنا دیتے ہیں۔ اس لیے یہی تجویز کیا جائے گا کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے سے اجتناب برتا جائے۔

  • Faraz Anjum

    Member July 30, 2026 at 1:39 am

    **۵. پرامن احتجاج کی کال اور شریر عناصر پر الزام**قیادت کی طرف سے ہمیشہ پرامن احتجاج کی ہی کال دی گئی، اور شریر عناصر کی نشاندہی کے لیے سیاسی عمل کے تحت ہی شفاف تحقیقات کا مطالبات پیش کیا گیا جو مسلسل التوا کا شکار ہے۔ جب تک یہ مطالبہ تسلیم نہیں ہوتا، کیا حسنِ ظن (خوش گمانی) کا تقاضا یہ نہیں کہ جس طرح مدینہ میں فساد کا الزام نامعلوم بلوائیوں پر ڈالا گیا، اسی طرح یہاں بھی اس کا الزام قیادت پر نہ دھرا جائے؟**۶. “ریاستِ مدینہ” کا نعرہ: فطری وابستگی یا پاپولزم؟**اگر “ریاستِ مدینہ” کے نعرے کا منطقی استدلال درست ہے، تو اسے محض پاپولزم قرار دینا کیا نیتوں پر حملہ (اٹیک آن موٹیوز) نہیں؟ کیا کوئی سچے دل سے یہ تمنا نہیں رکھ سکتا کہ ریاست کو ویسا ہی فلاحی ہونا چاہیے جیسا ہمارے حضور ﷺ نے مدینہ میں قائم فرمایا؟ یہ تو ایک مسلمان کی فطری وابستگی کا بیان ہے، نہ کہ پاپولزم۔ انسان بلند معیار قائم کرتا ہے اور پھر ان پر چلنے کی کوشش کرتا ہے، جس میں یقیناً انسان سے چوک بھی ہو سکتی ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register