-
غامدی صاحب کے سیاسی نظریات پر چند فکری سوالات
**۱. سیاست کا بے رحم ہونا: واقعاتی حقیقت یا اخلاقی جواز؟**
غامدی صاحب اکثر فرماتے ہیں کہ “سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔” سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض موجودہ سیاسی تلخ حقائق کی نشاندہی (ڈسکرپٹو اسٹیٹمنٹ) ہے، یا وہ اسے ایک ایسا اصولی رویہ مانتے ہیں جو “ایسا ہی ہونا چاہیے” (نارمیٹو اسٹیٹمنٹ)؟
ان کے اس موقف سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمیں طاقتور کے ساتھ سمجھوتہ (کامپرومائز) کر کے موجودہ حالات کے اندر ہی اپنے لیے امکانات اور مواقع (آپرچونیٹیز) تلاش کرنے چاہئیں۔ تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ اگر کوئی بیرونی طاقت ہمیں مالی امداد کے بدلے عوام کو قتل کرنے یا ان کے حقوق غصب کرنے پر مجبور کرے، تو کیا اسے صرف اس لیے جائز مان لیا جائے کہ “سیاست بے رحم ہوتی ہے” اور اس مالی امداد کو موجودہ حالات کا فائدہ (آپرچونیٹی) سمجھا جائے؟ ایسی صورتِ حال میں حقیقی **”اکراہِ ادنیٰ” (لیسر ایول)** کیا ہوگا—عوام کے حقوق کا غصب ہونا یا اس مالی امداد کا انکار کر دینا؟
**۲. سیاسی جدوجہد بمقابلہ انقلاب**
غامدی صاحب پرامن اور آئینی “سیاسی جدوجہد” کے داعی ہیں اور “انقلابی جدوجہد” کی نفی کرتے ہیں۔ تو کیا ووٹ کے ذریعے جمہوریت کی بحالی کی کوشش کرنا، اور اس راستے میں آنے والی صعوبتیں حتیٰ کہ قید و بند کی صعوبتیں (جیل) برداشت کرنا، سیاسی جدوجہد کا حصہ نہیں؟ کیا پرامن احتجاج کی کال دینا وہی سیاسی راستہ اور آئینی موقع (آپرچونیٹی) کا استعمال نہیں جسے آج کی جدید اور مہذب دنیا نے تسلیم کیا ہے؟
**۳. سیاست میں حق و باطل کا پیمانہ**
غامدی صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا اور قابلِ اتفاق ہے کہ سیاست کو “حق و باطل” کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کسی جماعت کا اندازِ حکمرانی بہتر ہے یا ناقص، یہ حق و باطل کا معرکہ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور پالیسی کا فرق ہے۔ لیکن، کیا **”عوام کے حقِ رائے دہی اور جمہوریت”** کو پامال کرنا حق و باطل کا معاملہ نہیں بن جاتا؟ جبکہ قرآنی حکم **”وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ”** صراحت کے ساتھ باہمی مشورے (جمہوری عمل) کو بنیادی اصل قرار دیتا ہے؟
**۴. “خانقاہ” اور “ریاستِ مدینہ” کا دہرہ معیار یا تعبیر کا مغالطہ؟**
جب المورد نے “خانقاہ” کا افتتاح کیا تو یہ وضاحت کی گئی کہ صرف لفظ کی وجہ سے اسے روایت پسند صوفیاء والی رواجی خانقاہ نہ سمجھا جائے، کیونکہ لفظ کی تاریخ الگ ہوتی ہے اور نیا مفہوم الگ۔ تو پھر یہی استدلال “ریاستِ مدینہ” کے نعرے پر لاگو کیوں نہیں ہوتا؟ ہم ایک جدید فلاحی ریاست کے لیے اسے صرف ایک استعارہ (میٹافر) کیوں نہ سمجھیں؟ کیا اس میں زبردستی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرِ مدینہ کی نسبت جوڑ کر اسے اسلامی غلاف پہنانا اور محض ایک عوامی مقبولیت (پاپولزم) کا حربہ قرار دینا **”اسٹرا مین فالیسی”** نہیں؟ کیا کوئی بھی حکم لگانے سے پہلے اس نعرے کو استعمال کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ اس کا اس سے کیا مطلب و مقصد ہے؟ جبکہ سیاست میں عوامی تحرک کے لیے نعروں (سلوگنز) کا استعمال کوئی ممنوع یا ناجائز عمل بھی نہیں ہے۔
Sponsor Ask Ghamidi