The established fact is that girls were not married off before puberty. There is no precedent for the consummation of the marriage of a minor git.
The Quran does not allow marrying a minor girl.
For details, see my article:
نا بالغ کی عدت
قرآن مجید کی ایک اور آیت سے نابالغ کی عدت اور اُس کی بنا پر اُس کے ساتھ نکاح اور زن و شو کا تعلق قائم کرنے کا جواز اخذ کیا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے:
{وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْن} [الطلاق، 65: 4]
اِس آیت کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:
“تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اور وہ بھی جنھیں حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہے تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی۔”
“اللَّائِي لَمْ يَحِضْن” کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ اُن عورتوں سے متعلق ہے جنھیں بلوغت کے باوجود حیض نہیں آیا۔ اُنھیں کے بارے میں شک پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ حاملہ ہوں، اس بنا پر اُن کی عدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے۔ ‘ نساء’ یعنی عورتوں سے نابالغ بچیاں مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ یا عقلی تقاضا اس آیت میں موجود نہیں۔ نابالغ بچیوں کے حمل ٹھیرنے کا امکان ہی نہیں کہ عدت اُن پر لاگو کرنے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ البتہ قریب البلوغ بچی کے بارے میں شک ہو کہ اسے حمل ٹھہر سکتا ہےتو اس کے لیے بھی تین ماہ کی عدت کا یہی حکم لاگو ہو جائے گا، تاہم، یہ نایاب صورت ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت سے نابالغ سے نکاح اور زن و شو کا تعلق قائم کرنے کا جواز اخذ کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔
غامدی صاحب اِس آیت کے تشریحی نوٹ میں لکھتے ہیں:
“اصل میں ’وَالّٰلائی لَمْ یَحِضْنَ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ ’لَمْ‘ عربی زبان میں نفی جحد کے لیے آتا ہے۔ لہٰذا اِس سے وہ بچیاں مراد نہیں ہو سکتیں جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا، بلکہ وہی عورتیں مراد ہوں گی جنھیں حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود حیض نہیں آیا۔” (البیان، از غامدی)