Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Epistemology And Philosophy "قدرتِ الٰہی کی وسعت اور ظہورِ انسانی کے تصور کا جائزہ"

Tagged: 

  • "قدرتِ الٰہی کی وسعت اور ظہورِ انسانی کے تصور کا جائزہ"

    Posted by ZAHRAN Ali on July 30, 2026 at 10:10 am

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ کے باوجود کسی انسانی شکل میں دنیا (زمین) پر ظاہر ہو سکتے ہیں؟
    بعض مذاہب، جیسے عیسائیت میں خدا کے انسانی شکل میں ظاہر ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے، جبکہ ہندو مت میں “اوتار” کا تصور موجود ہے کہ خدا انسانی شکل اختیار کر کے دنیا میں آتے ہیں۔
    اسلامی نقطۂ نظر سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں اور قرآن میں ارشاد ہے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، تو کیا اللہ تعالیٰ کے لیے انسانی شکل اختیار کرنا ممکن ہے؟
    اگر جواب نفی میں ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ اور اگر اللہ کی قدرت کو مانتے ہوئے یہ ممکن کہا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور وحدانیت کے ساتھ اس تصور کی مطابقت کیسے سمجھی جائے؟

    ZAHRAN Ali replied 2 weeks, 6 days ago 2 Members · 4 Replies
  • 4 Replies
  • "قدرتِ الٰہی کی وسعت اور ظہورِ انسانی کے تصور کا جائزہ"

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 31, 2026 at 4:34 am

    یہ ممکن ہے، مگر کیا خدا نے ایسا کیا کرتا ہے، تو یہ خدا کے بتانے ہی سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اللہ نے اس کے برعکس یہ بتایا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتا۔ چنانچہ اس نے مسیح علیہ کو خدا کہنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے وضاحت کی جو لوگ سمجھتے ہین کہ مسیح ہی خدا ہیں، انھوں نے کفر کیا۔

    لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (المائدہ 5: 72)

    “اُن لوگوں نے بھی یقیناً کفر کیا ہے جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے، “

    یعنی مسیح علیہ السلام خدا ہی تھے، جو انسانی صورت میں ظاہر ہوئے۔ اِس اصول پر روحُ القدس، جبرائیل علیہ السلام بھی خدا کا جسدی ظہور اور خدا قرار پاتے ہیں۔

    سورہ اخلاص میں اللہ نے بتایا کہ نہ کوئی اس سے نکلا ہے اور نہ وہ کسی سے نکلا ہے۔ اس میں یہ شامل ہے کہ خدا اپنے مقام سے اتر کر کوئی دوسری صورت اختیار نہیں کرتا۔

  • ZAHRAN Ali

    Member July 31, 2026 at 3:14 pm

    جزاکم اللہ خیراً۔

    مگر استاذ ہندومت میں جو اوتار کا جو تصور پیش کیا جاتا ہے اسکا عقلی اور فلسفیانہ جواب کیا ہوگا کیونکہ یے تو ہم مانتے ہیں کہ قران خداوند کی آخری کتاب ہے۔مگر انکے پاس اپنے الگ دلائل ہیں تو اس تصور کا عقلی جواب کیا ہوگا گزارش ہے کہ عقلی اور فلسفیانہ رد بھی بیان فرما دیں، تاکہ اس حوالے سے میرے ذہن میں موجود اشکال اور وساوس دور ہو سکیں۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 2, 2026 at 11:53 pm

    ان کے پاس دلائل نہیں تخیل ہے۔ پھر اس تخیل کو ثابت کرنے کے لیے منطقی دلائل تراشے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ کیونکہ منطقی دلائل مزعومہ تصور سے لازمی ربط نہیں رکھتے۔ مثلا سورج مختلف آئینوں میں منعکس ہوتا ہے تو ایک ہی سورج کئی سورجوں میں متشکل نظر آتا ہے۔ اس لیے خدا بھی کوئی موجودات میں اپنا آپ منعکس کر سکتا ہے۔

    یہ دلیل نہیں ہے، دو مختلف چیزوں کو منطقی ربط سے منسلک کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ان پر اپنے دعوی کے ثبوت کا بوجھ ہے۔ مگر ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں ہے۔ ان کی کتب مستند نہیں اور تخیل کو دلائل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

  • ZAHRAN Ali

    Member August 3, 2026 at 3:55 pm

    بہت شکریہ ۔

You must be logged in to reply.
Login | Register