Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Epistemology And Philosophy عالم اسباب میں دعا اور انسانی سعی کا مقام۔ (Cause And Effect)

Tagged: 

  • عالم اسباب میں دعا اور انسانی سعی کا مقام۔ (Cause And Effect)

    Posted by ZAHRAN ALI KHAN Ali Khan on August 2, 2026 at 10:15 am

    میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ کائنات (Cause and effect)سبب اور نتیجہ کے اصولوں پر چل رہی ہے۔
    جہاں ہر کامیابی محنت، صحیح وقت اور حالات کی محتاج ہے—تو پھر اس سب میں ‘دعا’ کا کیا کام ہے؟
    اگر یہ کہا جائے کہ خدا انسان کو ‘توفیق’ (کام کرنے کا شوق یا صلاحیت) دیتا ہے، تو یہ توفیق، اچھی سوچ اور اچھا ماحول بھی تو انسان کی تربیت اور اس کے ارد گرد کے حالات ہی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
    ایسے میں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کام تو پورا میں نے کیا—اپنی محنت، اپنے وقت اور اپنی صلاحیت سے—تو پھر اس میں خدا کا کیا کردار ہے؟
    کیا انسان کی کامیابی صرف اس کی اپنی محنت اور ماحول کا نتیجہ ہے، یا دعا واقعی اس نظام میں نتائج کو بدلتی ہے؟ اسلام محنت،سبب اور نتیجہ اور انسان کی اپنی کوشش اور دعا کے درمیان کیا تعلق بتاتا ہے۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 9 hours, 36 minutes ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • عالم اسباب میں دعا اور انسانی سعی کا مقام۔ (Cause And Effect)

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 2, 2026 at 10:43 pm

    خدا نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جہاں اپنی حکمت کے مطابق چاہتا ہے، علت و معلول کی سمت بدل کر مطلوبہ نتائج پیدا کرتا ہے۔

    سورہ کہف میں موسی اور بندہ خدا کے قصے میں یہی بتایا گیا ہے۔ بچے کو قتل کرنا، کشتی کا نقصان پہنچانا اور گرتی ہوئی دیوار کو گرنے سے روکنا، خدا کی مداخلت سے ہوا۔ دعا میں خدا سے درخواست کرتے ہیں وہ اپنی مداخلت سے حالات کو ہمارے حق میں کر دے۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے وہ دعا قبول کر کے وہی نتیجہ ہمیں دے دیتا ہے اور اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہو کہ بعینہ وہی چیز فراہم نہ کی جائے تو وہ نہیں دیتا۔ تاہم، دونوں صورتوں میں انسان کا تعلق خدا سے قائم ہوتا ہے۔ چیز مل جائے تو شکر پیدا ہونا چاہیے اور نہ ملے تو خدا کی حکمت پر بھروسہ ہونا چاہیے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register