Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Epistemology And Philosophy صبر یا علمی جمود؟

  • صبر یا علمی جمود؟

    Posted by Faraz Anjum on August 11, 2026 at 7:31 pm

    قرآن ہمیں بار بار غور و فکر، تدبر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ اس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ اسلام دنیاوی علم، تحقیق اور ترقی کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ صبر کا فلسفہ بھی موجود ہے، جس سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ علم و ترقی کے باوجود انسانی زندگی میں کچھ حدود اور محدودیتیں بھی ہیں۔ ان حدود کا احترام کرتے ہوئے، جہاں ہماری بس ہو جائے، وہاں اللہ کی مشیت کو تسلیم کرتے ہوئے صبر کرنا بھی ضروری ہے۔

    لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہ رویہ رفتہ رفتہ ہماری علمی جستجو کی راہ میں رکاوٹ بننے لگے۔ ہم ہر نامعلوم چیز کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خدا کے سپرد کر کے مطمئن ہو جائیں کہ ’’یہ خدا کی مرضی ہے‘‘۔ یوں صبر ہماری کوشش کے بعد پیدا ہونے والی کیفیت کے بجائے کوشش سے گریز کا جواز بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر ہم کسی بیماری، جیسے کینسر، کو محض ’’خدا کی مرضی‘‘ سمجھ کر قبول کر لیں اور اس کے اسباب جاننے، تحقیق کرنے اور اس کا علاج دریافت کرنے کی زحمت ہی نہ کریں، تو یہ رویہ علمی ترقی کے لیے ایک رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے مذہبی معاشروں کی تاریخ نے بھی بعض مواقع پر ایسے رویوں کو جنم دیا ہے۔

    تو کیا اپنی انسانی محدودیتوں کو بہت جلد خدا کے سپرد کر دینا قابلِ مواخذہ رویہ قرار پائے گا، خاص طور پر جب یہ رویہ اسلام کے غلط فہم میں منتج ہو؟ جبکہ نیت تو یہی تھی کہ جہاں ہماری بس ہو جائے، وہاں خدا کی منشا کو سمجھ کر آگے بڑھا جائے، نہ کہ خدا سے لڑا جائے۔

    Faraz Anjum replied 3 hours, 41 minutes ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • صبر یا علمی جمود؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 13, 2026 at 12:02 am

    آپ کی بیان کردہ کوئی بھی چیز قرآن یا اسلام کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی اور نہ ہوئی ہے۔

    قرآن مجید دنیاوی علوم کے لیے غور و فکر کی دعوت نہیں دیتا۔ اس کا موضوع توحید اور آخرت پر استدلال کے لیے انفس و آفاق کی نشانیوں کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

    قرآن مجید میں صبر کا مفہوم استقامت اور مصائب جن پر انسان کا اختیار نہیں، ان میں خدا کے فیصلے پر بھروسہ رکھنا ہے۔

    تمام مسلم ممالک کی جامعات میں علم و تحقیق کے شعبے کھلے ہوئے ہیں۔ لاکھوں مسلمان سائنس کی تعلیم حاص کر رہے ہیں۔

    ان سب وسائل کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص بے عملی اختیار کرتا ہے تو یہ اس فرد کا مسئلہ ہے۔

  • Faraz Anjum

    Member August 13, 2026 at 1:16 am

    “مطلب یہ کہ کم عملی زیادہ سے زیادہ دنیاوی زوال کا سبب تو بن سکتی ہے، لیکن یہ آخرت میں پکڑ یا مواخذے کی چیز نہیں ہے؟ کیا میں نے اسے ٹھیک طور پر سمجھا ہے؟”

You must be logged in to reply.
Login | Register