-
صبر یا علمی جمود؟
قرآن ہمیں بار بار غور و فکر، تدبر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ اس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ اسلام دنیاوی علم، تحقیق اور ترقی کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ صبر کا فلسفہ بھی موجود ہے، جس سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ علم و ترقی کے باوجود انسانی زندگی میں کچھ حدود اور محدودیتیں بھی ہیں۔ ان حدود کا احترام کرتے ہوئے، جہاں ہماری بس ہو جائے، وہاں اللہ کی مشیت کو تسلیم کرتے ہوئے صبر کرنا بھی ضروری ہے۔
لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہ رویہ رفتہ رفتہ ہماری علمی جستجو کی راہ میں رکاوٹ بننے لگے۔ ہم ہر نامعلوم چیز کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خدا کے سپرد کر کے مطمئن ہو جائیں کہ ’’یہ خدا کی مرضی ہے‘‘۔ یوں صبر ہماری کوشش کے بعد پیدا ہونے والی کیفیت کے بجائے کوشش سے گریز کا جواز بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر ہم کسی بیماری، جیسے کینسر، کو محض ’’خدا کی مرضی‘‘ سمجھ کر قبول کر لیں اور اس کے اسباب جاننے، تحقیق کرنے اور اس کا علاج دریافت کرنے کی زحمت ہی نہ کریں، تو یہ رویہ علمی ترقی کے لیے ایک رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے مذہبی معاشروں کی تاریخ نے بھی بعض مواقع پر ایسے رویوں کو جنم دیا ہے۔
تو کیا اپنی انسانی محدودیتوں کو بہت جلد خدا کے سپرد کر دینا قابلِ مواخذہ رویہ قرار پائے گا، خاص طور پر جب یہ رویہ اسلام کے غلط فہم میں منتج ہو؟ جبکہ نیت تو یہی تھی کہ جہاں ہماری بس ہو جائے، وہاں خدا کی منشا کو سمجھ کر آگے بڑھا جائے، نہ کہ خدا سے لڑا جائے۔
Sponsor Ask Ghamidi