Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Epistemology And Philosophy WILL OF GOD

Tagged: , ,

  • Posted by ZAHRAN Ali on August 16, 2026 at 11:19 am

    السلام علیکم

    عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ ’’خداوند کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔‘‘ اگر خداوند کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں اتنا دکھ، اتنی بھوک اور اتنی مجبوری ہے وہ خداوند کی مرضی سے ہو رہی ہے۔

    وہ یہ سب دیکھ رہا ہے، اور اگر یہ سب اس کی مرضی سے ہو رہا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سب کچھ اس کی مرضی سے ہو رہا ہے تو پھر سزا مجھے کیوں ملے گی؟

    مثلاً افغانستان میں عورتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، یا جو قاتل لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں، تو اتنا سب کچھ اگر خداوند کی مرضی سے ہو رہا ہے، تو پھر ان اعمال کی ذمہ داری انسان پر کیوں عائد ہوگی؟ ہم تو یہ نہیں چاہیں گے کہ ہماری مرضی سے کوئی شخص قتل ہو، کسی شخص کے ساتھ زیادتی ہو یا کوئی شخص

    پریشان ہو۔


    کیا ایک مسلمان مرد اور عورت کا نکاح کسی Agnostic سے ہو سکتا ہے؟





    Dr. Irfan Shahzad replied 1 week ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • WILL OF GOD

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 17, 2026 at 12:33 am

    مرضی اور حکم میں فرق ہے۔ دنیا کو خدا نے آزمایش کے لیے پیدا کیا اور اس میں علت و معلول کا تعلق پیدا کیا اور انسان کو ارادہ دیا۔ اس نے یہ امکانات پیدا کر دیے کہ علت و معلول کے تعلق سے جو نتائج برپا ہوں وہ مثبت و تعمیری بھی ہو سکتے ہیں اور تخریبی بھی۔ اسی طرح ارادہ کے مثبت اور منفی استعمالات کے امکان بھی اس نے پیدا کیے۔ ان معنوں میں کہا جاتا ہے کہ جو بھی ہوتا ہے اسی کی مرضی سے ہوتا ہے کیونکہ اس کی مرضی یہی تھی کہ اس کے بنائے دائرے کے اندر سب آزادانہ ہوتا ہو۔

    ارادہ کے استعمال پر کوئی پابندی چونکہ نہیں، اس لیے اس کے اچھے یا برے استعمال کی ذمہ داری انسان پر ہے۔ اس کا ضمیر اسے بتاتا ہے کہ وہ اچھا کام کررہا ہے یا برا۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 17, 2026 at 12:33 am

    ہر سوال الگ پوسٹ میں پوچھیے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register