Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › Sources of Islam › سورۂ نور ٢٤:٤، “المحصنات” میں تغلیب اور اشتراکِ علت سے متعلق سوال

Tagged: ,

  • سورۂ نور ٢٤:٤، “المحصنات” میں تغلیب اور اشتراکِ علت سے متعلق سوال

    Posted by Muhammad Ahtesham Mubarak on August 17, 2026 at 2:12 am

    سورۂ نور کی آیت قذف (٢٤:٤) کے بارے میں میزان میں تحریر ہے (اور یہی استدلال غامدی صاحب نے سورہ نور کے درس کی ویڈیو نمبر ۵ میں فرمایا) کہ اگرچہ صرف عورتوں پر تہمت کا ذکر ہوا ہے، لیکن یہ عربی میں “علیٰ سبیل التغلیب” کا اسلوب ہے، اور اشتراکِ علت کی بنا پر یہ حکم مرد و عورت دونوں کے لیے عام ہے۔

    اس پر تین سوال ہیں:

    ١. تغلیب کا قاعدہ تو مذکر کا مؤنث پر ہے، “وَكَانتْ مِنَ الْقَانِتِينَ” (التحریم ٦٦:١٢) اور “لِي سَاجِدِين” (یوسف ١٢:٤) اسی کی مثالیں ہیں۔ اس کے برعکس جمعِ مؤنث سالم کا مردوں کو شامل کر لینا، اس کی کوئی نظیر قرآن یا کلامِ عرب میں مجھے نہیں مل سکی۔ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں کیوں کہ “المحصنات” قرآن میں جہاں بھی آیا ہے (النساء ٢٤، ٢٥؛ المائدہ ٥؛ النور ٤، ٢٣)، بظاہر عورتوں ہی کے لیے آیا ہے۔

    ٢. تغلیب اور اشتراکِ علت دو الگ نوعیت کے دعوے ہیں، پہلے کا تقاضا یہ ہے کہ مرد لفظ کے مدلول میں داخل ہیں،

    جبکہ دوسرے کا تقاضا ہے کہ وہ لفظ سے باہر ہیں اور حکم ان تک بڑھایا جا رہا ہے۔

    حکم کی اصل بنیاد ان میں سے کون سی ہے؟ غامدی صاحب نے میزان میں دونوں کا ذکر کیا لیکن میرے ناقص علم کے مطابق دونوں بنیادیں درج بالا اشکال کے سبب بیک وقت لاگو نہیں ہو سکتیں۔

    ۳ یہ حکم حدود میں سے ہے، کیا اس نوع کی توسیع “الحدود تدرأ بالشبهات” سے متصادم نہیں ہوتی؟

    براہِ کرم رہ نمائی فرمائیے! جزاک اللہ

    Dr. Irfan Shahzad replied 1 month, 2 weeks ago 2 Members · 8 Replies
  • 8 Replies
  • سورۂ نور ٢٤:٤، “المحصنات” میں تغلیب اور اشتراکِ علت سے متعلق سوال

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 17, 2026 at 2:35 am

    علی سبیل التغلیب کے اسلوب میں ایسی کوئی ممانعت نہیں کہ وہ اسی صورت میں ہوگی جب مردوں کا ذکر ہو اور عورتیں اس میں شامل سمجھی جائیں اور اس کے برعکس نہیں ہو سکتا۔

    قرآن مجید میں لونڈی کو بدکاری پر زنا کی نصف سزا بتائی گئی ہے، مگر اس میں غلام بھی شامل ہیں۔ یہاں بھی یہی اسلوب ہے۔

    ان دونوں مثالوں میں علت کا اشراک بھی موجود ہے۔ ایسا کوئی بھی لسانی عقلی یا منطقی قاعدہ نہیں کہ دونوں بیک وقت موجود نہیں ہو سکتے۔

    • Muhammad Ahtesham Mubarak

      Member August 17, 2026 at 4:28 am

      جزاک اللہ خیراً، آپ کی توجہ کا شکریہ، مزید کچھ گزارشات پیش کرتا ہوں:

      ١. آپ نے فرمایا کہ اس اسلوب میں ایسی کوئی ممانعت نہیں۔ لیکن فراہی مکتبِ فکر، جو “اسالیب القرآن” کی بنیاد ہے، یہ ہے کہ کسی اسلوب کا اثبات کلامِ عرب کے شواہد سے ہوتا ہے۔ “ممانعت نہیں” ایک عدمی دلیل ہے اس لیے میری گزارش وہی ہے: جمعِ مؤنث سالم کے مردوں کو شامل کرنے کی ایک نظیر قرآن یا کلامِ نزول سے عنایت فرما دیجیے۔ تغلیب کی معروف اقسام (مذکر پر مؤنث، عاقل پر غیرِ عاقل، حاضر پر غائب، اور القمران و العمران جیسی تسمیہ کی صورتیں) استقرا سے متعین ہیں؛ زیرِ بحث صورت ان میں شامل نہیں، اس لیے اسے ایک نئی قسم کے طور پر ثابت کرنا ہوگا۔

      ٢. آیت ٤:٢٥ کی مثال پر عرض ہے کہ نظم کے لحاظ سے وہ صورت مختلف ہے۔ وہاں پورا سیاق مرد کے لونڈی سے نکاح کا ہے، اس لیے “اُحصِنّ”، “اَتَین”، “علیهنّ” کی تمام ضمائر مؤنث ناگزیر ہیں، غلام اُس کلام کے مدلول میں بھی شامل ہی نہیں۔ یعنی وہاں کوئی جمعِ مؤنث کسی مخلوط گروہ کے لیے نہیں آئی، جیسا کہ “المحصنات” کے بارے میں دعویٰ ہے۔ اور اگر غلام کو وہاں شامل مانا جائے تو یہ اشتراکِ علت پر توسیع ہے، تغلیب نہیں۔ اس لیے یہ مثال میرے دوسرے سوال کی ہی کی تصدیق کرتی ہے۔

      ۳. میرا دوسرا سوال یہ نہیں تھا کہ تغلیب اور اشتراکِ علت بیک وقت “موجود” ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکم کا مدار کیا ہے۔ اگر مرد لفظ کے مدلول میں داخل ہیں تو علت محض قرینہ ہے، بنیاد نہیں۔ اور اگر وہ لفظ سے باہر ہیں اور حکم علت کی بنا پر ان تک بڑھایا جا رہا ہے، تو یہ قیاس ہے، اور میزان کے اصول و مبادی میں “قیاس” فہمِ دین کا ذریعہ ہے، شریعت کا مصدر نہیں۔ اس صورت میں ایک حد بغیر نص کے ثابت ہو رہی ہے۔ یہی اشکال ہے جس کی وضاحت مطلوب ہے۔

      ۴. تیسرا سوال میں فقہی قاعدے کے بجائے فراہی مکتبِ فکر کی اصطلاح میں یوں رکھتا ہوں: سزائیں اور حدود اسی حد تک ثابت ہیں جہاں تک نص ہے، اور دین میں اضافہ جائز نہیں۔ تو ایک حد کا دائرہ ایسے اسلوب کی بنیاد پر بڑھانا، جس کی نظیر پیش نہ ہو، کس اصول سے جائز ہوگا؟

      ۵. آخر میں عرض کروں کہ مجھے حکم سے اختلاف نہیں – اعتراض صرف استدلال پر ہے۔

      اگر میری تفہیم میں کوئی کوتاہی ہے تو ضرور اصلاح فرمائیے۔ جزاک اللہ خیراً۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 17, 2026 at 5:05 am

    یہ زبان کے اسالیب کو منطقی انداز سے سمجھنے کا انداز ہے جو درست نہیں۔

    علی سبیل التغلیب کا اسلوب ہر زبان ہی میں برتا جاتا ہے اور وہ اس کی ممانعت نہیں کہ وہ فقط مردوں کے لیے ہوگا اور عورتیں ضمنا اس میں شامل ہوں گی تو اس سے خود یہ طے ہے کہ اس کے برعکس صورت میں درست ہے۔

    ممانعت کے لیے دلیل درکار ہے نہ کہ اثبات کے لیے۔

    زبان کے فطری اسالیب میں یہی برتا جاتا ہے۔ کسی موقع پر یہ کہا جائے کہ عورتوں کو مردوں کے ساتھ اچھے سے نبھا کرنا چاہیے تو وہاں یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ ہدایت مردوں پر لاگو نہیں ہوگی لیکن یہ کہا جائے کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ اچھے سے نبھا کرنا چاہیے تو یہی حکم عورتوں پر لاگو سمجھا جائے گا۔ زبان اس طرح منطقی انداز مین نہیں چلتی۔

    قران مجید ہی سے مثال بھی میں نے فراہم کی ہے جس پر آپ کی توجہ شاید نہیں ہو سکی۔ لونڈی کے لیے زنا کی نصف سزا بیان ہوئی ہے۔ یہی نصف سزا غلام کے لیے بھی سمجھی جائے گی۔ یہاں علی سبیل التغلیب کا اسلوب بھی موجود ہے اور اشتراک علت بھی ہے۔

    • Muhammad Ahtesham Mubarak

      Member August 17, 2026 at 5:25 am

      جزاک اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ زبان منطقی انداز سے نہیں چلتی بالکل درست، لیکن “چونکہ ایک طرف جائز ہے، لہٰذا دوسری طرف بھی خود بخود طے ہے” یہ خود ایک منطقی قیاس ہے، لسانی دلیل نہیں۔

      مثلا اردو شاعری کی مثال پیش کرتا ہوں کہ جب

      غالب کہتے ہیں:

      تم مرے پاس ہوتے ہو گویا / جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

      یہاں صیغہ مذکر ہے، مگر محبوبہ مراد لی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس “تم مرے پاس ہوتی ہو” کہہ کر کسی مرد محبوب کو مراد لینا اہلِ زبان کے ہاں ممکن نہیں۔ باذوق سماعت اسے قبول نہیں کرتا۔ یعنی یہ یک طرفہ پن کوئی منطقی حکم نہیں، خود زبان کا فطری مزاج ہے: مذکر صیغہ اصل و غیر مقید ہے، اس لیے عام ہو جاتا ہے؛ مؤنث مقید ہے، اس لیے صرف اُسی وقت چلتا ہے جب مدلول واقعی مؤنث ہو۔

      اور آپ کی اردو مثال میں مرد اس لیے شامل ہیں کہ علت مشترک و متبادل ہے، اس لیے نہیں کہ لفظ “عورتوں” مردوں پر دلالت کر رہا ہے، نیز وہاں دونوں فریق الگ الگ مذکور ہیں۔

      بہرحال، قرآن کے حوالے سے دلیل اردو سے نہیں، کلامِ عرب سے ہونی چاہیے – یہ میں مانتا ہوں۔ اسی لیے گزارش وہی ہے: جمعِ مؤنث سالم کے مردوں پر دلالت کرنے کی ایک نظیر عنایت فرما دیجیے۔

      اور اصل سوال بہرحال باقی ہے، جو لسانی نہیں اصولی ہے: مرد لفظ کے مدلول میں داخل ہیں (دلالتِ نص)، یا علت کی بنا پر حکم ان تک بڑھایا جا رہا ہے (قیاس)؟ میزان کے اصولوں میں قیاس مصدرِ شریعت نہیں، اور حد نص ہی سے ثابت ہوتی ہے۔

      جزاک اللہ خیراً۔

  • Muhammad Ahtesham Mubarak

    Member August 17, 2026 at 5:38 am

    تصحیح: شعر مومن کا ہے۔

    -باذوق سماعت اسے قبول نہیں کرتی*

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 18, 2026 at 12:39 am

    زبان کے عمومی قاعدے ہر زبان میں یکساں ہوتے ہیں۔ اس لیے فقط عربی زبان سے مثالوں پر اصرار غیر ضروری ہے۔

    آپ کی اور میری زبان کی تھیوری مختلف ہے۔ میں نے اپنے نظریے کے مطابق مثال بھی فراہم کر دی ہے۔ چونکہ میں آپ کی تھیوری سے اتفاق نہیں رکھتا اس لیے اس موضوع پر مزید گفتگو تب تک ممکن نہیں جب تک زبان کی تھیوری پر اختلاف قائم ہے۔

    • Muhammad Ahtesham Mubarak

      Member August 18, 2026 at 6:13 am

      جزاک اللہ خیراً۔ آپ نے وقت دیا، میں شکرگزار ہوں۔ اختتام پر صرف دو گزارشات، بحث بڑھانے کے لیے نہیں، ریکارڈ کے لیے:

      اول: اگر زبان کے عمومی قاعدے ہر زبان میں یکساں ہیں تو پھر میری اردو مثال بھی اسی معیار پر قابلِ قبول ہونی چاہیے، کیونکہ اردو کی مثال گفتگو میں آپ ہی نے پہلے پیش کی تھی۔ اور اگر عربی سے نظیر لانا غیر ضروری ہے، تو پھر “اسالیبِ قرآن” کی پوری بنیاد، یعنی یہ کہ اسالیب کلامِ عرب کے استقرا سے متعین ہوتے ہیں، اور یہ اصول کہ قرآن کو اُس کے اولین مخاطبین کی زبان کے مطابق سمجھا جائے، محلِ نظر ہو جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی مراد یہ نہیں ہوگی۔

      اور جو بات میں نے عرض کی (مذکر اصل، مؤنث فرع) وہ میری کوئی ذاتی “تھیوری” نہیں، کلاسیکی نحو کا معروف اصول ہے۔ اور نظیر کا مطالبہ بذاتِ خود کوئی تھیوری نہیں، اسی مکتب کا منہج ہے۔

      دوم: میرا اصل سوال لسانی تھا ہی نہیں، اصولی تھا، اور وہ زبان کے کسی بھی نظریے کے تحت باقی رہتا ہے: مرد لفظ کے مدلول میں داخل ہیں (دلالتِ نص)، یا حکم علت کی بنا پر ان تک بڑھایا جا رہا ہے (قیاس)؟ کیونکہ میزان کے اصول میں قیاس مصدرِ شریعت نہیں، اور حد نص ہی سے ثابت ہوتی ہے۔

      بہرحال، آپ کی رائے کا احترام ہے اور مجھے اپنی کم علمی کا بھی احساس ہے۔ اگر کبھی مناسب سمجھیں تو اس دوسرے سوال پر رہ نمائی فرما دیجیے گا۔ اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت دے۔ جزاک اللہ خیراً۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 18, 2026 at 11:10 pm

    علت کے اشترا کی بنیاد پر حکم اصل سے فرع پر لاگو ہوتا ہے۔ یہاں قیاس مصدر شریعت نہیں،، وہ ذریعہ ہے جس سے ایک اصل حکم اشتراک علت کی بنا پر دوسری صورت پرلاگو کیا جاتا ہے، چاہے وہ معاملہ حد کا ہو۔ حد بھی حکم ہے اور اشتراک علت کی بنا پر اسے دوسری صورت پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register