-
**سیاسی نااہلی اور امیدوار کی آئینی اہلیت**
غامدی صاحب اکثر یہ فرماتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کی قانونی بنیادوں پر نااہلی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان کی اہلیت یا نااہلی کا فیصلہ قوم کو انتخابات کے ذریعے کرنا چاہیے۔ اس اصول کو سمجھنے کے حوالے سے میرے ذہن میں ایک سوال ہے، جس پر رہنمائی درکار ہے۔
کیا اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آئین و قانون میں کسی شخص کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مقرر کردہ کم از کم شرائط بھی قانونی طور پر نافذ نہیں ہونی چاہییں؟ کیونکہ بعض شرائط ایسی ہو سکتی ہیں جن کی جانچ عام ووٹر کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ مثلاً:
۱۔ اگر کسی امیدوار کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت مقرر ہو، تو عام لوگ خود اس بات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ امیدوار کی اسناد درست اور مطلوبہ معیار کے مطابق ہیں۔ کیا ایسی صورت میں عوام کے انتخاب سے پہلے قانون کے ذریعے اس شرط کی جانچ اور نفاذ ضروری نہیں ہوگا؟
۲۔ اسی طرح اگر آئین امیدوار کے لیے کم از کم عمر مقرر کرتا ہے تو اس کی باقاعدہ تصدیق بھی عوامی رائے سے نہیں، بلکہ متعلقہ قانونی اور سرکاری ریکارڈ سے ہی ہو سکتی ہے۔ تو کیا اس بنیاد پر کسی شخص کو انتخاب میں حصہ لینے سے روکنا درست ہوگا؟
۳۔ اسی طرح اگر آئین و قانون یہ شرط عائد کرے کہ امیدوار اپنے اثاثے مکمل طور پر ظاہر کرے اور اس کے اثاثے اس کے معلوم اور جائز ذرائع آمدن سے مطابقت رکھتے ہوں، تو اس کی حقیقت بھی عام ووٹر خود نہیں جانچ سکتا۔ اس کے لیے بھی متعلقہ اداروں اور قانونی طریقۂ کار کی ضرورت ہوگی۔ تو کیا اس بنیاد پر کسی امیدوار کی اہلیت جانچنا یا اسے نااہل قرار دینا اصولاً غلط ہوگا؟
میرا اصل سوال یہ ہے کہ اگر انتخابات میں حصہ لینے سے پہلے امیدوار کی عمر، تعلیمی قابلیت، مالی معاملات اور دیگر مقررہ شرائط کی قانونی جانچ کو تسلیم کیا جائے، تو پھر اصولی طور پر حد کہاں قائم کی جائے گی؟
ان شرائط کو ’’صادق و امین‘‘ کا عنوان دیا جائے یا کوئی دوسرا نام، کیا بنیادی اصول یہی نہیں رہتا کہ عوام کے سامنے انتخاب کے لیے آنے سے پہلے امیدوار کا متعلقہ ریکارڈ، عمر، قابلیت اور مالی معاملات قانون میں طے شدہ کم از کم معیار پر پورے اترتے ہوں؟
ممکن ہے میں غامدی صاحب کے موقف کو پوری طرح نہ سمجھ پایا ہوں، اس لیے اس نکتے کی وضاحت اور اصلاح کا طالب ہوں۔
Sponsor Ask Ghamidi