Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › General Discussions › Karma, Moksha, And Divine Justice: An Islamic Perspective

  • Karma, Moksha, And Divine Justice: An Islamic Perspective

    Posted by ZAHRAN Ali on September 1, 2026 at 6:28 am

    “ہندو مت کا عقیدۂ تناسخ (7 جنم/بار بار جنم) اور مُکش یہ فلسفہ پیش کرتا ہے کہ انسان اپنے پچھلے جنموں کے ‘کرم’ کا حساب پورا کرنے کے لیے بار بار پیدا ہوتا ہے، اور بالاخر جب روح پاک ہو جاتی ہے تو وہ خدا (برہمن) میں حل ہو کر اپنی الگ پہچان ہی ختم کر دیتی (مُکش حاصل کر لیتی) ہے۔اسلامی فلسفۂ اخلاق اور توحید کی روشنی میں ہم اس عقیدے کا کیا عقلی اور شرعی جواب دے سکتے ہیں؟

    عقلی اور اخلاقی لحاظ سے کون سا تصور زیادہ عادلانہ ہے؟ وہ جہاں سزا کا مقصد اسی دنیا میں دوبارہ جنم دے کر سدھارنا ہے، یا وہ جہاں دنیا صرف ایک بار کا امتحان ہے اور اس کا حتمی اور ابدی نتیجہ آخرت میں نکلتا ہے؟

    اگر گناہوں کی سزا اسی دنیا میں نیا جنم لے کر ملنی ہے، تو انسان کے اندر گناہ کا خوف اور اخلاقی سدھار زیادہ ہوگا، یا اس عقیدے میں جہاں ایک ہی زندگی کی بنیاد پر ابدی کامیابی یا ابدی ناکامی کا فیصلہ ہونا ہے؟”

    براہ کرم اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائے۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 1 day, 7 hours ago 2 Members · 5 Replies
  • 5 Replies
  • Karma, Moksha, And Divine Justice: An Islamic Perspective

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 2, 2026 at 12:00 am

    ہندو عقیدے کے مطابق، ہر نئے جنم میں گزشتہ جنم کی کوئی یاد نہیں ہوتی، اس لیے عملا ہر فرد کے لیے موجود امتحان ہی اس کا پہلا اور اخری امتحان ہوتا ہے، اس لحاظ سے دونوں برابر ہیں۔ ہندو تصور سزا و جزا میں اعمال کا صلہ اچھی یا بری شکل وجود پانے کی صورت میں ملتا ہے اور پھر آدمی مر جاتا ہے۔ اس تصور میں ابدی سزا اور ابدی جزا کا تصور نہیں۔ اچھی حالت میں ہوں گے تو بھی کچھ عرصے بعد دوبارہ امتحان سے گزرنا ہوگا۔

    سات جنم محاورہ ہے، اصل میں یہ نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

    یہ مشکل تصور ہے۔

    اس کے برعکس اسلامی تصور جزا و سزا میں انسان کا فیصلہ خدا کی عدالت میں ہوگا۔ سزا فقط اسے ہی ملے گی جس کے پاس اپنے جرائم کا کوئی عذر نہ ہوگا۔ اس نے پورے شعور سے اچھائی یا برائی کی ہوگی۔ ایسا امتحان ایک بار ہی کافی ہے۔

  • ZAHRAN Ali

    Member September 22, 2026 at 11:52 am

    انسان کے لیے صرف ایک ہی زندگی اور ایک ہی آخری فیصلہ منطقی طور پر ضروری ہے؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 23, 2026 at 4:14 am

    جی ہاں ایک ہی کافی ہے۔

  • ZAHRAN Ali

    Member October 3, 2026 at 9:48 am

    استاد اس کا دعویٰ تو ہم کر رہے ہیں کہ ایک ہی کافی ہے۔

    نہیںdoctrinal absolutism استاد کیا یہ

    ہے؟ کہ ہم اپنے ہی عقیدے کو درست سمجھ رہے ہوں ؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar October 3, 2026 at 11:57 pm

    آپ اپنی رائے خود تجزیہ کر کے اختیار کر کیجیے۔ میری نظر میں ایک امتحان کافی ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register