-
Karma, Moksha, And Divine Justice: An Islamic Perspective
“ہندو مت کا عقیدۂ تناسخ (7 جنم/بار بار جنم) اور مُکش یہ فلسفہ پیش کرتا ہے کہ انسان اپنے پچھلے جنموں کے ‘کرم’ کا حساب پورا کرنے کے لیے بار بار پیدا ہوتا ہے، اور بالاخر جب روح پاک ہو جاتی ہے تو وہ خدا (برہمن) میں حل ہو کر اپنی الگ پہچان ہی ختم کر دیتی (مُکش حاصل کر لیتی) ہے۔اسلامی فلسفۂ اخلاق اور توحید کی روشنی میں ہم اس عقیدے کا کیا عقلی اور شرعی جواب دے سکتے ہیں؟
عقلی اور اخلاقی لحاظ سے کون سا تصور زیادہ عادلانہ ہے؟ وہ جہاں سزا کا مقصد اسی دنیا میں دوبارہ جنم دے کر سدھارنا ہے، یا وہ جہاں دنیا صرف ایک بار کا امتحان ہے اور اس کا حتمی اور ابدی نتیجہ آخرت میں نکلتا ہے؟
اگر گناہوں کی سزا اسی دنیا میں نیا جنم لے کر ملنی ہے، تو انسان کے اندر گناہ کا خوف اور اخلاقی سدھار زیادہ ہوگا، یا اس عقیدے میں جہاں ایک ہی زندگی کی بنیاد پر ابدی کامیابی یا ابدی ناکامی کا فیصلہ ہونا ہے؟”
براہ کرم اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائے۔
Sponsor Ask Ghamidi