-
خدا: عقل یا قیاس؟”
السلام علیکم ۔
کیا ہم خدا کے وجود کو محض اندازے کی بنیاد
پر مانتے ہیں؟ کیونکہ عقل تو یہ ثابت کرتی ہے کہ اس کائنات کو کسی خالق نے وجود دیا ہے، مگر اس کے بعد خدا کی ذات، صفات اور اس سے متعلق جو تصور قائم کیا جاتا ہے، کیا وہ اندازے کی بنیاد پر ہوتا ہے؟
یعنی خدا کے وجود کو ماننے کی بنیاد عقل اور منطقی استدلال ہے، جبکہ خدا کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں ہمارا تصور زیادہ تر اندازے اور قیاس پر قائم ہوتا ہے؟ یعنی اگر عقل ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مدد دیتی ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہونا چاہیے، تو کیا اس خالق کی حقیقت، اس کی صفات اور اس کی نوعیت کے بارے میں آگے بڑھ کر جو تصورات ہم قائم کرتے ہیں، وہ بھی عقلی دلائل سے ثابت ہوتے ہیں یا محض قیاس و اندازے پر مبنی ہوتے ہیں؟
Sponsor Ask Ghamidi