-
معلومات و علم سے حکمت و بصیرت
آج کا انسان تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں معلومات کے ایک بے مثال سمندر میں زندگی گزار رہا ہے۔ تقریباً ہر دینی، علمی، اخلاقی، سائنسی، معاشرتی اور عملی موضوع کے بارے میں بے شمار معلومات چند لمحوں میں حاصل کی جا سکتی ہیں؛ لیکن اس کے باوجود یہ ایک نہایت اہم فکری سوال ہے کہ معلومات اور علم کی اس کثرت کے باوجود علم انسان کے کردار، عمل، فیصلوں اور روزمرہ زندگی کا حقیقی حصہ کیوں نہیں بن پاتا؟
معلومات، علم، فہم، عمل، حکمت اور بصیرت میں حقیقی فرق کیا ہے؟ وہ کون سی بنیادی رکاوٹیں ہیں جو انسان کو معلوم چیز پر عمل کرنے سے روکتی ہیں؟ اور علم کو محض ذہنی ذخیرے سے نکال کر قلب و کردار اور عملی زندگی کی کیفیت بنانے کے لیے کیا ضروری ہے؟
قرآنِ مجید، احادیثِ نبوی ﷺ، سیرتِ طیبہ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں کی روشنی میں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے پاس موجود معلومات کے ذرائع آج کے مقابلے میں نہایت محدود تھے، لیکن ان کے علم میں فہم، اخلاص، عمل، حکمت اور بصیرت کی وہ گہرائی کیسے پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ان کا علم ان کی زندگیوں میں نمایاں نظر آتا تھا
حکمت کی جڑیں کیا ہیں؟ بصیرت کن باطنی و ظاہری اسباب سے پیدا ہوتی ہے؟ علم کب حکمت بنتا ہے، اور عمل کس طرح علم کو بصیرت میں تبدیل کرتا ہے؟
اور اگر ایک انسان اپنی پوری زندگی کے دینی، اخلاقی، خاندانی، معاشرتی، تعلیمی، مالی اور دیگر معاملات میں حکمت و بصیرت حاصل کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا اور استعانت کے ساتھ اسے اپنی فکر، نیت، قلب، اخلاق، مطالعہ، صحبت، مشاہدہ، تجربہ، خود احتسابی اور عمل میں کن بنیادی اصولوں کو اختیار کرنا چاہیے؟
قرآن و سنت اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں وہ جامع منہج کیا ہے جس کے ذریعے انسان معلومات کے انبار سے نکل کر حقیقی علم، علم سے عمل، عمل سے حکمت، اور حکمت سے بصیرت تک پہنچ سکے—اور اس بصیرت کو اپنی پوری زندگی کے فیصلوں، تعلقات، کردار اور طرزِ زندگی میں عملاً ظاہر کر سکے
Sponsor Ask Ghamidi