Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home Forums General Discussions عیسائی مرد اور مسلمان عورت کے مشروط معاہدہ نکاح میں منطقی اور عقلی قباحت؟

  • عیسائی مرد اور مسلمان عورت کے مشروط معاہدہ نکاح میں منطقی اور عقلی قباحت؟

    Posted by Mehmood ul Hassan Aalami on September 13, 2026 at 7:59 am

    اسلام علیکم و رحمہ اللہ!

    اگر ایک پاک دامن عیسائی مرد اور مسلمان عورت کے نکاح کے معاہدے میں یہ بات متعین ہو کہ دونوں ایک دوسرے کے مذہبی معاملات، عبادات اور عقائد میں عدم مداخلت، آزادی عمل و فکر اور امن و امان کے اصول قائم رکھے گئے ۔نیز پیدائش اولاد کے نتیجے میں شعوری پختگی کی عمر سے قبل اولاد کو صرف انھی مذہبی باتوں کی تعلیم دی جائے گی کہ جو دونوں میں مشترک ، غیر اختلافی اور متفقہ ہیں۔ جبکہ شعوری پختگی کے بعد اولاد کو مذہب کے انتحاب میں مکمل آزادی ہے تو منطقی اور عقلی طور پر اس نکاح میں کیا قباحت ہے؟

    (اگر ممکن ہو سکے تو یہ سوال محترم استاد غامدی صاحب کی بارگاہِ علم تک پہنچا کر جواب عنایت فرما دیجئے۔جزاک اللہ)

    طالب علم :
    محمود الحسن عالمیٓ

    Dr. Irfan Shahzad replied 4 days, 10 hours ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • عیسائی مرد اور مسلمان عورت کے مشروط معاہدہ نکاح میں منطقی اور عقلی قباحت؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 14, 2026 at 2:41 am

    پہلی بات یہ ہے کہ مشرکین سے نکاح کی ممانعت کی گئی تو سوال پیدا ہوا کہ مسیحی بھی شرک کرتے ہیں تو کیا ان سے بھی نکاح حرام ہے۔ اس پر اللہ نے استثنا دیتے ہوئے ذکر کیا کہ اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان مرد نکاح کر سکتے ہیں۔ یہ اجازت آگے نہیں بڑھائی گئی۔ اجازت جتنی ہو اتنی ہی رہتی ہے، اسے وسیع نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اہل کتاب مردوں سے مسلمان عورتوں کا نکاح ممنوع ہے۔ یہ سوال اس لیے پیدا ہی نہیں ہوتا کہ بچوں کا معاملہ کیا ہوگا۔ یہ نکاح ممنوع ہے جس کو جائز کرنے کے لیے کوئی دلیل میسر نہیں۔

    رہا یہ معاملہ بچوں پر کوئی پابندی نہ ہوگی کہ وہ کون سا دین قبول کرتے ہیں تو اسلام مین یہ پابندی کو کسی کے لیے بھی نہیں کہ وہ کون سا دین قبول کرتا ہے۔

    نکاح میں جہاں ذہنی اور طبعی ہم آہنگی تک دیکھی جاتی ہے، وہاں مذہبی ہم آہنگی کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

    یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب خواتین سے مسلم مردوں کے نکاح کو بھی اچھان نہیں سمجھاجاتا ۔ اور اللہ تعالی نے جب اس کی اجازت دی تو ساتھ نبیہ بھی کی:

    وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

    مسلمان عورت کے اہل کتاب مرد سے نکاح کرنے میں مرد کے ماحول کی اثر اندازی زیادہ ہو جاتی ہے۔ چاہے مرد خود کوئی زور نہ دے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register