Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › General Discussions › The Group Closer To Truth In Mushajrat, According To The Holy Prophet

  • The Group Closer To Truth In Mushajrat, According To The Holy Prophet

    Posted by Shaharyar Sabeeh on September 23, 2026 at 4:24 am

    Assalamualaikum!

    1. It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

    “A group will secede at a time of division among the people, and they will be killed by the group that is closer to the truth.”

    2. Abu Sa’id al-Khudri reported from the Messenger of Allah (ﷺ) that a group (Khawarij) would emerge from the different parties (the party of Hadrat ‘Ali and the party of Amir Mu’awiya), the group nearer the truth between the two would kill them.

    Reference: Sahih Muslim, Book 12, Hadith 197 and 198 on Sunnah.com

    کیا ان دونوں روایات سے حضرت علی رض کا حق پر ثابت ہونا ثابت نہیں ہوجاتا؟

    تاریخی کتب جنمیں ہر طرح کی روایات ہوتی ہیں سے بہتر صحیح مسلم سے معاملے کو سمجھنا نہیں؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 days, 16 hours ago 2 Members · 7 Replies
  • 7 Replies
  • The Group Closer To Truth In Mushajrat, According To The Holy Prophet

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 23, 2026 at 11:18 pm

    یہ خوارج ہی تھے جنھوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا تھا۔ پھر انھوں نے ہی حضرت علی کو بھی شہید کیا۔

    حضرت معاویہ انھیں کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے جو انھیں حضرت علی نہیں دے رہے تھے۔

    ان کے خلاف سب سے پہلی لڑائی حضرت طلحہ و زبیر نے کی تھی۔ یہ بصرہ میں ہوئی تھی۔ وہاں جتنے خوارج تھے سب مارے گئے تھے سوائے حرقوص بن زہیر کے۔

    ان کے خلاف دوسری جنگ حضرت معاویہ نے صفین میں کی۔ ان کے خلاف تیسری جنگ حضرت علی کو کرنا پڑی جب انھوں نے حضرت علی سے بھی بغاوت کی۔

    اس کے بعد ان کے خلاف بنو امیہ نے اپنے پورے دور حکومت میں جنگ جاری رکھی۔ اس میں حجاج بن یوسف اور مہلب بن ابی صفرہ کا نام نمایاں ہیں۔

  • Shaharyar Sabeeh

    Member September 25, 2026 at 9:15 am

    یہ بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔

    خوارج سے مراد عموماً وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت علی رض کے گروہ سے بغاوت کی اور الگ جاکر بس گئے۔

    انکے خلاف حضرت علی نے قتال کیا۔

    حضرت معاویہ رض اور حضرت طلحہ و زبیر رض تو باقاعدہ حضرت علی کے مقابلے میں آئے تاکہ شیعان علی سے لڑائی کر کے حضرت عثمان رض کی شہادت کا بدلہ یا قصاص لیا جائے۔

    اور حدیث میں مکمل واضح ہے کہ دو گروہوں کے اختلاف کے وقت ایک اور گروہ نکلے گا۔

    اس سے واضح ہے کہ یہاں حضرت علی اور حضرت معاویہ کے اختلاف کا ذکر ہے جب تیسرا گروہ خوارج کا نکلا اور دونوں میں سے ایک گروہ نے اُنکے خلاف قتال کیا۔

  • Shaharyar Sabeeh

    Member September 25, 2026 at 12:24 pm

    https://www.islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=2&hadith_number=2456

    اس روایت میں حضرت ابو سعید خدری رض کے فرمان نے بات مکمل واضح کردی ۔
    حق کے زیادہ قریب سے اشارہ حضرت علی رض کے گروہ کی طرف ہے

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 28, 2026 at 12:27 am

    خوارج کا نام بعد میں پڑا۔ رسول اللہ نے ان کی فتنہ و فساد کی طرف اشارہ کیا تھا، ان کا نام نہیں لیا۔ ان کا فتنہ و فساد قتل عثمان سے شروع ہو گیا تھا۔ ان کے خلاف لڑنے والا ہر گروہ اس حدیث کا مصداق ہے۔

    حضرت طلحہ و زبیر اور حضرت معاویہ میں سے کوئی بھی حضرت علی کے مقابل نہین آیا۔ طلحہ و زبیر کا اعلان ہی یہی تھا کہ وہ فقط قاتلین عثمان کو قتل کرنے جا رہے ہین اور انھوں نے بصرہ پر حملہ کیا تھا۔ حضرت علی ان کے راستے میں آئے نہ وہ طلحہ و زبیر علی کے سامنے آئے۔

    یہی معاملہ حضرت معاویہ کاتھا ۔حضرت علی قاتلین عثمان کے ساتھ معاویہ پر حملہ آور ہوئے نہ کہ معاویہ علی پرحمل آور ہوئے۔

    اس روایت کے آخر میں ابو سعید خدری اپنی تاثر نقل کر رہے ہیں وہ حدیث کا حصہ نہیں۔

    اس فسادی گروہ کے خلاف حضرت علی نے جو جنگ کی اس میں ان کا حصہ ہے اور ان کے خلاف دوسروں نے جو جنگ کی وہ حصہ ان کا ہے۔

    • Shaharyar Sabeeh

      Member September 30, 2026 at 8:04 am

      :پہلا سوال

      پھر وہ دو الگ الگ گروہ کونسے ہیں جن کے درمیان سے تیسرا گروہ نکلا؟

      :دوسرا

      اور اُن دو گروہ میں سے حق کے زیادہ قریب کونسا اور کس لحاظ سے ہوا؟

      :تیسرا۔

      حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

      متن: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا ٹوٹ گیا تھا (یا تسبیح/تسمہ ٹوٹا تھا)، جسے ٹھیک کرنے کے لیے آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا:«إن منكم من يقاتل على تأويل القرآن كما قاتلت على تنزيله»

      (“بے شک تم میں ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل پر ایسے جنگ کرے گا جیسے میں نے اس کے تنزیل (نزول) پر جنگ کی۔”)

      https://dorar.net/h/7quChA3n?osoul=1&utm_source=chatgpt.com

      اسپر آپکی کیا رائے ہے ؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 28, 2026 at 12:29 am

    ابو سعید خدری کا حضرت علی کے ساتھ ہونا ثابت نہیں۔ اس لیے آخر کی بات کوفی راویوں کا اضافہ معلوم ہوتا ہے۔

    اس راوی کوفی ہیں۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 30, 2026 at 11:34 pm

    روایت میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں میں افتراق کے وقت ایک گروہ نکلے گا۔ نہ کہ دو گروہوں کے افتراق کے وقت۔

    جو گروہ نکلا وہ پہلی بار حضرت عثمان کے عہد میں نکلا تھا نہ کہ حضرت علی کے عہد میں۔

    جس نے ان سے قتال کیا وہ پہلے طلحہ و زبیر تھے اور پھر معاویہ تھے، پھر علی تھے اور ان کے بعد بنو امیہ تھے۔

    بعض طرق میں حق سے زیادہ قریب کے الفاظ ہیں اور بعض میں نہیں ہیں۔

    اس روایت کے تمام ابتدائی راوی کوفی ہیں۔ آپ کو سیاسی تنازعات کی تمام روایتوں میں یہ خصوصیت ملتی ہے کہ وہ کوفی راویوں سے آئی ہیں، مدنی راوی انھیں اصلا بیان نہیں کرتے۔

    دوسری خصوصیت ان روایات کی یہ ہے کہ معنعن ہیں یعنی براہ سن کر ایک راوی دوسرے سے بیان نہیں کرتا۔ ایسی روایات ضروری ہیں متصل ہوں، درمیان میں مجہول راوی کا ہونا ممکن ہوتا ہے۔

    تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صحابہ نے ان روایتوں کی بنیاد پر اپنے دور میں حق و باطل کا فیصلہ نہیں کیا۔

You must be logged in to reply.
Login | Register