-
کیا ہر چیز جوڑا جوڑا ہے
قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے:
وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ
“اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے۔” (الذاریات: 49)دوسری طرف آج ہمیں بہت سی ایسی چیزیں ملتی ہیں جن کا بظاہر کوئی جوڑا نہیں، مثلاً بعض ایسے جاندار جو غیر جنسی طریقے سے افزائشِ نسل کرتے ہیں، اور انسانوں میں بھی بعض intersex صورتیں پائی جاتی ہیں۔
میں نے ایک ویڈیو میں غامدی صاحب کو اس آیت کے بارے میں یہ کہتے سنا کہ یہ صرف توجہ دلانے کے لیے ایک عمومی اندازِ بیان ہے، اور اللہ تعالیٰ اس طرح بات کرتا ہے وغیرہ۔
لیکن قرآن خود اپنی الہامی حیثیت کے لیے ایک معیار بتاتا ہے کہ اس کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہو سکتی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر آیت میں “مِن كُلِّ شَيْءٍ” (ہر چیز) کہا گیا ہے تو کیا ہم اسے صرف ایک عمومی یا توجہ دلانے والا اسلوب کہہ کر بعض چیزوں کو اس سے خارج کر سکتے ہیں؟
زبان و بیان کے ہر پیمانے سے دیکھیں تو آیت کا مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز، ہر تخلیق جوڑا جوڑا ہے، بغیر کسی استثناء کے۔
اور اگر کسی لغوی یا تفسیری اصول کی بنیاد پر استثناء نکالا جا سکتا ہے، تو پھر اس کی واضح بنیاد کیا ہے؟ کیونکہ آیت تو خود اپنے استدلال میں اس عموم کو پیش کر رہی ہے۔
یہاں اصل سوال یہی ہے کہ “ہر چیز کے جوڑے” سے قرآن کی مراد کیا ہے، اور اس عموم میں بظاہر موجود استثناءات کو کیسے سمجھا جائے؟
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.