Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › General Discussions › کیا ہر چیز جوڑا جوڑا ہے

  • کیا ہر چیز جوڑا جوڑا ہے

    Posted by Umair Zafar on September 29, 2026 at 3:42 am

    قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے:

    وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ
    “اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے۔” (الذاریات: 49)

    دوسری طرف آج ہمیں بہت سی ایسی چیزیں ملتی ہیں جن کا بظاہر کوئی جوڑا نہیں، مثلاً بعض ایسے جاندار جو غیر جنسی طریقے سے افزائشِ نسل کرتے ہیں، اور انسانوں میں بھی بعض intersex صورتیں پائی جاتی ہیں۔

    میں نے ایک ویڈیو میں غامدی صاحب کو اس آیت کے بارے میں یہ کہتے سنا کہ یہ صرف توجہ دلانے کے لیے ایک عمومی اندازِ بیان ہے، اور اللہ تعالیٰ اس طرح بات کرتا ہے وغیرہ۔

    لیکن قرآن خود اپنی الہامی حیثیت کے لیے ایک معیار بتاتا ہے کہ اس کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہو سکتی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر آیت میں “مِن كُلِّ شَيْءٍ” (ہر چیز) کہا گیا ہے تو کیا ہم اسے صرف ایک عمومی یا توجہ دلانے والا اسلوب کہہ کر بعض چیزوں کو اس سے خارج کر سکتے ہیں؟

    زبان و بیان کے ہر پیمانے سے دیکھیں تو آیت کا مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز، ہر تخلیق جوڑا جوڑا ہے، بغیر کسی استثناء کے۔

    اور اگر کسی لغوی یا تفسیری اصول کی بنیاد پر استثناء نکالا جا سکتا ہے، تو پھر اس کی واضح بنیاد کیا ہے؟ کیونکہ آیت تو خود اپنے استدلال میں اس عموم کو پیش کر رہی ہے۔

    یہاں اصل سوال یہی ہے کہ “ہر چیز کے جوڑے” سے قرآن کی مراد کیا ہے، اور اس عموم میں بظاہر موجود استثناءات کو کیسے سمجھا جائے؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 4 days, 7 hours ago 2 Members · 6 Replies
  • 6 Replies
  • کیا ہر چیز جوڑا جوڑا ہے

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 29, 2026 at 10:57 pm

    کوئی بھی مطلق کلام سو فیصد مطلق نہیں ہوتا۔ مخاطب اور ماحول کے لحاظ ہی سے بات کی جاتی ہے۔ جیسے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں لکھا ہوتا ہے کہ یہاں ہر چیز سستے داموں دستیاب ہے۔

    چونکہ یہ ایک خاص تناظر میں ہے اس لیے ہم سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں وہی چیزیں مراد ہیں جو عام طور پر ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں دستیاب ہوتی ہیں، نہ کہ دنیا بھر کی چیزیں۔

    قرآن مجید یہاں مخاطبین پر حجت تمام کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ انھیں کے علم اور مشاہدہ کی چیزوں کو محل استدلال بناتا ہے۔ اس لیے ہر جیز سے مراد وہیں چیزیں ہیں جو مخاطب کے علم میں ہیں۔ چنانچہ یہاں ہر چیز سے مراد ہر جوڑا چیز ہے۔ یعنی ذکر ہی تمام جوڑوں کا ہو رہا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں جوڑوں کا بیان وسیع تر تناظر میں ہوتا ہے، یعنی نر اور مادہ کے علاوہ زمین و آسمان، دن اور رات، سورج اور چاند، پانی پرکشتیوں کا تیرنا ور ڈوبنا، وغیرہ۔ اِن کا مقصد مخاطبین کو یہ بتانا ہوتا ہے اِن جوڑوں کی طرح دنیا کے ساتھ آخرت کا جوڑا بھی ہے، تبھی اِس زندگی کی پہیلی اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔ یہاں کوئی سائنسی بیان جاری کرنا پیشِ نظر نہیں ۔ چنانچہ اِس موقع پر ہر چیز سے مراد مخاطب کے سامنے کی ہر وہ چیز ہے جو جوڑوں کی صورت میں ہے۔

  • Umair Zafar

    Member September 30, 2026 at 12:38 am

    جزاک اللہ خیر، مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی الجھن ٹھیک سے واضح کر دوں، دیکھیں میں جانتا ہوں کہ کسی بھی کلام میں عام سے مراد لازما عام نہیں بلکہ عقلی پیمانے پر تخصیص ہوتی ہے۔ جیسے ایک استاد کلاس میں کہے کہ جو بچہ کام نہیں کر کے آئے گا اس کو سزا ملے گی۔ یہاں اثتسناء آپ سے آپ موجود ہے کہ کوئی بیمار ہو جائے یا کوئی مسئلہ ہو تو سزا نہیں ہو گی۔ لیکن جناب موجودہ صورتحال ایسی نہیں ہے
    میری اگر گاڑیوں کی فیکٹڑی ہے اور میں یہ سٹیٹمنٹ دوں کہ :
    میں نے ہر گاڑی جوڑے میں بنائی ہے۔
    یہاں میری اس سٹیٹمنٹ میں ہر گاڑی سے مراد ہر گاڑی ہی ہے۔ یہ جملہ بول کر میں آزما بھی سکتا ہوں کہ مخاطب کیا مطلب لے گا۔ اب کسی کو ایک بھی گاڑی ایسی مل جائے جس کا جوڑا نہ ہو تو وہ یہی کہے گا کہ متکلم کی سٹیٹمنٹ غلط تھی۔ اس کو یوں کہ دینا چاہیے تھا کہ “یہاں تقریباً ہر گاڑی جوڑا جوڑا ہے” ۔ آپ کے (یا ہمارے) اس جواب پر کوئی ملحد کہ سکتا ہے کہ یہ تو زبردستی کی تاویل ہے۔ یہ ساری بات میں الحاد پر جو غامدی صاحب نے آڑٹیکل لکھا اس پیمانے پر کر رہا۔ وہاں غامدی صاحب آخری پیمانہ بتاتے ہیں کہ قرآن کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہو سکتی۔

    دوسری بات جو آپ نے کہی کے جوڑے سے مراد لازماً نر اور مادہ نہیں ہوتا۔ یہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن اس تناظر میں بھی کیا ہر تخلیق کو ہم کہ سکتے وہ جوڑا ہے۔ یہاں زبان کا کون سا اصول میں غلط کر رہا؟؟؟

    • This reply was modified 5 days, 6 hours ago by  Umair Zafar.
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 30, 2026 at 1:12 am

    یہاں مخاطب کی رعایت کا اصول نظر انداز ہو رہا ہے۔

    خدا یہاں استدالال کے موقع پر مخاطب کے علم سے باہر کا کوئی استدلال نہیں کر سکتا۔

    یہ موقع خدا کے علم اور قدرت کی وسعت کے بیان کا نہیں، مخاطب کے سامنے قیامت کے استدلال کا مقدمہ قائم کرنے کا ہے۔ اس میں مخاطب کےعلم ہی کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 30, 2026 at 1:16 am

    اس تناظر میں جو اس آیت کا ہے وہ ففط نر اور مادہ تک محدود نہیں۔ اس میں دن رات، زمین و آسمان وغیرہ کا جوڑا شامل ہے۔

    دیکھیے آیت کا سیاق و سباق:

    وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ‎﴿٤٧﴾‏ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ ‎﴿٤٨﴾‏ وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

  • Umair Zafar

    Member September 30, 2026 at 2:01 am

    چلیں اس کو اگر علی سبیل التغلیب پر قیاس کر کے اگر ہم کہ دیتے ہیں کہ یہ عام قانون کا بیان ہے۔ جبکہ اثتسناء ہو سکتا ہے۔ پھر بھی مسئلہ یہ آتا ہے کہ زیادہ تر چیزوں میں جوڑے کا تصور نہیں ہے۔ غامدی صاحب کہتے ہیں قانون یہی ہے کہ اللہ نے جوڑوں میں تخلیق کی ہے۔ لیکن یہ دنیا مکمل نہیں اس لیے خواجہ سوا وغیرہ ممکن ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پودوں میں بھی زیادہ تر کے جوڑے نہیں ہیں۔. یہ بات ہم گوگل کر سکتے ہیں۔ آیت کا سیاق تو یہ ہے

    (پھر کیا مشکل ہے کہ ہم اِنھیں دوبارہ اٹھا کھڑا کریں؟ تم دیکھتے نہیں ہو کہ) آسمان کو ہم نے عظیم قدرت کے ساتھ [97] بنایا ہے اور ہم بڑی وسعت رکھنے والے [98] ہیں۔ زمین کو ہم نے بچھا دیا ہے، سو کیا خوب بچھانے والے [99] ہیں! اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تا کہ تم یاددہانی حاصل [100] کرو۔

    پودے میں چاہے نر اور مادہ نہ ہو، کیا ہم سیب کے پودے کو اور مالٹے کے پودے کو ایک دوسرے کا زوج کہ سکتے ہیں؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar September 30, 2026 at 11:44 pm

    اوپر جواب دوبارہ دیکھیے۔ یہاں کوئی سائنسی بیان دینا مقصود نہیں۔ مخاطب کے سامنے ہر چیز کو جو جوڑا ہوتی ہیں، ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ہر اس چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا ہے۔

    جیسے بتایا کہ عام بول چال کی زبان میں “ہر” کا مصداق مخاطبین کے مطابق طے ہوتا ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register