-
Usool E Hadees Me Izafa
غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ وہ محدثین کے وضع کردہ اصولِ روایت و درایت سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کے شاگرد عرفان شہزاد صاحب یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ محدثین کے اصولوں میں ایک مزید پہلو کو شامل کرنے کی ضرورت ہے، یعنی راوی کے سیاسی رجحان کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ راوی کا سیاسی میلان بعض روایات یا واقعات کے بیان پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اگر راوی کے سیاسی رجحان کو جانچنا واقعی ضروری سمجھا جائے، تو کیا یہ محدثین کے روایتی اصولوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر ایک نیا یا اضافی اصول قائم کرنا نہیں ہوگا؟
عرفان شہزاد صاحب کی یہ بات بظاہر منطقی معلوم ہوتی ہے۔ اس حوالے سے غامدی صاحب کی رائے کیا ہے؟ کیا وہ راوی کے سیاسی رجحان کو روایت کی تحقیق میں مستقل طور پر قابلِ لحاظ عامل سمجھتے ہیں
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.