-
اچھے خواب/شیطانی خواب
سلام
ہمیں ہماری بڑے کہتے ہیں کے اگر کوئی خواب دیکھے اور کسی کو اپنا خواب بتائے تو سننےوالے شخص کو اسکو تعبیر نہی بتانی چاہئے
وو سچ ہوجاتا ہے
چاھے اچھا خواب ہو یا برا
اور وہ اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں
Dreams are attached to the foot of a bird until they are interpreted, then when they are interpreted they come to pass.”
— Sunan Ibn Majah 3914
اس حدیث کا صحیح مطلب کیا ہے؟
کبھی کبھی انسان بہت سی چیزیں سوچ رہا ہوتا ہے
اور زیادہ سوچ سوچ کے اور وسوسوں کا شکار رہنے سے اور کسی چیز کے بارے میں مسلسہ پریشان رہنے سی اور خوف ماہ رہنے سے وہی سب خوف ذہن پر اتنا اثر کرتے ہیں کے وو خواب میں بھی آجاتے ہیں ایسے خوابوں کو ہم شیطانی خواب کہتے ہیں اور اگر کوئی خواب دیکھتا ہے ٹوہ وو خود بھی پریشان ہوجاتا ہے اور اندر ہی اندر اپنی سوچوں میں پتا نھی کیا کیا سوچ لیتا ہے
اگر کوئی کسی کو اپنا خواب نا بتائے لیکن اسکے ذہن میں خواب کے حوالے سے بہت غلط خیال اجائے اور و انکو جھٹک ڈالے اور اگنور کرے۔
اور خود کو سمجھائے کے “کچھ بھی نھی ہوتا سب خیر ہوگا اور اللّٰہ سے دعا کرے کے اللّٰہ میری حفاظت کرنا اور شیطان کے شر سے بچانا
تو اسنے ٹھیک کیا نا
میری عقل اور سمجھ کہتی ہے کے اچھا خواب ہو یا برا خواب ہو۔ خواب صرف خواب ہوتا ہے وو حقیقت نھی ہوتا اور گر کوئی کسی کو اسکے خواب کی تعبیر بھی بتا ڈالے بِلاوجہ مزاق میں
توہ اس سی کچھ بھی نھی ہوتا
کسی کا خواب سن کے بلاوجہ ایک عام انسان کا اسکو کوئی بھی تعبیر بتا دینا یا اندازے لگانا
کسی کے الفاظ میں اتنی طاقت نھی ہے کے ایک خواب کو سچ کردیں
ایسا عمل کر کے صرف اگلے انسان کی مشکل ممیں اضافہ ہوتا ہے اور وہ صرف پریشان ہوتا ہے
میرے نزدیک میری رائے یہ ہے کے
جو بھی ہوتا ہے اللّٰہ کی مرضی سے ہوتا ہے
غیبھ کا علم اللّٰہ کے پاس ہے اللّٰہ کے پاس سب اختیار ہے اور تمام طاقت اللّٰہ کی ہے وہی جانتا ہے کے مستقبل میں کیا ہونا ہے
کسی انسان کے کچھ بھی بول دینے سے یا اپنے ذہن میں کچھ بھی سوچ لینے سے یا کوئی خواب دیکھ کے پریشان ہونے سی اور ذہن میں خواب کے حوالے سے کچھ بھی سوچ لینے سے کچھ نہی ہوتا
کسی کے الفاظ یا کسی کے اندر کی پریشانی بھرا وسوسہ کسی بھی خواب کو سچ نھی کرتا
سب کچھ اللّٰہ کی مرضی سے اور اسکے حکم سےہوتاہے
مستقبل صرف اللّٰہ نے دیکھا ہے
اور اللّٰہ سے بھلائی کی دعا کرنی چائیے
اور کسی خواب کی وجہ سے پریشان نھی ہونا چائیے
اور اگر کوئی بیوقوفی ما کوئی تعبیر کردے تو اسکی بات میں کوئی طاقت نھی اسکی بات پے دھیان نھی دینا چاہیے
اوپر جو حدیث مینشن کی ہے اسکے بارے میں صحیح مطلب سمجھا دیں
اور میری رائے اگر درست ہے ٹوہ ضرور رہنمائی کریں
Sponsor Ask Ghamidi