Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › General Discussions › Study Visa Investment Statment Business Question

  • Study Visa Investment Statment Business Question

    Posted by Ali Haider Motors on October 16, 2026 at 7:25 pm
    1. ویزا کے لیے طالب علم کو اپنے اکاؤنٹ میں مخصوص رقم (مثلاً 80 لاکھ سے 1 کروڑ روپے) دکھانی ہوتی ہے۔
    2. ہم یہ رقم اس کے سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کروا دیتے ہیں۔ کچھ رقم ہماری اپنی ہوتی ہے اور باقی انویسٹرز کی (مثلاً 10 کروڑ میں سے 2-3 کروڑ ہمارے)۔
    3. طالب علم یہ رقم استعمال نہیں کر سکتا، صرف اسٹیٹمنٹ نکلوا کر ویزا فائل میں لگاتا ہے۔
    4. یہ اسٹیٹمنٹ ویزا کے لیے طالب علم کے اپنے فنڈز کے ثبوت کے طور پر جمع کروائی جاتی ہے، جبکہ رقم دراصل ہماری یا انویسٹرز کی ہوتی ہے اور ویزا کے بعد واپس لے لی جاتی ہے۔
    5. رقم 2 سے 4 ماہ اکاؤنٹ میں رہتی ہے۔ اس سروس کے بدلے ہم طالب علم سے تقریباً 4 فیصد ماہانہ فیس لیتے ہیں۔
    6. انویسٹر کے ساتھ ہمارا پہلے سے طے ہوتا ہے کہ اسے 3.5 یا 3.75 فیصد ماہانہ دیا جائے گا۔ طالب علم سے لی گئی 4 فیصد فیس میں سے یہ حصہ دینے کے بعد ہمارے پاس تقریباً 0.25 فیصد بچتا ہے۔ اس کے علاوہ سیونگ اکاؤنٹ میں جو منافع آتا ہے، وہ بھی ہم اپنی سروس کی آمدنی میں شمار کر لیتے ہیں۔

    سوالات:

    1. اس صورت میں، جہاں رقم طالب علم کی اپنی ظاہر کی جاتی ہے مگر حقیقت میں اس کی نہیں ہوتی، کیا یہ سروس شرعاً جائز ہے؟
    2. کیا طالب علم سے ماہانہ فیصد کی بنیاد پر فیس لینا جائز ہے، یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر ناجائز ہے تو جائز صورت کیا ہوگی (مثلاً مقررہ اجرت)؟
    3. انویسٹرز سے رقم لے کر انہیں پہلے سے طے شدہ فیصد ماہانہ دینا کیسا ہے؟ اگر یہ جائز نہیں تو جائز طریقہ کیا ہوگا؟

    جزاکم اللہ خیراً۔

    Ali Haider Motors replied 14 hours, 45 minutes ago 1 Member · 0 Replies
  • 0 Replies

Sorry, there were no replies found.

You must be logged in to reply.
Login | Register