-
Study Visa Investment Statment Business Question
- ویزا کے لیے طالب علم کو اپنے اکاؤنٹ میں مخصوص رقم (مثلاً 80 لاکھ سے 1 کروڑ روپے) دکھانی ہوتی ہے۔
- ہم یہ رقم اس کے سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کروا دیتے ہیں۔ کچھ رقم ہماری اپنی ہوتی ہے اور باقی انویسٹرز کی (مثلاً 10 کروڑ میں سے 2-3 کروڑ ہمارے)۔
- طالب علم یہ رقم استعمال نہیں کر سکتا، صرف اسٹیٹمنٹ نکلوا کر ویزا فائل میں لگاتا ہے۔
- یہ اسٹیٹمنٹ ویزا کے لیے طالب علم کے اپنے فنڈز کے ثبوت کے طور پر جمع کروائی جاتی ہے، جبکہ رقم دراصل ہماری یا انویسٹرز کی ہوتی ہے اور ویزا کے بعد واپس لے لی جاتی ہے۔
- رقم 2 سے 4 ماہ اکاؤنٹ میں رہتی ہے۔ اس سروس کے بدلے ہم طالب علم سے تقریباً 4 فیصد ماہانہ فیس لیتے ہیں۔
- انویسٹر کے ساتھ ہمارا پہلے سے طے ہوتا ہے کہ اسے 3.5 یا 3.75 فیصد ماہانہ دیا جائے گا۔ طالب علم سے لی گئی 4 فیصد فیس میں سے یہ حصہ دینے کے بعد ہمارے پاس تقریباً 0.25 فیصد بچتا ہے۔ اس کے علاوہ سیونگ اکاؤنٹ میں جو منافع آتا ہے، وہ بھی ہم اپنی سروس کی آمدنی میں شمار کر لیتے ہیں۔
سوالات:
- اس صورت میں، جہاں رقم طالب علم کی اپنی ظاہر کی جاتی ہے مگر حقیقت میں اس کی نہیں ہوتی، کیا یہ سروس شرعاً جائز ہے؟
- کیا طالب علم سے ماہانہ فیصد کی بنیاد پر فیس لینا جائز ہے، یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر ناجائز ہے تو جائز صورت کیا ہوگی (مثلاً مقررہ اجرت)؟
- انویسٹرز سے رقم لے کر انہیں پہلے سے طے شدہ فیصد ماہانہ دینا کیسا ہے؟ اگر یہ جائز نہیں تو جائز طریقہ کیا ہوگا؟
جزاکم اللہ خیراً۔
Sponsor Ask Ghamidi
In the last 2278 days, 10,235 registered users have posted 71,623 messages under 21,380 unique topics on Ask Ghamidi.
Sorry, there were no replies found.