-
اللہ تعالی اپنے محبوب بندے کا ہاتھ بن جاتے ہیں
عربی متن:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ:
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ…
اردو ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب میرے نزدیک وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔
پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔
اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اسے عطا کروں گا، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔‘‘
حدیث کا مذکورہ اقتباس؛ مکمل روایت میں اس کے بعد مزید الفاظ بھی ہیں۔
مستند حوالہ
کتاب: صحیح البخاری
حدیث نمبر: 6502
کتاب الرقاق، باب التواضع
راوی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
اس حدیث قدسی کا مفہوم کیا ہے ، اور اللہ تعالی کا اپنے بندے کی سماعت ، بصارت ، ہاتھ ، پاوں بن جانے سے کیا مراد ہے
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.