-
اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ روزے کا حقیقی مفہوم
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»
ترجمہ:
“اللہ کے نزدیک سب سے محبوب روزہ داؤدؑ کا روزہ ہے؛ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔”📚 صحیح البخاری، حدیث 3420
📚 صحیح مسلم، حدیث 1159kحضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، شَطْرَ الدَّهْرِ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا»
یعنی:
“داؤدؑ کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں؛ وہ نصف زمانے کے روزے کے برابر ہے: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔”
📚 صحیح البخاری، حدیث 1980
احادیث کی روشنی میں روزۂ داؤدؑ کی فضیلت کا حقیقی پس منظر، مفہوم اور مقصد کیا ہے؟ کیا مسلمان رمضان کے فرض روزوں کے علاوہ ضبطِ نفس اور تزکیۂ نفس کے لیے روزۂ داؤدؑ کے معمول پر عمل کر سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پیر و جمعرات اور ایامِ بیض کے مسنون نفلی روزے بھی رکھ سکتا ہے؟ نیز، ان روزوں کے سحر و افطار کے اوقات کیا ہیں ، معمول کے مطابق فجر سے مغرب تک ہیں، اور روزۂ داؤدؑ کی حدیث میں ’’ایک دن روزہ رکھنے اور اگلے دن افطار کرنے سے شرعی طور پر کیا مراد ہے ؟
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.