Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › General Discussions › اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ روزے کا حقیقی مفہوم

  • اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ روزے کا حقیقی مفہوم

    Posted by Abdul Rahman on October 22, 2026 at 10:55 am

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

    «إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

    ترجمہ:
    “اللہ کے نزدیک سب سے محبوب روزہ داؤدؑ کا روزہ ہے؛ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔”

    📚 صحیح البخاری، حدیث 3420
    📚 صحیح مسلم، حدیث 1159k

    حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

    «لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، شَطْرَ الدَّهْرِ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا»

    یعنی:

    “داؤدؑ کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں؛ وہ نصف زمانے کے روزے کے برابر ہے: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔”

    📚 صحیح البخاری، حدیث 1980

    احادیث کی روشنی میں روزۂ داؤدؑ کی فضیلت کا حقیقی پس منظر، مفہوم اور مقصد کیا ہے؟ کیا مسلمان رمضان کے فرض روزوں کے علاوہ ضبطِ نفس اور تزکیۂ نفس کے لیے روزۂ داؤدؑ کے معمول پر عمل کر سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پیر و جمعرات اور ایامِ بیض کے مسنون نفلی روزے بھی رکھ سکتا ہے؟ نیز، ان روزوں کے سحر و افطار کے اوقات کیا ہیں ، معمول کے مطابق فجر سے مغرب تک ہیں، اور روزۂ داؤدؑ کی حدیث میں ’’ایک دن روزہ رکھنے اور اگلے دن افطار کرنے سے شرعی طور پر کیا مراد ہے ؟

    Abdul Rahman replied 20 minutes ago 1 Member · 0 Replies
  • 0 Replies

Sorry, there were no replies found.

You must be logged in to reply.
Login | Register