Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions Khwaja Muinuddin Chisti Ajmeri

Tagged: 

  • Khwaja Muinuddin Chisti Ajmeri

    Posted by $ohail T@hir on August 15, 2020 at 8:25 am

    خواجہ معین الدین چشتی اجمیری

    ===============

    جناب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اپنے وقت کے صاحب کرامت بزرگ اور ولی رہے ہیں۔ آپ “سلطان الہند” اور “غریب نواز” کے لقب سے معروف ہیں۔ ہندوستان کے شہر اجمیر میں آپ کا عالیشان مقبرہ موجود ہے جہاں ایک خلق بلا امتیاز مذہب ٹوٹی پڑتی ہے۔ جتنے مسلمان آپ کے معتقد ہیں، اتنے ہی ہندو بھی آپ کے عقیدتمند ہیں۔ آپ ۱۴ رجب ۵۳۶ ہجری کو ایران میں پیدا ہوئئے۔ دوسرے صوفیاء کی طرح آپ کا سلسلہ نسب بھی سیدنا علیؓ سے جاکر ملتا ہے۔ آپ کے والد حسینی سید تھے جبکہ والدہ حسنی سید سو اس طور سے آپ نجیب الطرفین ٹھہرتے ہیں۔آپ کے والد کا مقبرہ شہر بغداد میں بتایا جاتا ہے۔

    مشہور صوفی بزرگ خواجہ عثمان ہارونی آپ کے مرشد اور قطب الدین بختیار کاکی آپ کے مرید خاص تھے۔ آپ پرتھوی راج چوہان کے دور حکومت میں ہندوستان اجمیر تشریف لائے۔ آپ صاحب کشف و کرامت مشہور تھے اور آپ کی کرامات کا یہ عالم تھا کہ بقول علامہ اشرف علی تھانوی ، خواجہ صاحب اپنی وفات کے تقریباً ۶۵۰ سالوں کے بعد بھی عالم واقعہ میں آکر امداد اللہ مہاجر مکی کا لاکھوں کا خرچ باندھنے کی پیشکش کرتے ہیں جس کو امداد اللہ مہاجر مکی کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے بقدر ضرورت تک کم کروادیتے ہیں اور پھر ہر ماہ ان کو مایحتاج خرچ ملنے لگتا ہے۔ (۔ (امداد المشتاق صفحہ ۱۱۰ از علامہ اشرف علی تھانوی) جبکہ فرید الدین گنج شکر صاحب اپنی کتاب فوائد السالکین ، جو کہ ان کے مرشد خواجہ بختیار کاکی کے ملفوظات پر مشتمل ہے، میں اپنے مرشد بختیار کاکی کے منہ سے ان کے استاد و مرشد جناب معین الدین چشتی اجمیری کی بابت واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص معین الدین چشتی کی بیعت کو آیا تو انہوں نے اس کی عقیدت کو پرکھنے کے لئے اس سے مطالبہ کیا کہ تو کلمہ اس طرح پڑھتا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، میرے کہنے پر ایک بار اس طرح پڑھ لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ، وہ مرید چونکہ راسخ العقیدہ تھا سو لا الہ الااللہ چشتی رسول اللہ پڑھ ڈالا اور معین الدین چشتی نے اس سے بیعت لے لی تاہم اسکو بتادیا کہ صرف امتحان کی غرض سے انہوں نے اس کو ایسا حکم دیا تھا اور اصل کلمہ و ایمان وہی ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ ( فوائد السالکین: ملفوظات قطب الدین بختیار کاکی، مرتبہ خواجہ فرید الدین گنج شکر صفحہ ۱۲۷)

    آپ صاحب تصنیف بھی تھے۔ آپ کی سب سے مشہور کتاب “انیس الارواح” ہے جو کہ آپ کے استاد و مرشد جناب عثمان ہارونی کے ملفوظات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں بیشتر حیران کردینے والے واقعات و روایات مذکور ہیں۔ اس کتاب کی ابتداء ہی میں معین الدین چشتی اپنے استاد عثمان ہارونی اور اپنا قصہ نقل کرتے ہیں کہ جب میں عثمان ہارونی کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے ایک دن اور ایک رات کا مجاہدہ کرنے کا حکم دیا، مجاہدہ کرکے جب ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے ہزار بار سورۃ الاخلاص پڑھوائی اور اس کے بعد آسمان کی طرف دیکھنے کا حکم دیا، جب میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو میں عرش اعظم تک دیکھ سکتا تھا اور جب زمین کی طرف دیکھا تو تحت الثریٰ تک دیکھ سکتا تھا، اس کے بعد عثمان ہارونی نے مجھے دوبارہ ہزار بار سورۃ الاخلاص پڑھنے کا حکم دیا، اب جب آسمان کی طرف دیکھا تھا حجاب عظمت تک دیکھ سکا۔اس کے بعد انہوں نے مجھے اپنی دو انگلیوں کے درمیان اٹھارہ ہزار عالم دکھائے۔ پھر ان کے ساتھ خانہ کعبہ اور قبر نبویﷺ پر حاضر ہوا۔ قبر نبویﷺ پر حاضر ہوکر سلام عرض کیا تو قبر نبویﷺ سے آواز آئی : وعلیکم السلام اے قطب مشائخ بحر و بر۔(انیس الارواح صفحہ ۴)

    اسی کتاب میں خواجہ معین الدین چشتی صاحب رابعہ بصری اور ابراہیم بن ادہم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ابراہیم بن ادہم بلخ کی سلطنت سے تائب ہو ئے تو حج کا ارادہ کیا اورخود سے فرمایا کہ ہر شخص پیروں کے بل چل کر حج کرنے جاتا ہے، سو میں سر کے بل چل کر حج کو جاونگا چنانچہ سفر حج جو قدم رکھتے ایک دو گانہ نفل شکرانہ ادا فرماتے حتیٰ کہ چودہ سالوں میں بلخ سے خانہ کعبہ پہنچتے ہیں لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ خاننہ کعبہ اپنے مقام پر موجود ہی نہیں۔ جب زیادہ حیرانی ہوئی تو غیب سے آواز آئی کہ کعبہ “ہماری” ایک ضعیفہ کی زیارت کو گیا ہوا ہے، اس ہاتف غیبی سے پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ضعیفہ رابعہ بصری ہیں ، سو جب ڈھونڈتے ڈھونڈتے رابعہ بصری کی زیارت کو پہنچے تو دیکھا کہ خانہ کعبہ رابعہ بصری کے گرد طواف کررہا ہے۔ (انیس الارواح، صفحہ ۱۸)

    خواجہ معین الدین چشتی کے سب سے معتقد شاگرد اور خاص مرید خواجہ قطب الدین بختیار کاکی تھے جنہوں نے اپنے مرشد معین الدین چشتی کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب بنام “دلیل العارفین “تصنیف فرمائی ۔ اس کتاب میں آپ نے اپنے مرشد سے کئی محیر العقول واقعات نقل کئے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ معین الدین چشتی نے اپنے مرشد عثمان ہارونی کی بابت ہمیں بتایا کہ ایک دفعہ ای ایک بوڑھے شخص کا تیس سال سے بچھڑا لڑکا جو کہ بیچ سمندر میں زنجیروں سے جکڑا کشتی میں پڑا ہوا عثمان ہارونی نے اپنی قوت مجاہدہ سے آن کی آن میں بناء اپنی محفل سے غائب ہوئے بیچ سمند ر میں پہنچ کر زنجیریں توڑ کر گردن سے پکڑ کو لڑکے کو اس کے گھر چھوڑآئے۔ ( دلیل العارفین ملفوظات خواجہ معین الدین چشتی اجمیری از خواجہ بختیار کاکی صفحہ ۸۱)

    اسی کتاب میں قطب الدین بختیار کاکی اپنے مرشد معین الدین چشتی سے اور وہ اپنے مرشد عثمان ہارونی سے نقل کرتے ہیں کہ ان کو سید مودود چشتی نے اپنے مریدوں کی محفل میں بتایا کہ کوہ قاف ایک گائے کے سر پر ہے جو کہ کھڑ ی اللہ کی حمدو ثناء کررہی ہے، اس پر ایک مرید کے دل میں کچھ تردد ہوا جس کو شیخ نے اپنے علم الغیب سے بھانپ لیا اور اس مرید کا ہاتھ پکڑ کر سب کے سامنے بیٹھے بیٹھے اپنے خرقوں یعنی لباس میں سے غائب ہوگئے اور تیس ہزار سال کی مسافت پر واقع اس گائے اور کوہ قاف کا مشاہدہ کروا کر آن کی آن میں واپس آگئے۔( دلیل العارفین ،صفحہ ۸۵) پھر خواجہ معین الدین چشتی صاحب اپنا ایک واقعہ قطب الدین بختیار کاکی کو بتاتے ہیں کہ سمر قند میں مسجد بناتے ہوئے وہاں کا امام قبلے کی سمت کی بابت ان سے الجھا تو انہوں نے اس کی گردن پکڑ کر قبلہ کی طرف کیا تو سارے غیبی پردے ہٹ گئے اور اسکو سامنے کعبہ نظر آگیا اور یوں اسکو درست قبلہ کی سمت کا پتہ چل گیا۔ (دلیل العارفین، صفحہ ۸۶)

    الغرض خواجہ معین الدین چشتی صاحب کی کرامات و بزرگی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ موجود ہے جو کہ تصوف کی بیشتر کتب میں مل جاتا ہے لیکن اپنی اس تحریر کو ہم نے صرف خواجہ صاحب کی خود کی رقم کردہ کتاب انیس الارواح اور ان کے مرید خاص جناب قطب الدین بختیار کاکی جو کہ ان کے ملفوظات کے براہ راست ناقل ہیں ، سے نقل کیا ہے تاکہ کسی طور کی غلط نسبت کا کوئی اشتباہ نہ رہے۔

    خواجہ معین الدین چشتی ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی ہیں۔ جبکہ قطب الدین بختیار کاکی اور بابا فرید الدین گنج شکر جیسے عظیم الشان پیرانِ طریقت آپ کے مریدین کی صف میں شامل ہیں۔ آپ کی وفات ہندوستان میں بمقام اجمیر ۶۳۳ ہجری میں ہوئی۔ اور یہیں آپ کا عظیم الشان مقبرہ ہے ۔ یاد رہے یہ وہی مقبرہ ہے جہاں مسلمانوں کو قبروں کے آگے سجدہ ریز ہوتے اور دوسرے مراسم عبودیت ادا کرتے دیکھ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ یہاں آکر ہندو اور مسلمان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ جبکہ مہاتما گاندھی نے دربار خواجہ میں حاضری کے وقت کہا تھا کہ یہاں آکر میری روح کو بڑا چین ملا ہے۔

    تحریر: محمد فھد حارث۔

    Saira Qureshi replied 3 years, 6 months ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply

You must be logged in to reply.
Login | Register