Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Epistemology and Philosophy اللہ کی بے نیازی اور فکر

Tagged: ,

  • اللہ کی بے نیازی اور فکر

    Posted by Rafi Sheikh on February 1, 2021 at 5:51 am

    ثُمَّ ءَاتَیۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَـٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِیۤ أَحۡسَنَ وَتَفۡصِیلࣰا لِّكُلِّ شَیۡءࣲ وَهُدࣰى وَرَحۡمَةࣰ لَّعَلَّهُم بِلِقَاۤءِ رَبِّهِمۡ یُؤۡمِنُونَ ﴿ ١٥٤ ﴾

    • ابوالاعلی مودودی:

    پھر ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں (154)

    Al-An’am, Ayah 154

    اللہ تعالی بے نیاز ھے تو پھر اللہ تعالی کو اتنی فکر کیوں ھے کہ لوگ ایمان لایں؟

    میں جب بھی قرآن کا مطالعہ کرتا ھوں اتنے بے سرو پا سوالات اور خیالات آتے ھیں سوچتا ھوں کہ جہنم کی آگ خود تلاش کر رھا ھوں اب اگر پکڑ میں آگیا تو؟ میں لاحول سب پڑھتا ھوں آپ کیا کرتے ھیں؟

    I apologize for asking silly questions.

    Rafi Sheikh replied 3 years, 4 months ago 2 Members · 4 Replies
  • 4 Replies
  • اللہ کی بے نیازی اور فکر

  • Haris Virk

    Moderator February 1, 2021 at 7:55 am

    اللّٰہ تعالیٰ کی بےنیازی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں کامل ہے اور کسی کا محتاج نہیں جبکہ باقی سب اسی کے محتاج ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللّٰہ کی یہ صفات بھی ہیں کہ وہ رحمٰن و رحیم ہے۔ امام امین احسن اصلاحی صاحب کے الفاظ میں خدا کی رحمت میں جوش ہی جوش نہیں ہے، بلکہ پایداری اور استقلال بھی ہے۔اُس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا پیداتو کر ڈالی ہو،لیکن پیدا کر کے پھر اُس کی خبر گیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو،بلکہ اُس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اُس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ اپنے بندوں کو خیر کی طرف بلاتا ہے اور انہیں بار بار آخرت کی یاددہانی کرواتا ہے۔

  • Rafi Sheikh

    Member February 1, 2021 at 8:12 am

    جزاکالّلہ

  • Haris Virk

    Moderator February 1, 2021 at 8:22 am

    جہاں تک منفی خیالات کا تعلق ہے ، ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول سے پوچھا:

    بے شک ہم اپنے ذہنوں میں سوچتے ہیں جس کا اظہار کرنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک اسے بہت سنگین سمجھتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کیا تم واقعی اس کو محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس پر انہوں نے کہا: یہ ایمان کی ایک واضح علامت ہے۔

    چونکہ آپ کا دل ان خیالات سے نجات پانا چاہتا ہے ، لہذا یہ ایمان کی واضح علامت ہے۔ یہ ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے کیونکہ شیطان اسے روکنا چاہتا ہے۔ یہ ناگزیر ہے ، لیکن آپ کو ثابت قدمی اور صبر سے کام لینا ہوگا۔

    آپ اللہ کو یاد کرتے رہیں ، اس سے دعا کریں اور ہمت نہ ہاریں۔

  • Rafi Sheikh

    Member February 1, 2021 at 11:58 am

    بہت بہت بہت شکریہ۔ میں حلقان ھوے جا رھا تھا۔

    بہت شکریہ

You must be logged in to reply.
Login | Register