Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia Hitting Kids For Not Praying Namaz

Tagged: ,

  • Hitting Kids For Not Praying Namaz

    Posted by Faisal Haroon on March 1, 2021 at 3:39 pm

    “بچوں کو نماز نہ پڑھنے پر مارنا،

    (ایک روایت سے استدلال)

    حدیث کی بعض کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اگر بچے دس سال کی عمر تک نماز نہ ادا کریں تو انھیں مارا جائے گا،تاکہ وہ نماز ادا کرنا شروع کردیں۔

    اس روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

    عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” مروا اولادكم بالصلاة وهم ابناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم ابناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع”.

    (سنن ابو داود ،رقم 495)

    “عمرو بن شعب اپنے والد سے اور وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“۔

    پورے ذخیرئہ حدیث میں یہ روایت صرف دو صحابہ سے منقول ہے:

    ۱۔سبرة بن معبد الجهني۔

    ۲۔عبد اللہ عمرو۔

    پہلے صحابی ،سبرہ بن معبد الجھنی سے اِس ضمن میں جو بھی روایات نقل ہوئی ہیں، محدثین کے نزدیک وہ سب کی سب “ضعیف” ہیں۔ اور ان کے ضعف کی بنیادی وجہ ایک راوی “الربيع الجهني” کا ہونا ہے۔ علمائے حدیث اس روایت پر جو حکم لگاتے ہیں، وہ یہ ہے:

    “إسناد ضعيف فيه عبد الملك بن الربيع الجهني وهو ضعيف الحديث”۔

    اِس سلسلے کی روایات مسند احمد،ابو داؤد اور سنن ترمذی وغیرہ میں نقل ہوئی ہیں۔

    اس کے بعد دوسرے صحابی عبد اللہ بن عمرو ہیں۔ ان کی نسبت سے یہ روایت سب سے پہلے المدونۃ الکبری،مالک میں نقل ہوئی ہے:

    اس روایت کے الفاظ ہیں:

    وَقَالَ مَالِكٌ: تُؤْمَرُ الصِّبْيَانُ بِالصَّلَاةِ إِذَا أَثْغَرُوا .قَالَ سَحْنُونٌ، عن ابْنِ وَهْبٍ، عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَسَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: ” مُرُوا الصِّبْيَانَ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ

    (المدونۃ الکبری، [1 : 132] )

    مالک کہتے ہیں:

    “بچوں کے جب دودھ کے دانت گر جائیں تو انھیں نماز کا حکم دیں،سحنون ابن وھب سے اور وہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص اورسبرہ الجھنی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“۔

    یہاں اس روایت میں دونوں صحابہ کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے گویا واقعہ ایک ہی ہے لیکن اس روایت میں مسئلہ یہ کہ اسے ایک راوی “ابن وھب” بیان کررہے ہیں جن کی پیدایش ہی 125 ھجری کی ہے۔جبکہ جن صحابہ سے وہ نقل کر رہے ہیں ان دونوں کا انتقال ہی 65 ہجری سے پہلے ہوچکا تھا۔

    گویا یہ بھی ایک منقطع روایت ہے اور ناقابل قبول ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام مالک نے خود بھی اسے اپنی موطا کا حصہ نہیں بنایا۔۔

    اس کے بعد

    عبداللہ بن عمرو سے سب سے پہلے یہ روایت حدیث کی جس کتاب میں سامنے آئی وہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ۔اس روایت کے الفاظ ہیں:

    عن دَاوُدَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ: ” مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ “

    (مصنف ابن ابی شیبہ،رقم ،3394)

    داود بن سوار عمر بن شعیب سے وہ والد سے اور وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“۔

    دراصل روایت کا یہی وہ سلسلہ سند ہے جسے بعد کی کتابوں میں بھی اپنایا گیا اور بعض علما نے اسے “حسن لغیرہ” قرار دے کر قبول کرلیا اور یوں یہ حدیث بہت شہرت پا گئی۔اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک قابل اطمینان بات تصور کر لیا گیا۔ علماء بالعموم اس روایت کا یہ حکم بیان کرتے ہیں:

    إسناده حسن في المتابعات والشواهد رجاله ثقات وصدوقيين عدا سوار بن داود المزني

    لیکن ہماری رائے میں اس سلسلے کی روایات پر دوقت نظر سے غور کیا جائے تو چند مسائل اور سوالات پیدا ہوتے ہیں:

    پہلا یہ کہ ان تمام روایت میں “سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ ” موجود ہیں جن کے بارے میں متعدد علمائے جرح و تعدیل مطمئن نہیں ہیں۔مثلا: حافظ ذہبی نے ان پر “ضعف” کا حکم لگایا ہے.اسی طرح “تقریب التھذیب” کے مصنف کی رائے میں بھی قابل اعتماد نہیں ہیں۔ان کے بقول:

    “ضعيف يعتبر به ، ولم يحسن الرأي فيه سوى أحمد”

    لہذا تنہا صرف اسی ایک راوی کی بنا پر عبد اللہ بن عمرو سے مروی اس سلسلے کی تمام روایات “ضعیف” قرار دی جا سکتی ہیں چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بہت سے معاصر علمائے حدیث نے بھی اس روایت کو سندا قبول نہیں کیا۔

    دوسرا سوال اس سلسلے کی روایات میں یہ اٹھتا ہے کہ “عمر بن شعیب” اپنے والد کی نسبت سے خود اپنے ہی دادا سے روایت کررہے ہیں یا اُن کے والد اپنے دادا سے روایت کر رہے ہیں (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،)روایت میں اس کی کوئی صراحت نقل نہیں ہوئی۔چنانچہ اگر پہلی صورت ہے تو روایت میں ارسال ہوگا اور دوسری ہے تو انقطاع ہوگا۔

    تیسری بات یہ کہ خود مصنف ابن ابی شیبہ ،جہاں یہ روایت سب سے پہلے نقل ہوئی وہیں ابن ابی شیبہ نے اِس پوری بات کو ایک تابعی کے قول کے طور پر الگ سے بھی نقل کیا ہے،جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سرے سے حدیث تھی ہی نہیں بلکہ ایک تابعی کا قول تھا…چنانچہ مصنف ہی میں ہے:

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: ” يُؤْمَرُ الصَّبِيُّ بِهَا إِذَا بَلَغَ السَّبْعَ وَيُضْرَبُ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغَ عَشْرًا

    (مصنف ابن ابی شیبہ،رقم3402)

    وکہع کہتے ہیں کہ سفیان نے ابی رجا سے اور انھوں نے مکحول سے سنا کہ جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو۔

    لہذا سند میں ضعف اور درجہ بالا علل، دونوں ہی کی بنا پر یہ روایت قابل قبول نہیں ہوسکتی۔

    یہ غالبا کسی صحابی کا اثر یا تابعی کی اجتہادی رائے تھی ، جو ایسے نقل ہوگئی ہے۔اِس بات کی تائید مسند بزار کی ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے،علم حدیث کے ایک بڑے عالم امام شوکانی نے اپنی کتاب “نیل الاوطار” میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا کہ ایک دوسری روایت میں صراحت ہے کہ یہ پوری روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک کاغذ پر لکھی ہوئی ملی تھی جس میں رسول اللہ کی نسبت کے بغیر ہی کسی شخص کے الفاظ لکھے تھے کہ اس کے بقول غالبا نو سال کی عمر میں مارا جا سکتا ہے۔

    روایت یہ ہے:

    عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَجَدْنَا صَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَعْدَ، وَفَاتِهِ فِيهَا مَكْتُوبٌ: ” بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَرِّقُوا بَيْنَ مَضَاجِعِ الإِخْوَةِ وَالأَخَوَاتِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوا أَبْنَاءَكُمْ عَلَى الصَّلاةَ إِذَا بَلَغُوا أَظُنُّهُ تِسْعًا۔

    (مسند بزار،رقم 3332)

    عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ کی وفات کے بعد تلوار کے پاس ایک کاغذ لکھا ملا تھا جس پر لکھا تھا:”بسم اللہ الرحمن الرحیم:بہن بھائیوں کے بستر سات سال کی عمر میں الگ کردواور بچوں کو میرے خیال کے مطابق نو سال کی عمر نماز نہ ادا کرنے پر مارو۔

    خلاصہ:

    اس روایت کو قبول کر کے بعض علما نماز نہ پڑھنے پر مارنے کو محض تربیتی تادیب کے معنی میں مراد لیتے ہیں لیکن ہماری طالب علمانہ رائے میں اس روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتی اور یہ ایک “ضعیف” روایت ہے۔

    چنانچہ یہی وجہ ہے بخاری اور مسلم تک نے اپنے انتخاب میں اس حدیث کو قبول نہیں کیا۔

    اس روایت کی سند پر کلام کے ساتھ ساتھ یہ علم و عقل کے مسلمات اور دین کے مجموعی مزاج سے بھی بظاہر متصادم نظر آتی ہے۔جب شریعت میں نماز کا مکلف ہی بالغ فرد ہے تو دس سال کی عمر میں نماز نہ ادا کرنے پر مارنا ناقابل فہم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نفسیات کے ماہرہن بھی یہ بتا سکتے ہیں کہ بچپن کی یہ سختی کیسے انسانوں کے مزاج اور مذہب سے تعلق پر اثر انداز ہوتی ہے۔جبکہ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی کریم النفس شخصیت جنھوں نے پوری زندگی دین کو نرمی، ملائمت اور استدلال سے سمجھایا وہ کیسے علی الاطلاق ایسی ہدایت کر سکتے ہیں جو جسمانی مار، نفسیاتی دباو اور عبادت جیسے شعوری عمل کو زبردستی ادا کروانے کی ترغیب بن جائے۔۔۔۔

    واللہ اعلم ۔۔۔۔

    محمد حسن الیاس۔

    (2 مارچ 2021)

    Umer replied 6 months, 1 week ago 4 Members · 7 Replies
  • 7 Replies
  • Hitting Kids For Not Praying Namaz

    Umer updated 6 months, 1 week ago 4 Members · 7 Replies
  • Nabeel Ahmed

    Member March 7, 2021 at 2:47 am

    “جب شریعت میں نماز کا مکلف ہی بالغ فرد ہے” یہ استدلال کہاں سے کیا جا رہا ہے؟

    • Faisal Haroon

      Moderator March 7, 2021 at 9:20 am

      This doesn’t require any evidence. It’s self evident that accountability should only for someone who is sane and has reached the age of maturity. Please also refer to the following narration:

      https://sunnah.com/nasai:3432

    • Gumiho Ki

      Member August 2, 2021 at 7:48 am

      Brother,What is the age of maturity.How old?

    • Faisal Haroon

      Moderator August 2, 2021 at 9:55 am

      Islam has not specified any age of maturity, and it’s quite natural since it is not a static number across all humans in every time period and every environment. Parents can generally tell when their child is reaching puberty through various physical signs that occur in a human body at that age.

  • Nabeel Ahmed

    Member March 7, 2021 at 2:50 am

    اور اس پر جناب جاوید صاحب کی مختصر ویڈیو بھی ہے جس میں وہ کہت ہیں کہ “جیسا حضورﷺ نے فرمایا کہ سات سال کی عمر کا ہو جائے تو تلقین کی جائے اور دس سال کا ہو جائے تو کچھ کان بھی کھینچے جائیں”

    • Faisal Haroon

      Moderator March 7, 2021 at 9:22 am

      This article is based on the latest hadith research by Hassan Ilyas sahab.

  • Umer

    Moderator October 9, 2023 at 9:54 am

    Hitting children upon not praying

    Research and Translation: Muhammad Hasan Ilyas;

    (Rendered into English by Shah Aayan Zuberi)

    In certain books of hadith, a narration attributed to The Messenger of Allah (ﷺ) has been recorded, that, if by the age of 10, children do not begin to offer their prayers they are to be beaten until they begin doing so.

    The text of these narration is such:

    “عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع”

    “Amru ibn Shuayb narrates from his father and grandfather that The Messenger of Allah (ﷺ) when your children reach the age of 7 then you should command them to offer their prayers, and when they reach the age of 10 then you should beat them upon them not offering their prayers, and separate their beds.”

    In this context, we will attempt to understand this narration in light of the principles of authenticity regarding the chain of narration, as established by the scholars of hadith.

    In the entire corpus of hadith literature, this narration has only been narrated by 2 companions:

    1. Sabrah bin Ma’bad al Juhni

    2. Abdullah bin Amr

    All the narrations attributed to the first companion, Sabrah bin Ma’bad al Juhni, are weak according to the scholars of hadith. The primary reason for the weakness of these narratives is the narrator “al-Rabi’ al Juhni”. The verdict that the scholars of hadith place upon this narration is,

    ’إسناد ضعيف، فيه عبد الملك بن الربيع الجهني وهو ضعيف الحديث‘.

    Narrations of this nature have been recorded in books such as, Musnad Ahmad, Sunan Abu Dawud and Sunan Tirmidhi etc.

    After this, the second companion (as mentioned earlier) is Abdullah bin Amr. The narration attributed to him was first recorded in Al Mudawwana al Kubra of Imam Malik. The narration reads,

    “وقال مالك: تؤمر الصبيان بالصلاة إذا أثغر و. قال سحنون، عن ابن وهب، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، سبرة الجهني أن رسول الله ﷺ قال: ’’مروا الصبيان بالصلاة لسبع سنين، واضربوهم عليها لعشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع.”(۱/ ۱۳۲)

    “Malik said, “Command children to pray when their milk teeth fall out, it was narrated by Sahnoon ibn wahab from Abdullah bin Amr al Aas and he from Sabrah al Juhni, that The Messenger of Allah (ﷺ) said, “when your children reach the age of 7 then you should command them to offer their prayers, and when they reach the age of 10 then you should beat them upon them not offering their prayers, and separate their beds.”

    In this narration, the names of both companions have been mentioned together as if the event is one. However the fault in this narration is that it is being narrated by a narrator ‘ibn wahab’ whose date of birth is 125 AH, whereas the companions he is narrating from, both of them have been reported to have passed away before 25 AH.

    Thus this narrative too is broken and is therefore unacceptable. This is why Imam Malik, despite being aware of this narration, chose not to narrate it in his Muwatta.

    After this, the attribution of this narrative to Abdullah bin Amr al Aas first appears in the book ‘Musannaf ibn Abi Shaybah’. The words of the narration recorded there are,

    “عن داود بن سوار، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال نبي الله ﷺ: ’’مروا صبيانكم بالصلاة إذا بلغوا سبعا واضربوهم عليها إذا بلغوا عشرا وفرقوا بينهم في المضاجع.”

    “From Dawud bin Sawaar from Amru bin Shuyab who narrates from his father and his grandfather that The Messenger of Allah (ﷺ) said, “when your children reach the age of 7 then you should command them to offer their prayers, and when they reach the age of 10 then you should beat them upon them not offering their prayers, and separate their beds.”

    This in fact is the chain of narration that has been accepted and recorded by later books and several scholars even awarded it the status of ‘hasan lighairihi’ and thus accepted the narration, this is how this narration became popular and was regarded as a sound narration attributed to The Messenger of Allah (ﷺ). The usual verdict of scholars regarding this hadith is,

    “إسناده حسن في المتابعات والشواهد رجاله ثقات والصدوقيين عدا سوار بن داود المزني.”

    However our opinion is that if one critically analyses the narrations of this category, then in light of the requirements of authenticity in a chain, certain questions arise:

    The first is that several scholars of jarh o ta’deel are not convinced regarding the narrator Daud bin Sawar found in all chains of this hadith. Hafiz Dhahabi regards him as ‘weak’. Similarly the author of ‘Taqreeb at Tamheez’ is of the opinion that ibn Sawar is not reliable, he says about him,

    ’ضعيف يعتبر به ، ولم يحسن الرأي فيه سوى أحمد‘.

    Thus, on the basis of this one narrator alone, all the narrations attributed to Abdullah bin Amr can be regarded as weak. This is why many contemporary scholars do not regard this hadith to be authentic in context of its chain.

    The second question which arises is whether Amr bin Shuyab is narrating from his grandfather through his father or is his father narrating from his grandfather? No certainty regarding this can be found in the narration. Therefore, if the case is of the former condition then the narration would be expedient and if it is the latter then there would be discontinuity in the chain.

    Thirdly this narration in the Musannaf of ibn Abi Shaybah where it was formally recorded for the first time, is separately narrated by Ibn Abi Shaybah as the statement of Tabi’. From this we can ascertain that this narration isn’t a hadith to begin with, rather it was the statement of a tabi’. Thus,

    “حدثنا وكيع، عن سفيان، عن أبي رجاء، عن مكحول، قال: ’’يؤمر الصبي بها إذا بلغ السبع ويضرب عليها إذا بلغ عشرا”.

    “Waki says that Sufyan narrated from Abi Rajaa and he heard from Mak-hool who said, “when your children reach the age of 7 then you should command them to offer their prayers, and when they reach the age of 10 then you should beat them upon them not offering their prayers.”

    Therefore on the basis of the weaknesses in the chain (of the marfu narration) and the aforementioned flaws, on the basis of both, this narration is unacceptable.

    This (narration) was likely the athar of some companion or the ijtihaad of some tabi’ which was later transmitted in this manner. This is further affirmed by a narration in Musnad al Bazzar, a great scholar of hadith Imam ash Shawkani in his book ‘Neel al Aotar’ points towards this and says that another narration, with certainty shows that this entire narration was found after the passing of The Messenger of Allah (ﷺ), written on piece of paper, without being attributed to The Messenger (ﷺ), rather they were the words of some random person whose identity is not known, who said that in all probability that a child could be hit for not praying when they turned 9.

    The narration reads,

    “عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه رضي الله عنه، قال: وجدنا صحيفة في قراب سيف رسول الله ﷺ بعد وفاته فيها مكتوب: ’’بسم الله الرحمٰن الرحيم، فرقوا بين مضاجع الإخوة والأخوات لسبعِ سنين، واضربوا أبناءكم على الصلاة إذا بلغوا أظنه تسعا”.

    “Abdullah bin Abi Raafi’ narrates from his father who says that, “After the passing of The messenger of Allah, we found a written piece of paper near a sword, upon which was written, ‘In The name of God; The Most Gracious; The Ever Merciful, separate the beds of the brothers and sisters when they turn 7 and I think you can hit them for not praying at the age of 9.’”

    Summary:

    Upon accepting this narration some scholars interpreted this beating as being a form of educationary discipling, however in our humble opinion the attribution of this narration to The Prophet (ﷺ) can not be proven and thus this narration is weak.

    Thus this is why Imam Bukhari and Imam Muslim did not recrord this narration as a part of their collections.

    Furthermore, in light of the discrepancies in the chain of this narration, this narration also seems to contradict established reason and the collective message of Islam. Since the age at which one is bound to pray after one reaches puberty, it does not make sense to punish a child for not praying when they aren’t even bound to do so. Along with this, experts of psychology also tell us how such harshness during one’s childhood (negatively) impacts one’s emotions and connection with religion, whereas, on the other hand being the generous person The Prophet (ﷺ) was, who throughout his life taught religion with softness, gentleness and reason, how can such a person suddenly give a direction which results in scourging, mental bondage, and a conscious (and sacred) act such as worship being reduced to something which one must be physically forced to do.

    And Allah knows best.

The discussion "Hitting Kids For Not Praying Namaz" is closed to new replies.

Start of Discussion
0 of 0 replies June 2018
Now