Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islam and Family Contract Marriage (Mutah)

  • Contract Marriage (Mutah)

    Posted by Zayf Shakir on March 26, 2021 at 2:48 pm

    What are the rulings of Islam regarding contract marriage. As in Prophet SAW ear it was considered halal and later on it was prohibited. Surah an Nisa verse 24 is interpreted by shias and sunnis also as in sense of contract marriage.

    sahih Bukhari Volume 5, Book 59, Number 526

    sahih Bukhari Volume 5, Book 59, Number 527

    Sahih Bukhari Volume 9, Book 86, Number 91

    Sahih Muslim Book 008, Number 3260

    Sahih Muslim Book 021, Number 4763

    Sahih Muslim Book 008, Number 3262

    Sahih Muslim Book 008, Number 3263

    Sahih Muslim Book 008, Number 3264

    Sahih Muslim Book 008, Number 3265

    Sahih Muslim Book 008, Number 3266

    Sahih Muslim Book 008, Number 3267

    These are references where it is declared haram my question is why is it declared haram if Allah is the only Law maker and He in Quran didn’t prohibit it?

    ودود replied 3 years, 2 months ago 4 Members · 10 Replies
  • 10 Replies
  • Contract Marriage (Mutah)

    ودود updated 3 years, 2 months ago 4 Members · 10 Replies
  • Umer

    Moderator March 26, 2021 at 4:23 pm

    Quran leaves no room for Mutah to be allowed, as Surah Muminun and Surah Muarij, both specifically limit sexual relationships with wives only, and they are both revealed in Mecca. For a detailed answer, please see Sajid Hameed Sahab’s response below [1].

    And for comments of Ghamidi Sahab, please refer to the following thread-links:

    Discussion 33305 • Reply 33607

    Discussion 33305 • Reply 33608

    Discussion 33305 • Reply 33609

    Discussion 1763 • Reply 1766

    __________________________________

    [1]

    سوال:

    میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی حرام چیز کی اجازت نہیں دے سکتے اور آپؐ نے سنی فقہا کے مطابق بھی متعہ کی اجازت دی ہے تو بعد میں یہ کس نے حرام کیا؟ اور اگر یہ قیامت تک کے لیے حرام ہے تو کیا نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حرام چیز کی اجازت دی؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔ اور یہ بھی بتائیے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ادوار میں متعہ ہوتا رہا تھا؟

    جواب:

    امىد ہے آپ خىرىت سے ہوں گے۔

    ہم اہل سنت کے مطابق نکاح متعہ خود نبى اکرم ہى حرام کرکے گئے ہىں۔بے شمار صحىح احادىث سے ىہ معلوم ہوتا ہے کہ نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم نے متعہ کو حرام کىا ہے۔ اس کے لىے دىکھىے صحىح بخارى حدىث نمبر 4825، مسلم 1407، وغىرہ)حضرت عمر کا معاملہ غالبا خلط مبحث کا شکار ہے ۔ وہ متعہ ىہ نہىں کوئى اور ہے۔ لىکن اس بات کو سمجھنے سے پہلے متعہ کے معنى جاننے ضرورى ہىں ۔

    متعہ عربى زبان کالفظ ہے جس کے معنى فاعدہ اٹھانے کے ہىں ، عربى کى معروف لغت المحىط مىں اس کے معنى ىہ لکھے ہوئے ہىں :

    المُتْعَةُ : ما يُتمتَّعُ به من الصَّيْد والطعام وغير ذلك؛ …: أن تَضُمّ عُمْرةً إلى حِجَّة/ زواجِ المتُعة، أي أن تتزوَّج امرأةً تتمتَّعُ بها وقتاً ما ولا تريد إِدامتَها لنفسك/ مُتعةُ المرأة، أي ما وُصلتْ به من مال ونحوه بعد الطلاق …

    متعہ سے مراد وہ فائدہ ہے ، جو شکار اور کھانے وغىرہ سے حاصل ہو، … متعہ ىہ بھى ہے کہ عمرہ اور حج کو اىک ساتھ اکھٹا کىا جائے۔ متعہ نکاح ىہ ہے کہ اىک مخصوص مدت کے لىے عورت سے بىاہ کىا جائے ، اور اس مىں ىہ ارادہ نہ ہو کہ اسے مستقل اپنے پاس رکھا جائے۔ متعہ کے معنى اس مال وغىرہ کے ہىں، جو طلاق کے بعد (حق مہر کے علاوہ)عورت کو ملتا ہے۔

    متعہ کے ىہ سب معنى ہىں۔اس لىے جب ىہ بات کہى جائے کہ حضرت عمر نے متعہ سے منع کىا تو سوال ىہ پىدا ہوتا ہے کہ کونسا متعہ انھوں نے منع کىا۔موقت نکاح والا متعہ ، طلاق کے بعد بىوى کو کچھ دىنے دلانے والا متعہ ىا ىا حج و عمرہ والا متعہ۔فقہ کى کتب کو پڑھ کر دو چىزوں مىں تو واضح ہے ىعنى وہ حج و عمرہ مىں اور بغىر چھوئے طلاق ىافتہ عورت کو متعہ (خرچہ پانى)دىنے کو تو منع کرتے تھے ۔

    جہاں تک متعہ والے نکاح کا تعلق ہے ، تو اس مىں مىرى تحقىقى رائے ىہ ہے کہ متعہ دىن اسلام مىں مکى زمانے ہى سے حرام ہے: سورہ مومنون اور سورہ المعارج دونوں مکى ہىں اور دونوں مىں عورت سے بحىثىت بىوى ہى کے تمتع کى اجازت دى گئى ہےاس کے علاوہ کسى اور زوجىت کى اجازت ہى نہىں ہے، الا ىہ کہ وہ ملک ىمىن ہو۔ ملک ىمىن کے بارے مىں شىعہ اور سنى دونوں متفق ہىں کہ وہ متعہ نہىں ہے۔قرآن مجىد کا فرمان ہے:

    وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۔ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (المومنون 23: 5 ۔ 6،المعارج70: 29 ۔ 30)

    اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں(ترجمہ فتح محمد جالندھرى)

    یہاںالّا علیٰ ازواجهمکے الفاظ ىہ بتا رہے ہىں کہ ہم زوجىت صرف اور صرف اپنى بىوى ہى سے کرسکتے ہىں ۔اس آىت کے مکہ ہى مىں نازل ہونے کا مطلب ىہ ہے کہ ملک ىمىن اور منکوحہ بىوى کے سوا کسى کے ساتھ ہر طرح کا تعلق اسلام نے ابتداء ہى مىں منع کردىا تھا۔قرآن کے اس حکم کے بعد ہم اطمىنان سے کہہ سکتے ہىں کہ متعہ اسلام کى تعلىمات کا حصہ نہىں ہے۔لىکن چونکہ اہل سنت کے بعض علما بھى رواىات کى وجہ سے دور اول مىں ىعنى فتح مکہ تک اس کے جواز کے قائل ہىں اور بعد مىں اسے حرام مانتے ہىں، تو ضرورى ہے کہ ہم ان رواىات پر بھى اىک نگاہ ڈال لىں۔

    صرف صحىح مسلم اور صحىح بخارى ہى کو اگر دىکھ لىں تو شرىعت کے تمام امور کے برعکس ىہ واحد چىز ہے کہ جو غزوہ اوطاس، فتح مکہ اور جنگ ِخىبر کے مواقع پر تىن بارحرام ہوئى اور تىن بار حلال ہوئى اور پھر بالآخر قىامت تک کے لىے حرام کردى گئى!جبکہ اوپر ہم عرض کرچکے ہىں کہ سورہ معارج اور سورہ المومنون کے مطابق متعہ مکى دور ہى سے حرام تھا۔ تو کىا ـــــــنعوذ باللہ ـــــــ نبى اکرم قرآنى حکم کے برخلاف اس کى اجازت دىتے رہے اور پھر دو ىا تىن دن کے بعد اجازت واپس لىتے رہے۔ ىا ـــــنعوذ باللہ ـــــــکىا آپ کو پچھلى دفعہ کى حرمت بھول جاتى تھى؟ جبکہ آپ معصوم عن الخطا ہىں۔دىن کے باقى حکم بھى منسوخ ہوئے ہىں ، لىکن اس طرح کوئى نہىں ہوا کہ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ حرام ہے، انھوں نے آپ سے اجازت لى، آپ نے اجازت دى، دوسرىے ىا تىسرے دن ىہ اجازت اٹھا لى گئى۔ دوسرى جنگ کے موقع پر پھر ىہى ہوا، آپ نے لوگوں کو اجازت دى، دو ىا تىن دن کے بعد پھر اجازت واپس لے لى گئى، اس طرى تىسرى جنگ مىں بھى ہوا ۔ سوال پىدا ہوتا ہے کہ آىا ىہ اللہ کا رسول ہے ، ىا نہىں؟ جس کو اىک ڈىڑھ سال کے اندر ہى اندر تىن دفعہ بات کو بدلنا پڑا ۔اس لىے اس مسئلے مىں رواىات پر اعتبار نہىں کىا جاسکتا۔ کچھ سازش سى محسوس ہوتى ہے۔

    مزىد ىہ بات بھى ذہن نشىن رکھىے کہ عربوں کى قبل از اسلام تارىخ مىں اس کا ثبوت نہىں ملتا۔ جو نکاح کے طرىقے قبل از اسلام عربوں مىں رائج تھے ان مىں متعہ ہر گز شامل نہىں تھا۔

    اب رہا آپ کا آخرى سوال کہ نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم کے زمانے مىں اىک کام ہو اور کىا ابو بکر و عمر رضى اللہ عنہما اس کو روک سکتے ہىں۔شرىعت کے مسئلے مىں انھىں ىہ حق نہىں ہے۔ ىعنى جہاں شرىعت نے کوئى حکم دىا ہو تو وہاں وہ اىسا نہىں کرسکتے ، لىکن جہاں معاملہ تدبىرى ہو، ىا شرىعت خاموش ہو، اور نبى اکرم کے زمانے مىں اس کے بارے مىں کوئى قانون نہ ہو تو وہاں قانون بناىا جاسکتاہے۔ مثلا نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم نے سڑک پر چلنے کے لىے اشارہ کى پابندى کا کوئى قانون نہىں دىا تھا۔ ہم اس قانون کو بناسکتے ہىں۔ اىسا ہى قانون ابو بکر و عمر بھى بناسکتے تھے۔ ىہ ہمارى کم فہمى ہوتى ہے کہ ہم ان کے تمام قوانىن کو شرعى سمجھ لىتے ہىں۔ حالانکہ وہ محض انتظامى ہوتے ہىں(جىسےحضرت عمر کا فوج کے لىے تىن ماہ بعد گھر آنے کا قانون)۔

    ابو بکر ، عمر، عثمان اور على رضى اللہ عنہم نے جتنے قانون بنائے ، وہ سب کے سب اسى انتظامى اصول پر بنائے گئے۔ مثلا نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم کے زمانے مىں شرابى کو کوڑے نہىں لگائے جاتے تھے، حضرت على کا اجتہاد تھا کہ قذف کے اصول پر شرابى کو 80 کوڑے لگائے جائىں۔اب کوئى شخص ىہ کہہ سکتا ہے کہ جس جرم کى سزا نبى اکرم نے مقرر نہىں کى کىا حضرت على اسے مقرر کرسکتے ہىں۔ تو ہم ىہى کہىں گے کہ شرىعت کے دائرے سے باہر اگر مسئلہ انتظامى نوعىت کا ہے تو بناسکتے ہىں ، اور اگر شرىعت کے خلاف ہو تو نہىں بناسکتے۔اسى اصول پر بعد مىں فقہى قانون سازى ہوئى۔ بلاشبہ اس مىں کبھى حدود سے تجاوز بھى ہوتا رہا ہے مگر بہرحال اىک دائرہ اىسا ہے کہ اس مىں شرىعت سازى نہىں، لىکن قانون سازى ہو سکتى ہے۔

    اسى طرح بسا اوقات ہمىں قانون کے بعض پىچىدہ پہلوؤں کا علم نہىں ہوتا، ابو بکر وعمر اور عثما ن و على جىسے لوگ اس سے واقف ہوتے ہىں ، جس وجہ سے وہ قانون کے اس پہلو کا استعمال کرلىتے ہىں جو ہمارے لىے نىا ہوتا ہے اور ان کے لىے وہ اس قانون کا مانا ہوا حصہ ہوتا ہے۔اس دائرے مىں ھى جب وہ اپنے فہم کا اظہار کرىں گے تو ہمىں لگے گا کہ وہ دىن کو بدل رہے ہىں۔

    (Sajid Hameed)

  • ودود

    Member March 26, 2021 at 11:59 pm

    What makes a woman a wife is the marriage contract right? What terms the parties agree in the contract is upto them right? The concubines of that time were also bound under social contract with their masters so what makes mutta marriage contract different from other marriage contracts? I can see the difference between a contract for prostitution and a mutta marriage both are not the same for the reason that a prostitute can have contracts with more than one clients concurrently and does not follow the condition of the mandatory cooling off period (iddat) while switching partners whereas mutta has all those conditions that apply to a regular marriage contract.

    Please explain thanks

    • Umer

      Moderator March 27, 2021 at 12:09 am

      The primary and a must condition in a marriage contract is to live as a husband and wife for the rest of their lives. In the absence of this condition, no contract is a marriage contract, irrespective of the other conditions.

  • ودود

    Member March 27, 2021 at 12:11 am

    For the rest of their life? who said that?

    • Umer

      Moderator March 27, 2021 at 2:14 pm

      This is a well know definition of Nikah. Every Nikah is a Nikah only if it is entered into with this intention.

  • ودود

    Member March 27, 2021 at 7:10 pm

    A well known definition does bot make the less well known definitions illegal. You need to based it on some moral values to make it forbidden.

    I see no moral issues in a marriage with a time frame be it in writing or just a verbal understanding if the circumstances requires managing expectations in view of the couple’s future plans or uncertainties.

  • Faisal Haroon

    Moderator March 27, 2021 at 7:58 pm

    Marriage is an institution through which we partake in God’s scheme to bring new human beings to this world and help them grow so that they could be tested. They in turn take care of us when we get older, and the cycle is repeated when they also decide to get into marriages for themselves. The concept of marriage is self evident in human nature, and it is universal. Neither is any definition of marriage needed, nor any rational evidence for contract marriages.

    I can see the difference between a contract for prostitution and a mutta marriage both are not the same for the reason that a prostitute can have contracts with more than one clients concurrently and does not follow the condition of the mandatory cooling off period (iddat)

    Regardless of a single male client or many, prostitution is strictly forbidden. When prostitution itself is forbidden, any discussion regarding contracts is irrelevant. The iddah period in case of a divorce is to protect the potential offspring’s rights, it has nothing to do with the definition or the concept of marriage.

    In short, mutah is an immoral act and it is strictly forbidden.

  • ودود

    Member March 27, 2021 at 8:54 pm

    Agree with you on prostitution but still cant see the evil you are trying highlight in a mutta contract.

    Here is a scenario for you to consider:

    Lets say a Pakistani students meets and indian girl in the US while doing their PhD They agree to marry until their student visa in US is valid then they go back to their home countries assuming indian pakistani don’t give visas to each other

    Would the marriage be unlawful?

  • Faisal Haroon

    Moderator March 27, 2021 at 9:36 pm

    Laws are general and are meant to uphold the spirit of the underlying matter – they don’t consider exceptions by default.

    In the hypothetical situation you stated above, the marriage will still be with the intent of staying together for life, if at all possible. However, for practical reasons, it should be discussed and agreed upon, perhaps even contractually, that if visa can’t be arranged after all due effort, then both parties will agree to a divorce. This is not mutah.

    Personally, I would not advise anyone to get into this kind of a marriage to begin with. In the event of a childbirth, things can get very complicated very fast. Even without a child, the emotional attachment and dependence in a marriage are not easy to get over.

  • ودود

    Member March 27, 2021 at 9:57 pm

    We can all have personal opinions but i was trying to explain the legal position.

The discussion "Contract Marriage (Mutah)" is closed to new replies.

Start of Discussion
0 of 0 replies June 2018
Now