Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Examples Of Ijma And Tawatur

Tagged: ,

  • Examples Of Ijma And Tawatur

    Posted by Hamza Ali on April 11, 2021 at 9:43 am

    I found out that the ‘deen’ of Islam was transferred to us through ijma and tawatur. I already know what these terms mean. But, i wanna know how is Quran protected through ijma and tawatur? Can we prove that this book is the same it was 1400 years ago?

    it would be great if you could provide some Examples of Ijma And Tawatur

    Apologies if my question doesn’t make sense.

    Munnoo Khan replied 2 years, 10 months ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • Examples Of Ijma And Tawatur

    Munnoo Khan updated 2 years, 10 months ago 2 Members · 2 Replies
  • Munnoo Khan

    Member April 11, 2021 at 1:15 pm

    The big difference between Preservation of Qur’an and compilation of other religious material is that Qur’an was written and memorized by many Sahabah (RA) during the lifetime of Prophet Muhammad pbuh.
    The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) appointed a group of his companions who were trustworthy and knowledgeable to write down the revelation. They are known in their biographies as those who wrote down the Revelation, such as the four Caliphs, ‘Abd-Allaah ibn ‘Amr ibn al-‘Aas, Mu’aawiyah ibn Abi Sufyaan, Zayd ibn Thaabit and others – may Allaah be pleased with them all. The Qur’aan continued to be preserved in the hearts of the Sahaabah who had memorized it, and on the skins and other materials until the time of the caliph Abu Bakr al-Siddeeq (may Allaah be pleased with him). During the Riddah wars many of the Sahaabah who had memorized the Qur’aan were killed, and Abu Bakr (may Allaah be pleased with him) was afraid that the Qur’aan would be lost. So he consulted the senior Sahaabah about compiling the Qur’aan in a single book so that it would remain preserved and would not be lost. He entrusted this mission to the chief of memorizers Zayd ibn Thaabit (may Allaah be pleased with him). Al-Bukhaari narrated in his Saheeh (4986).
    For more details click below:https://islamqa.info/en/10012

  • Munnoo Khan

    Member April 11, 2021 at 1:21 pm

    جنگ یمامہ میں ( صحابہ کی بہت بڑی تعداد کے ) شہید ہو جانے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن بڑی تعداد میں قتل ہو جائیں گے اور یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو ( باقاعدہ کتابی شکل میں ) جمع کرنے کا حکم دے دیں۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی زندگی میں ) نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارخیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے باربار کہتے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا بھی سینہ کھول دیا اور اب میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ ( زید رضی اللہ عنہ ) جوان اور عقلمند ہیں، آپ کو معاملہ میں متہم بھی نہیں کیا جا سکتا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتے بھی تھے، اس لیے آپ قرآن مجید کو پوری تلاش اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے کے لیے کہتے تو میرے لیے یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ ان کا یہ حکم کہ میں قرآن مجید کو جمع کر دوں۔ میں نے اس پر کہا کہ آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک عمل خیر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ برابر دہراتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی ان کی اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح سینہ کھول دیا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید ( جو مختلف چیزوں پر لکھا ہوا موجود تھا ) کی تلاش شروع کر دی اور قرآن مجید کو کھجور کی چھلی ہوئی شاخوں، پتلے پتھروں سے، ( جن پر قرآن مجید لکھا گیا تھا ) اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا۔ سورۃ التوبہ کی آخری آیتیں مجھے ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملیں، یہ چند آیات مکتوب شکل میں ان کے سوا اور کسی کے پاس نہیں تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم‏» سے سورۃ براۃ ( سورۃ توبہ ) کے خاتمہ تک۔ جمع کے بعد قرآن مجید کے یہ صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔ پھر ان کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے جب تک وہ زندہ رہے اپنے ساتھ رکھا پھر وہ ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔

    Sahih Bukhari – 4986

    http://www.theislam360.com

You must be logged in to reply.
Login | Register