Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia سود / Riba When Allowing A Friend To Borrow Money From Bank

Tagged: ,

  • سود / Riba When Allowing A Friend To Borrow Money From Bank

    Posted by Muhammad Asif on April 17, 2021 at 3:23 pm

    اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ

    میرے ایک عزیز نے مجھ سے 10 لاکھ کا قرضہ مانگا… میری پاس نہیں تھا… وہ بولا کہ میں بینک سے اپنے نام کا قرض نکلوا کر اس کو دے دوں اور وہ ماہانہ قسط کی ادائیگی کرتا رہے گا … میں نے بینک سے 10 لاکھ کا قرض نکلوا کر اس کو دے دیا ۔ اور اس نے ٹائم پر ادائیگی کر کے قرض کی رقم بمہ سود واپس کر دی …. اس لین دین میں میرا نہ تو کوئی فائدہ ہوا ۔ اور نہ کسی طرح کا نقصان… صرف اور صرف قرض میرے نام پر تھا اور ماھانہ قسط کی ادائیگی میں خود کرتا تھا

    استاذ غامدی صاحب 23 اعتراضات والی وڈیو میں سود کے ٹاپک پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ اصل میں سود لینے والا اور کھلانے والا مجرم ہیں ۔

    میرا استاذ غامدی صاحب سے سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر بھی سود کھلانے والوں کا اطلاق ہو گا ؟؟

    براہ کرم اس سوال کا جواب یسئلون کے وقفہ سوالات میں عنایت فرمائیں۔

    جزاک اللہ خیراً

    Faisal Haroon replied 3 years, 3 months ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • سود / Riba When Allowing A Friend To Borrow Money From Bank

    Faisal Haroon updated 3 years, 3 months ago 2 Members · 2 Replies
  • Muhammad Asif

    Member April 19, 2021 at 3:14 pm

    Sleepy no one reply

  • Faisal Haroon

    Moderator April 19, 2021 at 4:34 pm

    Response from Hassan Ilyas sahab:

    اس سوال۔کے جواب میں عرض ہے کہ آپ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا،

    اسی لیے کہ آپ بینک کی جانب سے آسامی تلاش کر کے نہیں لائے کہ اسے ظلم کی چکی میں پیش کر زائد پیسہ وصول کیا جائے، بلکہ آپ نے نیکی اور خیر کی بنیاد پر یہ کام کیا۔

    مع سلام

You must be logged in to reply.
Login | Register