Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Quran 35:32 – قرآن کے وارث کون

  • Quran 35:32 – قرآن کے وارث کون

    Posted by Shahbaz Shah on July 18, 2021 at 9:08 pm

    Surat No 35 : Ayat No 32

    ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾

    پھر ہم نے ان لوگوں کو ( اس ) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا ۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے ۔

    اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کو کتاب کا وارث بنایا.

    میرا سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں کتاب کے وارث کون ہیں؟بنی اسماعیل (مکہ کے رہنے والے) یا ساری مسلمان امت

    Saiyed juned Alimiya replied 2 years, 6 months ago 4 Members · 11 Replies
  • 11 Replies
  • Quran 35:32 – قرآن کے وارث کون

  • Umer

    Moderator July 19, 2021 at 12:40 am

    Please refer to the following response by Ghamidi Sahab:

    Discussion 36863 • Reply 36904

  • Umer

    Moderator July 19, 2021 at 12:41 am

    Please also refer to the following video from 32:47 to 44:43

    https://youtu.be/XiPY32Xkpgg?t=1967

  • Shahbaz Shah

    Member July 25, 2021 at 5:32 am

    Surat No 35 : Ayat No 32

    ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾

    پھر ہم نے ان لوگوں کو ( اس ) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا ۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے ۔

    کیا یہ آیت بنی اسماعیل کیلئے خاص تھی؟الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا سے مراد ہم امت مسلمہ بھی لے سکتے ہیں؟

    ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ کا مطلب اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے,یہاں ظلم سے مراد شرک ہے؟

  • Umer

    Moderator July 25, 2021 at 6:38 am

    ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ

    (یہی حق اہل کتاب کے پاس بھی تھا، مگر اُنھوں نے اِس کی قدر نہیں کی)، پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اُن لوگوں کو بنادیا جنھیں اب ہم نے اپنے بندوں میں سے (اِس شرف کے لیے) منتخب کیا [128] ہے۔ سو اُن میں سے کچھ تو اپنی جان پر ظلم ڈھانے والے ہیں [129] اور کچھ اُن میں سے بیچ کے راستے پر ہیں [130] اور کچھ اللہ کی توفیق سے بھلائیوں میں سبقت کرنے والے [131] ہیں۔ یہی بہت بڑا فضل [132] ہے۔

    (Al-Bayan : Javed Ahmed Ghamidi)

    ______________________

    [128] بنی اسمٰعیل مراد ہیں جن کے اندر خدا نے اپنا پیغمبر اپنے آخری عہد نامے کے ساتھ بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا۔

    [129] یعنی اُنھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پوری قوت کے ساتھ پیغمبر کی مخالفت کریں گے اور اِس شرف عظیم سے اپنے آپ کو محروم کر لیں گے، جیسے ابوجہل، ابولہب وغیرہ۔ یہ پہلا گروہ ہے۔

    [130] یہ دوسرے گروہ کا ذکر ہے جو مخالف اور معاند تو نہیں ہے، لیکن آگے بڑھ کر اِس دعوت کو قبول کرنے اور اِس کی حمایت میں کھڑے ہو جانے کا حوصلہ بھی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ اِن کے لیے آیت میں لفظ ’مُقْتَصِد‘استعمال ہوا ہے۔ اِس سے قرآن نے امید دلائی ہے کہ دیر سویر اِن کا تردد دور ہو جائے گا اور خدا نے چاہا تو یہ اِس نعمت عظمیٰ سے محروم نہیں رہیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا اور اِن میں سے زیادہ بعد میں ایمان لے آئے۔

    [131] یہ تیسرا گروہ ہے جسے قرآن نے دوسری جگہ ’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘*بھی کہا ہے۔ اِس کے سرخیل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر حق کا شعور اتنا قوی ہوتا ہے کہ ہر دعوت حق اُن کو فوراً اپیل کرتی ہے اور اُن کی قوت ارادی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ جب اُن کو کوئی چیز اپیل کر لیتی ہے تووہ اُس کی خاطر راہ کے تمام عقبات ایک ہی جست میں پار کر جاتے ہیں اور اُس کی حمایت یا مدافعت میں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے، بلکہ تمام رکاوٹوں کا پوری دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے نیکی اور بھلائی کے ہر میدان میں گوے سبقت لے جانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ ‘‘

    (تدبر قرآن۶/ ۳۸۵)

    [132] یہ نہایت بلیغ اسلوب میں دوسرے گروہ کے لیے دعوت ہے کہ ابھی موقع ہے، وہ بھی اِس فیض عظیم سے اپنا حصہ لے سکتے ہیں۔

    * التوبہ۹:۱۰۰۔

  • Shahbaz Shah

    Member August 20, 2021 at 5:04 am

    Jam e Tirmazi Hadees # 3225

    حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32 قَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات» ”پھر ہم نے اللہ کے حکم سے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، تو ان میں سے بعض تو خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض نیکی و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“ ( فاطر: ۳۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”یہ سب ایک ہی درجے میں ہوں گے اور یہ سب کے سب جنت میں جانے والے لوگ ہیں“۔

    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

    Sahih Hadees

    اس حدیث کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟

    • Umer

      Moderator August 22, 2021 at 7:42 am

      Riwayat Ghareeb hai kyunkai iska aik hi turk hai, laikin bazhir sanadan theek hai.

      Laiking Quran kai alfaz is tashrih ko qabool nhi kartay, toh is riwayat ko ravi ki taraf hi lota daina chaiyai.

    • Umer

      Moderator August 23, 2021 at 3:40 am

      Following is the relevant explanation by Ameen Ahsan Islahi Sahab:

      خلق کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کا انتظام: یہ اس انتظام کا ذکر ہے جو اپنی ہدایت سے خلق کو بہرہ یاب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ’اَلَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا‘ سے یہاں بنی اسماعیل یا بالفاظ دیگر ’امیین عرب‘ من حیث الجماعت مراد ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اپنا وہ آخری رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا جس کے ذریعے سے خلق کو آخری اور کامل شریعت ملنے والی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے اپنے بندوں میں سے ایک دوسرے کو چنا اور اس کو اپنی کتاب کا وارث بنایا۔ ’وارث بنایا‘ کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس سے پہلے جو لوگ کتاب الٰہی کے وارث بنائے گئے تھے (یعنی بنی اسرائیل) ان سے یہ امانت چھینی اور ایک دوسرے گروہ کو ’جس کو اس شرف کے لیے منتخب کیا، یعنی بنی اسماعیل کو‘ یہ امانت بخشی۔ امیوں کے اسی شرف کی طرف اشارہ سورۂ جمعہ کی آیت ’ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ الاٰیۃ‘ میں ہے اور قرآن نے جگہ جگہ ان کے اس شرف کا حوالہ دے کر ان کو ایمان کی دعوت دی ہے کہ وہ اس کی قدر کریں۔ اگر انھوں نے اس کی قدر نہ کی تو دنیا کی امامت کی جس عزت کے لیے اللہ نے ان کا انتخاب فرمایا ہے وہ اس سے اپنے کو محروم کر لیں گے۔ امیوں کی اس عزت افزائی کا ذکر سورۂ نساء میں یوں آیا ہے:

      أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمُ اللّہُ مِن فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً ۵ فَمِنْہُم مَّنْ آمَنَ بِہِ وَمِنْہُمْ مَّن صَدَّ عَنْہُ وَکَفَی بِجَہَنَّمَ سَعِیْرًا (النساء: ۵۴-۵۵) ’’کیا (بنی اسرائیل) اس فضل کی بنا پر لوگوں پر (بنی اسماعیل پر) حسد کر رہے ہیں جو ہم نے ان پر (بنی اسماعیل پر) کیا؟ اگر وہ حسد کر رہے ہیں تو جتنا حسد کرنا چاہیں کر لیں، ہم نے تو آل ابراہیم (بنی اسماعیل) کو کتاب اور حکمت بھی عطا فرمائی اور ان کو ایک عظیم بادشاہی بھی بخشی تو ان میں سے (بنی اسماعیل میں سے) کچھ تو اس کتاب پر ایمان لائے اور ان میں سے کچھ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں اور دوزخ کی آگ ان کے لیے کافی ہے۔‘‘

      اس آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں آیت زیربحث کو سمجھنے کے لیے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ جس طرح اس آیت میں بنی اسماعیل من حیث الجماعت مراد ہیں اور ان کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم دیے جانے کا ذکر ہے اسی طرح آیت زیربحث میں ان کی جس برگزیدگی کی طرف اشارہ ہے وہ من حیث الجماعت ان کو حاصل ہوئی۔ یہود کو ان کی اس برگزیدگی پر بڑا حسد تھا اور ان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا ایک بڑا محرک یہی تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ کی نبوت اگر قائم ہو گئی تو اس طرح وہ مذہپبی پیشوائی جو اب تک ان کو حاصل رہی ہے ان کے حریفوں یعنی بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ قرآن نے جگہ جگہ بنی اسرائیل کے اس کھوٹ سے عربوں کو آگاہ کیا ہے اور ان کو دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس شرف سے نوازا اور جس منصب عظیم کے لیے ان کا انتخاب فرمایا ہے اس کی قدر کریں، اس کی مخالفت کر کے اپنے دشمنوں کی مقصد برآری کا سامان نہ کریں۔ اسی طرح یہاں اس برگزیدگی کا حوالہ اس مقصد سے دیا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کی قدر کریں، اس سے محروم نہ رہیں۔ قرآن کے باب میں بنی اسمٰعیل کا رویہ من حیث الافراد۔ پہلا گروہ: ’فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ‘۔ یہ من حیث الافراد ان کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے جواب میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ ان میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں یعنی اپنی ایڑی چوٹی کا زور اس کی مخالفت میں صرف کر رہے ہیں۔ نہ خود اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں نہ کسی دوسرے ہی کو قبول کرنے دینا چاہتے ہیں۔ سورۂ نساء کی مذکورہ بالا آیت میں اسی گروہ کا ذکر ’وَمِنْہُمْ مَّنۡ صَدَّ عَنْہُ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے یعنی خود بھی اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ لفظ ’صد‘ رکنے اور روکنے دونوں معنوں میں آتا ہے۔ اسی گروہ کو یہاں ’ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ اپنی اس مخالفت سے اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں کہ اپنے لیے خدا کے سب سے بڑے فضل سے محرومی اور جہنم کے عذاب کا سامان کر رہے ہیں ورنہ جہاں تک خدا کے دین کا تعلق ہے اس کو ان کی مخالفت سے کوئی گزند پہنچنے والا نہیں ہے۔ لفظ ’ظلم‘ سے قرآن مجید میں بالعموم شرک کو تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ صافات میں ہے:

      ’وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ‘ (۱۱۳) (اور ان دونوں (ابراہیم و اسحاق) کی ذریت میں نیکوکار بھی ہیں اور اپنی جانوں پر کھلا ہوا ظلم ڈھانے والے بھی)

      مفسرین نے عام طور پر ’اَلَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا‘ سے امت مسلمہ کو مراد لیا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ بھی، معلوم نہیں، کس طرح نکال لیا ہے کہ یہ ظالمین بھی بخش دیے جائیں گے۔ ہم نے آیت کا صحیح موقع و محل معین کر دیا ہے اس وجہ سے اس خیال کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہماری تائید میں حضرت ابن عباس اور مجاہد سے روایات بھی ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو تفسیر ابن کثیر یا تفسیر ابن جریر میں دیکھ لیجیے۔ ان بزرگ مفسرین نے ’ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ‘ سے ان لوگوں کو مراد لیا ہے جن کا ذکر سورۂ واقعہ میں ’اَصْحَابُ الْمَشْئَمَۃ‘ سے ہوا ہے۔ دوسرا گروہ: ’وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ‘ یہ دوسرے گروہ کا ذکر ہے۔ ’مقتصد‘ میانہ رو کو کہتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ مخالفت تو نہیں کرتے ہیں لیکن آگے بڑھ کر اس دعوت حق کی حمایت کا حوصلہ بھی نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا مخالفت نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو اس دعوت کے حق ہونے کا احساس ہے لیکن یہ احساس قوی نہیں ہے کہ وہ تمام پیش و عقب سے بالکل بے پروا ہو کر اس کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ قرآن نے ان کے لیے یہ لفظ استعمال کر کے فی الجملہ ان کے متعلق یہ امید دلائی ہے کہ یہ لوگ پہلے گروہ (ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ) کی طرح اس نعمت سے محروم رہنے والے نہیں ہیں بلکہ دیر سویر ان کا تردد رفع ہو جائے گا اور اللہ نے چاہا تو یہ اس دعوت کے پرزور حامیوں میں بن جائیں گے۔ تیسرا گروہ: ’وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ‘ یہ تیسرے گروہ کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر حق کا شعور اتنا قوی ہوتا ہے کہ ہر دعوت حق ان کو فوراً اپیل کرتی ہے اور ان کی قوت ارادی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ جب ان کو کوئی چیز اپیل کر لیتی ہے تو وہ اس کی خاطر راہ کے تمام عصبات ایک ہی جست میں پار کر جاتے ہیں اور اس کی حمایت یا مدافعت میں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے بلکہ تمام رکاوٹوں کا پوری دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے نیکی اور بھلائی کے ہر میدان میں گوئے سبقت لے جانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ یہ اشارہ اسلام کے سابقون اولون کی طرف ہے جن کے سرخیل سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے۔ اس گروہ کی سبقت بالخیر، کے ساتھ ’بِإِذْنِ اللّٰہِ‘ کی قید اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس رتبۂ بلند کی سرفرازی ہر ایک کا حصہ نہیں ہے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے یہ رتبہ بخشتا ہے۔ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں تقدم اور تاخر کے لیے مقرر کر رکھی ہے اور جس کی طرف اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ ’ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ‘۔ یہ اس مرتبۂ بلند کا بیان ہے جو ان سابقون بالخیرات کو حاصل ہو گا۔ اور اس میں نہایت بلیغ انداز میں ’مقتصدین‘ کے لیے دعوت بھی ہے کہ ابھی موقع ہے کہ وہ بھی اس فضل کبیر میں حصہ دار بننے کے لیے قسمت آزمائی کر سکتے ہیں، تو وہ تذبذب کو چھوڑیں اور ہمت کر کے آگے بڑھیں۔ یہاں ہم ان اشارات پر کفایت کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ سورۂ واقعہ کی تفسیر میں اس کے تمام اطراف زیربحث آئیں گے۔

  • Shahbaz Shah

    Member December 26, 2021 at 12:39 am

    Surat No 35 : Ayat No 32

    ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾

    پھر ہم نے ان لوگوں کو ( اس ) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا ۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے ۔

    Surat No 35 : Ayat No 33

    جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾

    وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے ۔ اور پوشاک وہاں ان کی ریشم کی ہوگی ۔

    کیا آیت 33 میں یَّدۡخُلُوۡنَہَا کا استعمال یہ ظاہر نہیں کرتا کہ آیت 32 میں جن تین گرہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ تینوں جنتی ہیں؟

    یدخل یدخلون یدخلونھا

    • Umer

      Moderator December 26, 2021 at 2:47 pm

      Dr. Irfan Shahzad Sahab (@Irfan76 ) can comment better on the use of ‘یَّدۡخُلُوۡنَہَا‘ in verse 33 w.r.t its application to the verse 32 from Arabic Language’s point of view.

      According to my understanding, It is subject to ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ and the ones who made themselves eligible for it just like sabiqoon-al-Awaaloon.

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 29, 2021 at 12:00 am

    جنر کی بشارت اسی کے لیے ہے جو اس کا اہل ہو۔ آخر کی بشارت آخر الذکر گروہ کے لیے واضح ہے اور مقتصد کے لیے بھی متوقع ہے۔ مگر ظالم کے لیے نہیں ہو سکتی۔ کلام میں یہ طے شدہ مضمرات ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

    اس آیت سے دوسرا مطلب لینا نہ کلام کا تقاضا ہے اور نہ خدا کے طے شدہ قانون کے مطابق درست ہے۔

  • Saiyed juned Alimiya

    Member January 5, 2022 at 12:43 am

    MMean ke hijaaz & gair hijaz do part he islamic world ke bani ismail dono jagah he, menans jo jaha he us tarah behaviour karega ,

The discussion "Quran 35:32 – قرآن کے وارث کون" is closed to new replies.

Start of Discussion
0 of 0 replies June 2018
Now