Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Quran 33:41-42 Exegesis

Tagged: 

  • Quran 33:41-42 Exegesis

    Posted by Hammad Yousaf on May 14, 2022 at 3:00 am

    یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا﴿ۙ۴۱﴾

    وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۴۲﴾

    Surah Ahzab Ayat number 41 and 42

    Please mujhe iss Ayat Ka complete tarjuma and tafseer detailed me guide kiye ga

    Mujhe iss Ayat Ka tarjuma aur detail smajh nahi aa rhai. Mene Gahmdi sahab Ka tarjuma bhi parha he but phir bhi smajh Nahi aaya

    Umer replied 1 week, 4 days ago 2 Members · 4 Replies
  • 4 Replies
  • Quran 33:41-42 Exegesis

    Umer updated 1 week, 4 days ago 2 Members · 4 Replies
  • Umer

    Moderator May 14, 2022 at 10:51 am

    یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا﴿ۙ۴۱﴾ وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۴۲﴾

    ایمان والو، (اِن کے شور و غوغا سے بے پروا ہو جاؤ اور) اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔

    اور صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے [95] رہو۔

    __

    [95]. یہ نماز کی تعبیر اور عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ راہ حق پر ثابت قدمی کے لیے قرآن میں یہ تلقین جگہ جگہ کی گئی ہے، اِس لیے کہ شیطان اور اُس کی ذریات کے مقابل میں بندۂ مومن کی اصل سپر یہی خدا کی یاد ہے۔

    (Excerpt from Al-Bayan: Javed Ahmed Ghamidi)

    Explanation by Amin Ahsan Islahi:

    مسلمانوں کو ثابت قدمی کی تاکید: یہ مسلمانوں کو منافقین و مفسدین کی اس محاذ آرائی کے مقابل میں ثابت قدم رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور اس کی تدبیر یہ بتائی ہے کہ ان اشرار کے غوغا سے بے پروا ہو کر تم زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ امر واضح رہے کہ شیطان اور اس کی ذریات کے مقابل میں مومن کی اصلی سپر اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں معاندین کے مقابل میں ثابت قدمی کی تلقین کی گی ہے وہاں نماز کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم بحث کرتے آ رہے ہیں۔ (مثلاً دیکھیے سورۂ بقرہ۔ آیت ۴۵ کی تفسیر)۔

    وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا‘ میں ’تسبیح‘ نماز کی تعبیر ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ’ذکر‘ تو سانس کی طرح ہر وقت مطلوب ہے لیکن نمازوں کے لیے اللہ اور رسول نے اوقات مقرر فرما دیے ہیں جن کی جامع تعبیر صبح اور شام ہے۔ اس صبح و شام کے نقشہ کے اندر تمام نمازوں کے اوقات منضبط کر دیے گئے ہیں جس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل۔ آیت ۷۸، سورۂ طٰہٰ۔ آیت ۱۳۰

    _______________

    اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَ مِنۡ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡ وَ اَطۡرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرۡضٰی ﴿۱۳۰﴾

    سو جو کچھ یہ کہتے ہیں، اُس پر صبر کرو اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرتے [160] رہو، سورج کے نکلنے اور اُس کے غروب ہونے سے پہلے [161] اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو [162] اور دن کے کناروں پر [163] بھی۔ اِس لیے کہ (اُس کے صلے میں خدا کی عنایتوں سے) نہال ہو [164] جاؤ۔

    (Quran Surah Taha Chapter 20 Verse 130)

    (Exceprt from Al-Bayan: Javed Ahmed Ghamidi)

    __

    [160]. یہ ذکر کے پہلو سے نماز کی تعبیر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’۔۔۔یہ ذکر دو عنصروں سے مرکب ہے: ایک ’تَسْبِیْح‘، دوسرا ’حَمْد‘۔ ’تَسْبِیْح‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو اُن باتوں سے پاک و منزہ قرار دینا جو اُس کی شان کے منافی ہیں ۔ ’حَمْد‘ میں اثبات کا پہلو نمایاں ہے، یعنی اُس کو اُن صفات سے متصف قرار دینا جو اُس کے شایان شان ہیں۔ یہ نفی اور یہ اثبات، دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے صحیح تصور کو دل میں راسخ کرتے ہیں اور اِسی رسوخ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق قائم ہوتا ہے جو تمام صبر و توکل کی بنیاد ہے۔ اگر اِن کے اندر کسی پہلو سے کوئی ضعف یا عدم توازن پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے متعلق آدمی کا تصور غلط ہو جاتا ہے اور یہ غلطی اُس کے سارے نظام فکر و عمل کو بالکل درہم برہم کرکے رکھ دیتی ہے۔‘‘

    (تدبرقرآن۷/ ۵۶۷)

    [161]. یعنی فجر اور عصر کے وقت

    [162]. عشا اور تہجد کی نماز رات میں پڑھی جاتی ہے۔ یہ اُس کی طرف اشارہ ہے۔ آیت میں فعل کا اعادہ تاکید پر دلالت کر رہا ہے۔

    [163]. یہ تین ہی ہوسکتے ہیں: ایک صبح، دوسرا زوال آفتاب اور تیسرا شام کا کنارہ۔ چاشت، ظہر اور مغرب کی نمازیں دن کے اِنھی کناروں پر ادا کی جاتی ہیں۔ نماز کی یہ ہدایت صبر حاصل کرنے کی ایک تدبیر کے طور پر ہوئی ہے، اِس لیے کہ صبر کی توفیق جس کو بھی حاصل ہوتی ہے، اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے اور اللہ کی مدد حاصل کرنے کا واحد ذریعہ نماز ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’۔۔۔یہ آیات حق و باطل کی کشمکش کے نہایت مشکل دور میں نازل ہوئی ہیں۔ اِن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے واسطے سے امت کو وہ تدبیر بتائی گئی ہے جو مشکلات و مصائب میں ثابت قدم رکھنے والی اور خدا کی رحمت و نصرت کا حق دار بنانے والی ہے۔ اِس طرح کے حالات میں صرف فرض نمازوں ہی کا اہتمام مطلوب نہیں ہے، بلکہ نوافل کا اہتمام بھی مطلوب ہے۔ قرآن، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سلف صالحین کے عمل، ہر چیز سے ہمارے اِس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ عام حالات میں تو تہجد و اشراق کی نمازوں کی حیثیت بہر حال نفلی نمازوں ہی کی ہے، لیکن مشکلات و مصائب میں، خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، اِن کا اہتمام ضروری ہے۔‘‘

    (تدبرقرآن۵/ ۱۰۷)

  • Hammad Yousaf

    Member May 14, 2022 at 12:15 pm

    یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا﴿ۙ۴۱

    اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔

    Iss baat Ka Kya Matlab he

    Har waqt Banda zikar o azkar hi Karta rahe ??

  • Hammad Yousaf

    Member May 15, 2022 at 1:01 am

    اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔

    Iss baat Ka exactly Kya Matlab he

    Kya sirf 5 Waqt Namaz parh Lena kaafi he ??

    Ya farz Namaz ke ilawa zikar o Azkar Karna bhi laazmi farz he ???

    • Umer

      Moderator May 16, 2022 at 12:17 am

      Ji sawal samjh gaya ab main apka.

      Zikr ki haqeeqat samjhnay kai liya neechay waali video mulahiza karain:

      Discussion 40348 • Reply 40376

You must be logged in to reply.
Login | Register