Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Status Of Biddah After Removing Objections On That Biddah

Tagged: 

  • Status Of Biddah After Removing Objections On That Biddah

    Posted by irfan yakoob on May 9, 2023 at 5:19 am

    اسلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر بدعت پر ہونے والے اعتراضات دور کر دیے جائیں تو کیا وہ جائز ہوسکتی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم اسے دین سمجھ نہیں کر رہے مثلاً فوتگی کے بعد جو قل کیے جاتے ہیں انکے بارے میں کوئی کہے کہ ہم اسے دین سمجھ کر نہیں کر رہے ؟قل کا نام بھی دعا کر دیں ایصال ثواب کی جگہ حصول ثواب کر لیں کسی خاص دن کی ترتیب کی شرط بھی ختم کرلیں تو کیا یہ ایکٹیویٹی جائزہ ہوگی؟ جزاک اللہ

    irfan yakoob replied 1 year, 1 month ago 2 Members · 11 Replies
  • 11 Replies
  • Status Of Biddah After Removing Objections On That Biddah

    irfan yakoob updated 1 year, 1 month ago 2 Members · 11 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 9, 2023 at 1:57 pm

    نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ قل اس لیے پڑھے جاتے ہیں کہ ثواب مردے کو ملے گا۔ یہ تصور ہی بے بنیاد ہے۔

    دن مخصوص کرنا بدعت تب بنے گا جب کسی خاص دن میں کوئی اضافی اجر و ثواب سے سمجھ لیا جائے۔ ورنہ محض دن مخصوص کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

  • irfan yakoob

    Member May 9, 2023 at 2:18 pm

    لیکن سب سے بڑا اعتراض تو دین میں اضافہ ہے تو یہ اعتراض یہ کہہ کر دور کر دیا جائے ہم اسے دین سمجھ کر نہیں کر رہے تو پھر کا جواز رہتا ہے اسے بدعت سے تعبیر کرنے کا۔ ایصال ثواب کی بجائے حصول ثواب کی نیت کرلی جائے؟ اب اصل نکتہ یہ ہے کہ کیا ایسے عمل کو محض بدعت کی مماثلت ہونے کی وجہ سے حرام کرار دیا جا سکتا۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 9, 2023 at 2:25 pm

    یہ سمجھنا کہ ثواب ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے ایک غیبی حقیقت ہے۔ اس کا جاننا تب ہی ممکن ہے جب اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے۔ خود سے یہ سمجھ لینا کہ ایسا ہو سکتا ہے دین میں اضافہ ہے۔ یہ اعتقاد میں ایک اضافی چیز ہے جس کا عملی اظہار ایصال ثواب یا حصول ثواب کی تقریب ہے۔ اعتقاد دین ہے اس میں اضافہ بدعت ہے۔ جو چیز اپنے نظریے میں ہی درست نہیں، اسے کسی بھی نا سے منعقد کریں نظریہ اس میں موجود ہے تو وہ بدعت ہی رہے گی۔

  • irfan yakoob

    Member May 9, 2023 at 2:41 pm

    جب ایصال ثواب کا اعتراض دور کرنے کی بات ہوگی تو مطلب دونوں پارٹیوں میں اجماع ہوگیا کہ ایسا ثواب ٹھیک نہیں اب اس حصے کو الگ کردیں اسکی ڈیٹیل میں مت جائیں۔

    اب اس کے علاوہ کیا اعتراض بنتا ہے؟ اور حصول ثواب کیسے بدعت ہو سکتا ہے اس بات کی سمجھ نہیں آئی مجھے ذرا وضاحت فرمائیں۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 10, 2023 at 12:19 am

    محترم جواب کیا دینا اس کی حدود کا تعین آپ نہیں کریں گے۔

    ایصال ثواب کا مطلب ہے آپ قرآن یا کوئی ذکر پڑھیں اور پھر اس کا ثواب مردے کو ٹرانسفر کر دیں۔ ایک شخص کیا یہ اختیار رکھتا ہے کہ اپنا اپنے نیک کام کا ثواب دوسرے کو ٹرانسفر کردے؟ اس کے لیے شریعت سے دلیل درکار ہے جو موجود نہیں۔ اللہ نے بتایا ہے کہ ہر انسان اپنے ہی اعمال کے لیے گروی ہے۔ انسان کو اس کے اپنے ہی کیے ہوئے اعمال کی جزا یا سزا ملے گی۔

    ایک آدمی کو ان کا موں کا صلہ ملے جو اس نے کیے ہی نہیں، یہ عقل اور دین سے باہر ہے۔

    البتہ ایک آدمی نے نیکی کا کوئی کام جاری کیا اور اس کے ثمرات اس کی موت کے بعد بھی جاری رہیں، تو یہ معقول ہے۔ اسی طرف رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ آدمی فوت ہو جاتا ہے مگر اس کے تین اعمال کا ثواب جاری رہتا ہے۔

    وَعَنْ اَبِیْ ه‍رَيرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلاَثَۃً اِلاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ ےُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ ےَّدْعُوْ لَہُ ۔ (صحیح مسلم)

    ” اور حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ (٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔” (صحیح مسلم)

  • irfan yakoob

    Member May 10, 2023 at 1:41 am

    ایک پارٹی ہے جس نے ایصال ثواب پر اعتراض کیا دوسری پارٹی جو ایصال ثواب کا ارادہ رکھتی تھی وہ اسے ترک کرکے اعتراض دور کر دیا اب ایصال ثواب پر تو دونوں متفق ہوگئے اسی کو اعتراض دور کرنا کہتے ہیں اب پہلے اپ یہ فرمائیں کے اس بعد آپکی ایصال سوال پر دلیل دینے کی کیا وجہ ہے جب کہ اُسے ترک کیا جا چکا ہے؟

  • irfan yakoob

    Member May 10, 2023 at 2:35 pm

    میں سمجھتا ہوں ابھی میرے نقطے میں مزید وضاحت درکار ہے اُسکے لیے ایک مثال پیش کرنا چاہو گا۔

    ایک گروپ ہے جو چھیویں فرض نماز کی بدعت اختیار کیے ہوئے ہے ۔ متنبہ کرنے پر انہوں نے اضافی فرض نماز سے رجوع کر لیا اور اسکی جگہ نوافل پڑنے لگے اب ترتیب وہی رہی صرف نیت کا فرق پڑ گیا۔ تو کیا ایسی صورت میں انکا عمل جائز ہوگیا؟ یا بدعت سے مماثلت ختم کرنے کے لیے ترتیب بھی بدلنی ہوگی یا سرے سے اسے ختم ہی کر دینا ہوگا۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 11, 2023 at 12:54 am

    جب ایصال ثواب کا ارادہ ترک کر دیا اس کے بعد حصول ثواب کیا چیز ہے؟ یعنی اپنے لیے ثواب کے لیے بیٹھ کر قرآن پڑھا جا رہا ہے؟

    ایسا ہے تو کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے اجتماع کی ضرورت کیوں ہے؟

    نوافل والی مثال درست ہے۔ کوئی اعتراض نہیں ہوتا اس پر۔

  • irfan yakoob

    Member May 11, 2023 at 1:13 am

    بہت شکریہ آخر میں یہ بھی بتا دیں کہ بدعت کی جو مماثلت باقی رہ جاتی ہے کیا وہ نقصان دے ہے اُسے ترک کرنا ضروری ہے یا نہیں ۔۔یہ سوال میں معاشرتی لحاظ سے پوچھ رہا ہوں کہ بدعت کو تو ترک کیا کا چکا ہو لیکن عام لوگوں کو اسے دیکھ کر یہی لگے کے یہ بدعت ہو رہی ہے تسلسل اور مماثلت کی وجہ سے جیسے اضافی فرض نماز کو چھوڑ کر نفل میں تبدیل کر لیا گیا لیکن ترتیب وہی رکھی اس میں کوئی قابل گرفت بات ہے؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 11, 2023 at 1:32 am

    جو رسومات موت سے متعلق ہیں، ان میں بدعت میں واپس پڑنے کا خدشہ بہت واضح ہے۔

    دیگر صورتوں میں یہ اتنا واضح نہیں۔ تاہم اس کا فیصلہ کیس ٹو کیس کرنا ہوتا ہے۔

  • irfan yakoob

    Member May 11, 2023 at 1:36 am

    بہت شکریہ آپکے وقت اور راۓ کا

    جزاک اللہ

You must be logged in to reply.
Login | Register