Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions لفظ کا حقیقی اور مجازی معنی کیسے پتہ چلے گا

  • لفظ کا حقیقی اور مجازی معنی کیسے پتہ چلے گا

    Posted by Abdul Basit on February 2, 2024 at 1:29 pm

    سلام علیکم

    یہ ایک سوال ہے اگر آپ میں سے کوئی محترم جاوید غامدی صاحب سے پوچھ کر بتا سکے تو ہم مرہونِ کرم ہوں گے

    وہ یہ کہ

    عند الغامدی خلافِ استعمال کو مجاز کہا جائے گا اور مطابقِ استعمال کو لفظ کا معنی اصلی کہا جائے گا

    یعنی کسی لفظ کا وضعی معنی استعمالِ شائع و اطراد سے ثابت ہوگا

    یا تبادر سے معنی کا ہتہ چلے گا چاہے استعمال کیسا بھی ہو

    کیونکہ ممکن ہے کثرت استعمال مجاز ہو

    مجھے ان کی بات سے لگا یہ لفظ کے معنی کا تعیّن استعمالِ شایع و اطراد سے کرتے ہیں اور اس کے الٹ استعمال کرنے کو مجاز کہا جائے گا

    (کیا میں درست سمجھا ہوں)

    یہ سوال اس لیے پوچھا گیا ہے تاکہ (رؤیا) کا معنی اصلی طے کیا جائے

    اگر کثرتِ استعمال جس طرف جائے گا وہی معنی طے ہوگا

    یا معیار تَبادُر ہے تو پھر کثرت استعمال سے معنی وضعی و اصلی طے نہ ہو سکے گا

    امید ہے رہنمائی کی جائے گی

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 weeks, 1 day ago 2 Members · 3 Replies
  • 3 Replies
  • لفظ کا حقیقی اور مجازی معنی کیسے پتہ چلے گا

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar February 3, 2024 at 3:52 am

    یہ جملے کی تالیف،، جملے میں میں استعمال ہونے والے والا محاورہ اور سیاق و سباق طے کرتا ہے کہ لفظ حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنی میں۔ مثلا انتقال کا لفظی مطلب منتقل ہونا ہے۔ مگر اس کا عام استعمال وفات کے لیے ہوتا ہے۔ چناں جب کوئی قرینہ مہیا نہیں ہوگا تو اسے عام استعمالل کے مطابق وفات کے معنی میں لیں گے۔ لیکن اسے اس کے حقیقی معنی میں استعمال کرنا ہوگا تو ساتھ قرینہ لگانا پڑے گا جیسے میں نے زمین کا انتقال اپنے نام کرایا۔

    رویا کا عام مطلب نیند میں دیکھا جانے والا خواب ہے۔ اور یہی اس کا عام استعمال ہے۔ اسے کسی دوسرے معنی میں استعمال کرنا ہوگا تو قرینہ مہیا کرنا ہوگا۔ جیسے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا۔ مسقبل کا خواب۔ اب یہ مفہوم نیند کے خواب کے مفہوم میں نہیں۔

    چناں جب قرآن میں رویا آیا ہے تو بغیر کسی اضافی قرینے کے ہے۔ اس لیے اسے لامحالہ نیند کا خواب ہی مراد لیا جائے گا۔

  • Abdul Basit

    Member February 6, 2024 at 1:59 am

    بہت شکریہ

    سر یہی سوال ہے کہ کیا “عام استعمال” دلیل ہے کہ لفظ کا اصلی و حقیقی معنی کیا ہے

    جیسے انتقال کی مثال دی گئی۔

    یا “عام استعمال و کثرت استعمال” دلیل نہیں بلکہ اہلِ زبان کا “تبادر” دلیل ہے۔

    تبادر: یعنی اہل زبان جس لفظ کو سنتے ہی ایک خاص معنی تک پہنچ جائیں۔۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar February 7, 2024 at 12:52 am

    اہل زبان کا تبادر ہی عام استعمال ہے۔ عام سے عوامی زبان مراد نہیں۔ عام استعمال ہی کو معروف معنی کہا جاتا ہے۔ زبان جیسے بولی سمجھی جاتی ہے اہل زبان ویسے ہی سمجھتے بولتے ہیں۔

You must be logged in to reply.
Login | Register