Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions قرآن قطعی الدلالة

  • قرآن قطعی الدلالة

    Posted by Abdul Basit on May 31, 2024 at 5:08 pm

    اس سلسلہ میں زبان کی منتقلی پر اعتراض کا جواب جناب غامدی صاحب یوں دیتے ہیں کہ زبان تواتر ہی سے نقل ہوتی ہے اور اس کے اسالیب وغیرہ بھی اور یہ بات بھی درست معلوم ہوتی ہے

    مگر سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ زبان مجموعی طور پر “تواتر” سے نقل ہوئی ہے اور خواص نے اس کا لحاظ کیا ہے مگر بہت سے ایسے الفاظ بھی ہیں جن کے مفاہیم تواتر کے بجائے محض “لغات” میں ثبت ہیں اور ان کے یہاں بنائے استدلال بھی چند ایک شعر یا امثال ہیں

    تو کیا ان کو بھی “تواتر” کہا جائے گا؟

    اگر یہ تواتر نہیں ہیں تو ان سے سمجھ آنے والا مفہوم “قطعی” کیسے ہے؟

    رہنمائی کیجیے گا

    Abdul Basit replied 1 week, 3 days ago 2 Members · 4 Replies
  • 4 Replies
  • قرآن قطعی الدلالة

    Abdul Basit updated 1 week, 3 days ago 2 Members · 4 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 31, 2024 at 7:18 pm

    وقت کے ساتھ کچھ الفاظ کا استعمال کم یا متروک ہو جاتا ہے۔ اپنی اصل کے لحاظ سے وہ بھی متواتر ہی تھے۔ اشعار اس لیے نقل کیے جاتے ہیں وہ لوگوں کے کلام سے انھیں کا ثبوت ریکارڈ میں ہوتا ہے۔ ورنہ عام لوگ بھی وہ لفظ بول رہے ہوتے ہیں اسی لیے شاعر بھی ان الفاظ کو استعمال کرتے ہیں۔

    کوئی لفظ واقعتا متواتر نہیں ہے اور لغت میں ثبت ہے۔ اس صورت میں صرف وہ لفظ ہی غیر متواتر ہوگا۔

    جہاں تک قرآن کا تعلق ہے اس میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو غیر متواتر ہو۔ اسی لیے بتایا گیا کہ قرآن بلسان عربی مبین نازل ہوا ہے شاذ اور نادر الفاظ کو شامل نہیں کیا گیا۔

  • Abdul Basit

    Member June 8, 2024 at 5:19 pm

    عزیزم! قرآن کے الفاظ قطعی ہیں کیونکہ وہ تواتر سے پہنچے ہیں مگر ان لفظوں کی دلالت زیر بحث ہے

    دوم: اشعار یا زبان تواتر سے اہل زبان تک پہنچی مگر الفاظ اپنے معانی کھوتے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اہل لغات نے تواتر ہی سے اخذ کر کے رقم کیے ہوں مگر ان کی لغات ہم تک بالتواتر نہیں بلکہ بالشھرة پہنچی ہیں جو کہ ظنی ہیں

    پس قرآن کے الفاظ کے معانی جن لغات یا شواہد سے معلوم کیے جا رہے ہیں وہ تو ظنی ہی ہیں تو اس کی دلالت “قطعی” کیسے ہو رہی ہے؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar June 8, 2024 at 7:16 pm

    پہلی بات یہ کہ قرآن کے الفاظ صرف لغت ہی سے نہیں پہنچے ایک زندہ بان کے طور پر مستعمل رہے اور مستعمل ہیں۔ اس کا کوئی لفظ بھی ایسا نہیں کہ اس کے معنی اپنے صدور سے اب تک کسی وقت متروک یا مجہول ہو گئے ہوں اور لغت سے اسے تلاش کرنا پڑے۔

    لغت سے لفظوں کا اشتقاق دیکھا جاتا ہے۔ لسانی مباحث دیکھے جاتے ہیں۔ غیر عرب کو البتہ زبان سیکھنی پڑتی ہے تو ہر لفظ کے لیے لغت کی مراجعت کرنا پڑتی ہے مگر لفظ اہل زبان میں اپنے معنی کے ساتھ متواتر ہی چلا آ رہا ہے۔

  • Abdul Basit

    Member June 10, 2024 at 5:28 am

    دو طرح سے زبان چلی آئی ہے ایک عوام کے یہاں اور دوسرے خواص کے یہاں

    خواص نے فصحی کا خیال رکھا ہے لیکن یہ کہ وہ لفظ کے تمام معنی برتتے آئے ہیں اور زمانہ میں نئے شیڈو اس میں داخل نہیں ہوئے یہ محض ادعاء ہے

    اگر وقت ہوتا تو بیسیوں مثالیں پیش کرتا کہ کس طرح خواص کے یہاں نئے معانی آئے ہیں اور پرانے محض لغات تک محدود ہیں

    عزیزم تواتر سے زبان کا آنا اور چیز ہے اور اس کے ہر لفظ کے تمام معانی کا اسی تواتر سے استعمال شے دیگر است

You must be logged in to reply.
Login | Register